تحقیق کے مطابق صرف ایک موسمِ سرما میں ہماچل پردیش کے لیک ہمپٹا علاقے میں برف باری کا تخمینہ۳۷ فیصد کم لگایا گیا تھا
(ندائے مشرق ڈیسک )
سرینگر؍۱۵جولائی
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف ایک موسمِ سرما کے دوران ہمالیہ میں برف باری کے دستیاب بہترین سابقہ تجزیوں نے ہماچل پردیش کے لیک ہمپٹا علاقے میں مجموعی موسمی برف باری کا تخمینہ۳۷ فیصد کم لگایا تھا۔
برطانوی انٹارکٹک سروے‘ برطانیہ کے محکمہ موسمیات اور انڈین انسٹی آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کھڑگ پور کے محققین سمیت سائنس دانوں نے کہا ہے کہ ہمالیہ میں برف باری کا حساب کئی برسوں سے درست انداز میں نہیں لگایا جا رہا تھا، جبکہ یہ نئی تحقیق مغربی و وسطی ہمالیہ میں برف باری کے بہتر اور زیادہ درست اندازے فراہم کرتی ہے۔
محققین کے مطابق برف باری تازہ پانی کا ایک نہایت اہم ذریعہ اور زمینی آبی نظام کا بنیادی جزو ہے، تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پیچیدہ جغرافیائی ساخت کے باعث اس کی درست پیمائش انتہائی مشکل ہوتی ہے۔
’منتھلی ویدر ریویو‘ نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں اس مشکل کا حل یہ نکالا گیا کہ بلند پہاڑی علاقوں میں واقع منجمد جھیلوں کو قدرتی دباؤ پیما کے طور پر استعمال کیا گیا، تاکہ مغربی و وسطی ہمالیہ سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں برف باری کی نگرانی کی جا سکے۔
تحقیقی ٹیم نے تین جھیلوں ‘مغربی ہمالیہ میں واقع گھیپن اور ہمپٹا جبکہ نیپال میں موگو ‘میں بازار میں دستیاب پانی کے دباؤ ناپنے والے آلات نصب کیے۔
برطانوی انٹارکٹک سروے سے وابستہ پہاڑی موسمیات کے سائنس دان اور تحقیق کے مصنف سدھارتھ گمبر نے ’دی کنورسیشن‘ میں شائع اپنے مضمون میں بتایا کہ’’روایتی آلات کے برعکس یہ سینسر پوری جھیل کی سطح، جو ہزاروں سے لے کر اربوں مربع میٹر تک پھیلی ہوتی ہے، کو محسوس کرتے ہیں، جس سے برف باری کے وقت اور شدت کی پیمائش ممکن ہو جاتی ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ آرکی میڈیز کے اصولِ نقل مکانی کی بنیاد پر یہ آلات جھیل کے پانی کے دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے جمع ہونے والی برف کے وزن کو براہِ راست ناپتے ہیں، جس سے برف باری کا درست اور غیر جانبدار تخمینہ حاصل ہوتا ہے۔
تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ یہ ماڈل عمومی طور پر نہ صرف یہ درست انداز میں بتا سکتا ہے کہ برف کب باری، بلکہ یہ بھی کہ کتنی مقدار میں برف جمع ہوئی۔ خاص طور پر شدید برف باری کے واقعات کی درست نمائندگی میں یہ ماڈل انتہائی مؤثر ثابت ہوا۔
تحقیق میں مصنفین نے لکھا’’نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ماڈل برف باری کے مشاہدات کے وقت اور مقدار، دونوں کی درست انداز میں نقل کر سکتا ہے اور طویل المدتی برف باری کے ریکارڈ تیار کرنے کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔
سدھارتھ گمبر کے مطابق یہ جاننا کہ برف کب گرتی ہے، برف پگھلنے کے عمل اور دریاؤں میں بہنے والے پانی کی مقدار کی پیش گوئی کے لیے انتہائی اہم ہے، جس سے مقامی آبادی اور پالیسی سازوں کو مستقبل میں پانی کی قلت سے نمٹنے کی بہتر منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اب وقت آ گیا ہے کہ پہاڑی علاقوں سے حاصل ہونے والے آبی وسائل پر انحصار کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، کیونکہ اس خطے میں پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے، تاہم پہاڑ کتنی مقدار میں پانی فراہم کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ اس میں کس طرح تبدیلی آ رہی ہے، اس بارے میں اب بھی خاصی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
سدھارتھ گمبر نے کہا’’آبی وسائل کے مستقبل کی درست پیش گوئی کے لیے برف باری کی معیاری اور درست پیمائش آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے، جبکہ اب تک ایسی قابلِ اعتماد پیمائشیں دستیاب نہیں تھیں۔‘‘










