جمعرات, جولائی 16, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-16
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج نے ایک بار پھر اس حقیقت کو دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا ہے کہ اسلام آباد کا جموں و کشمیر کے بارے میں برسوں سے قائم کیا گیا بیانیہ کس قدر تضادات اور دوہرے معیار پر مبنی ہے۔

جو ملک خود کو کشمیریوں کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار قرار دیتا رہا، آج اسی کے زیرِقبضہ علاقے میں عوام اپنے بنیادی حقوق، روزگار، تعلیم، صحت، مقامی وسائل پر اختیار اور انتظامی انصاف کے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں، جبکہ ان مطالبات کا جواب مذاکرات، اصلاحات اور عوامی رابطے کے بجائے طاقت، گرفتاریاں، تشدد اور سخت کارروائی کی صورت میں دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

ریاستی درجے کی بحالی:

اطلاعات کے مطابق کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ جھڑپوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، متعدد افراد زخمی ہوئے اور علاقے میں اضافی سیکورٹی فورسز تعینات کر دی گئیں۔ یہ صورتِ حال اس امر کی غماز ہے کہ وہاں کے عوام کے اندر بے چینی محض وقتی نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہونے والی محرومیوں اور احساسِ ناانصافی کا نتیجہ ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ مظاہرین کے مطالبات کا بغور جائزہ لیا جائے تو ان میں کوئی غیر آئینی یا غیر جمہوری مطالبہ دکھائی نہیں دیتا۔ بہتر تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات، روزگار، مقامی وسائل پر مقامی آبادی کا حق، کرپشن کا خاتمہ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، ترقیاتی فنڈز میں انصاف، عدالتی اور انتظامی اصلاحات، ماحول دوست ترقیاتی منصوبے، مزدوروں کے حقوق، معذور افراد کی فلاح اور عوامی نمائندگی جیسے مطالبات ہر مہذب اور جمہوری معاشرے میں بنیادی عوامی حقوق تصور کیے جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مطالبات کو سنجیدگی سے سننے اور ان کا حل تلاش کرنے کے بجائے ریاستی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا دیرینہ بیانیہ شدید سوالات کی زد میں آ جاتا ہے۔ اسلام آباد کئی دہائیوں سے بین الاقوامی فورمز پر جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کا ذکر کرتا آیا ہے، لیکن جب اپنے زیرِ قبضہ علاقے کے شہری انہی بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کے ساتھ سختی، طاقت اور جبر کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف پاکستان کے موقف کو کمزور کرتا ہے بلکہ عالمی برادری کے سامنے اس کے دعوؤں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی اسی تناظر میں کہا ہے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں جاری احتجاج دہائیوں پر محیط مبینہ استحصال، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ وہاں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پاکستان کا احتساب کرے۔ اگرچہ بین الاقوامی برادری کو کسی بھی تنازعے میں تمام دعوؤں اور الزامات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں، ان پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

آج دنیا پہلے سے کہیں زیادہ باخبر ہے۔ اطلاعات کی تیز تر ترسیل اور ڈیجیٹل ذرائع نے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ کسی بھی خطے میں ہونے والے واقعات زیادہ دیر تک پردۂ اخفا میں نہیں رہ سکتے۔ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر سے سامنے آنے والی اطلاعات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ وہاں کے عوام اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ ایسے میں طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید بے چینی اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی مسائل کا جواب لاٹھی، گرفتاری یا طاقت نہیں بلکہ مکالمہ، شفاف طرزِ حکمرانی، آئینی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ اگر وہاں کے شہری ترقی، انصاف، روزگار اور بنیادی سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان مطالبات کو دشمنی یا بغاوت کے بجائے عوامی توقعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اس ساری صورتحال نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کا نام نہاد اخلاقی مؤقف اور بیانیہ پہلے جیسی کشش اور اعتبار نہیں رکھتا۔ جب ایک ریاست اپنے زیرِ قبضہ لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام دکھائی دے، تو دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دینا یقیناً کمزور دلیل بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا دوہرا معیار آج پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھے۔ انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور پرامن احتجاج کے عالمی اصول کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ جہاں بھی عوام اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کریں، ان کی سلامتی، آزادیِ اظہار اور جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ امید کی جانی چاہیے کہ بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر غیر جانب دارانہ توجہ دیں گی، حقائق کا جائزہ لیں گی اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی کہ وہاں کے عوام کے ساتھ انصاف ہو، ان کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کیا جائے۔ یہی رویہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور عوامی اعتماد کی بنیاد بن سکتا ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

جناب! غصہ تھوک دیجئے

Next Post

ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

صحافت صرف کیمرہ اور مائیک کا نام نہیں

2026-07-03
Next Post
ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف

ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.