ادارے کا لائبریریوں کے آڈٹ اور کتابوں کی خریداری کے لیے ایس او پی تیار کرنے اور متنازعہ مواد ہٹانے کا حکم
ایجنسیاں
جموں؍۱۵ جولائی
متنازعہ کتاب ’پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے‘میں مبینہ طور پر علیحدگی پسندوں اور ملک مخالف عناصر کی ستائش کیے جانے کے تنازع کے بعد جموں یونیورسٹی نے متعلقہ مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں بلیک لسٹ کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی یونیورسٹی کے تمام شعبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسی تمام کتابیں اور مطبوعات اپنی لائبریریوں، دفاتر اور ڈیجیٹل ذخائر سے فوری طور پر ہٹا دیں۔
جموں یونیورسٹی کی جانب سے جاری سرکاری سرکولر کے مطابق یہ فیصلہ محکمہ اسکولی تعلیم کے۴ جولائی۲۰۲۶ کے ایک حکم نامے کی تعمیل میں کیا گیا ہے، جس کے تحت مذکورہ مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کی تمام مطبوعات کو پورے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے واپس لینے کی ہدایت دی گئی تھی۔
سرکولر، جو تمام ریکٹروں، ڈائریکٹروں، شعبہ جات کے سربراہان اور دھنونتری لائبریری کے انچارج لائبریرین کو ارسال کیا گیا ہے، میں کہا گیا ہے کہ پابندی عائد کیے گئے مصنفین میں ہلال احمد، سنتوش مینا اور ڈاکٹر سشانت گیری شامل ہیں، جبکہ بلیک لسٹ کیے گئے ناشرین اوبیرائے بک سروس، جموں اور انوراگ پرکاشن، دہلی ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام شعبوں کو ہدایت دی ہے کہ مستقبل میں مذکورہ مصنفین یا ناشرین کی کوئی بھی کتاب یا دیگر مطبوعہ مواد ہرگز خریداری کے لیے منظور نہ کیا جائے۔
اس کے علاوہ تمام شعبوں، دفاتر، لائبریریوں اور ڈیجیٹل ذخائر میں موجود ایسی تمام کتابوں اور مطبوعات کی نشاندہی کرکے انہیں فوری طور پر ہٹانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ حکومتی احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
یونیورسٹی نے اپنے تمام تدریسی اور تعلیمی شعبوں کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ متعلقہ ڈپارٹمنٹل ایڈوائزری کمیٹیوں کے ذریعے ایک مؤثر جانچ کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ایسی کوئی بھی کتاب، جریدہ، رسالہ یا دوسری اشاعت، جس میں ملک مخالف، علیحدگی پسند یا قابل اعتراض مواد موجود ہو، نہ تو خریدی جائے اور نہ ہی یونیورسٹی کے کسی تعلیمی یا انتظامی شعبے میں دستیاب رکھی جائے۔
اس مہم کے تحت یونیورسٹی کی تمام لائبریریوں، دفاتر اور ڈیجیٹل ذخائر کا جامع آڈٹ اور معائنہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ کہیں بھی ایسا متنازعہ مواد موجود نہیں ہے۔
تمام شعبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد اپنی عمل درآمد رپورٹ یونیورسٹی انتظامیہ کو پیش کریں۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق کتابوں اور دیگر تعلیمی مواد کی خریداری کے لیے ایک جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر بھی تیار کیا جائے گا، جس کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ایس او پی میں کتابوں کی سخت جانچ پڑتال کا نظام شامل ہوگا، جبکہ ماہرین تعلیم کے ایک پینل کے ذریعے وقتاً فوقتاً بے ترتیب بنیادوں پر اشاعتوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کوئی قابل اعتراض مواد یونیورسٹی کی لائبریریوں یا ڈیجیٹل ذخائر تک نہ پہنچ سکے۔
جموں یونیورسٹی کی یہ کارروائی متنازعہ کتاب ’پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے‘ سے متعلق جاری تحقیقات کے دوران سامنے آئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کے انسدادِ انٹیلی جنس (سی آئی ڈی) ونگ نے اس کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں پہلے ہی جموں اور دہلی سے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں جموں کے ناشر اندرپال، دہلی کے پرنٹر امردیپ سنگھ اور گریش اروڑا شامل ہیں، جن پر کتاب کے لیے مواد فراہم کرنے کا الزام ہے۔
کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ الزام ہے کہ اس کتاب میں جموں و کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں اور علیحدگی پسند عناصر کی تعریف و تمجید کی گئی ہے۔ تحقیقات کے سلسلے میں اس سے قبل جموں اور نوئیڈا میں بھی تلاشی کارروائیاں انجام دی جا چکی ہیں۔
ادھر، محکمہ اسکولی تعلیم جموں نے تمام سرکاری و نجی اسکولوں اور کوچنگ اداروں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی کلاسوں، اسٹاف رومز، دفاتر اور لائبریریوں میں موجود تمام کتابوں کا جامع جائزہ لیں تاکہ کسی بھی اشاعت میں قابل اعتراض یا نامناسب مواد موجود نہ ہو۔
اس تنازع کے بعد جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل، ایک کنٹریکچول ملازم کو برطرف اور دو متنازعہ کتابوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا تھا، جن میں انتظامیہ کے مطابق ’انتہائی نامناسب مواد‘ شامل تھا۔
اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، کانگریس، جموں و کشمیر پیپلز فورم سمیت متعدد سیاسی اور سماجی تنظیموں نے بھی سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس اشاعت میں علیحدگی پسندی کو فروغ دیا گیا ہے۔










