نامکمل وعدوں کی قیمت ٹھیکہ دار کیوں ادا کریں؟
جل جیون مشن(جے جے ایم)کا آغاز ملک کے دیہی علاقوں میں ہر گھر تک نل کے ذریعے صاف پینے کا پانی پہنچانے کے عظیم مقصد کے ساتھ کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ نہ صرف بنیادی سہولیات کی فراہمی بلکہ دیہی زندگی میں ایک مثبت انقلاب کا استعارہ قرار دیا گیا۔ جموں و کشمیر میں بھی اس اسکیم کے تحت ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبے شروع کیے گئے اور دور دراز علاقوں تک پانی کی فراہمی کے لیے وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا۔ لیکن افسوس کہ آج یہی منصوبہ ترقی کی علامت کے بجائے ہزاروں ٹھیکہ داروں، سپلائروں اور مزدوروں کے لیے شدید مالی بحران اور ذہنی اذیت کا سبب بن چکا ہے۔
حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت کی جانب سے جے جے ایم پارٹ دوم کے تحت ۱۴۰۰ کروڑ روپے کی منظوری اور اس میں سے پہلی قسط کے طور پر ۳۵۰ کروڑ روپے جاری کرنے کا فیصلہ یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مرکز اس اہم منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ تاہم اس اعلان کے ساتھ ایک ایسی شرط بھی وابستہ ہے جس نے جموں و کشمیر کے ہزاروں ٹھیکہ داروں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ یہ رقم صرف نئے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، جبکہ گزشتہ برسوں میں مکمل یا تقریباً مکمل کیے گئے کاموں کے عوض واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے بارے میں کوئی وضاحت یا یقین دہانی نہیں دی گئی۔
یہی اس پورے معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل بلاشبہ ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ جن لوگوں نے حکومت کے اعتماد پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی، بینکوں سے قرضے لیے، سامان خریدا، مزدوروں کو روزگار دیا اور مشکل حالات میں منصوبوں کو آگے بڑھایا، ان کی جائز ادائیگیاں بروقت کی جائیں۔ اگر ماضی کی ذمہ داریاں ادا کیے بغیر نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے تو اس سے نہ صرف ٹھیکہ داروں کا اعتماد مجروح ہوگا بلکہ مستقبل میں کوئی بھی سنجیدہ سرمایہ کار ایسے منصوبوں میں حصہ لینے سے گریز کرے گا۔
سرکاری اعداد و شمار خود اس بحران کی سنگینی بیان کرتے ہیں۔ صرف محکمہ جل شکتی میں ہی ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد کی واجبات رکی ہوئی ہیں، جن میں تقریباً ۷۰۰ کروڑ روپے جموں اور ۳۸۰ کروڑ روپے کشمیر کے ٹھیکہ داروں کے ہیں۔ دیگر محکموں کی ذمہ داریاں اس کے علاوہ ہیں۔ ان رقوم کی عدم ادائیگی نے ہزاروں خاندانوں کی معاشی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ متعدد ٹھیکہ دار بینکوں کے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے سے قاصر ہیں، سود روز بروز بڑھ رہا ہے، سپلائر اپنی ادائیگیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کئی کئی ماہ سے اپنی محنت کی کمائی کے منتظر ہیں۔
مرکزی حکومت کا یہ مؤقف اپنی جگہ قابل فہم ہے کہ منصوبوں کی تکمیل اور ہر گھر تک پانی کی فراہمی کے بعد ہی مکمل ادائیگی کی جائے، لیکن زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ جب تقریباً اسی فیصد کام مکمل ہو چکا ہو اور باقی کام صرف فنڈز کی کمی کی وجہ سے رکا ہو تو ایسی صورت میں ادائیگی روک دینا خود منصوبے کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ٹھیکہ داروں کے پاس مزید سرمایہ نہیں، بینک مزید قرض دینے سے گریزاں ہیں، ایسے میں وہ بقیہ کام کیسے مکمل کریں؟ یوں ایک ایسا شیطانی چکر وجود میں آ گیا ہے جس میں نہ منصوبے مکمل ہو رہے ہیں اور نہ ہی واجبات ادا ہو رہے ہیں۔
جموں و کشمیر کی حکومت بھی اس صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اگرچہ جے جے ایم ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے اور فنڈز کی فراہمی بنیادی طور پر مرکز کی ذمہ داری ہے، لیکن عوام اور ٹھیکہ داروں کے سامنے جوابدہی مقامی حکومت کی بھی بنتی ہے۔ وزیر جل شکتی نے اسمبلی میں واضح طور پر کہا تھاکہ موجودہ حکومت کو گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران مرکز سے ایک روپیہ بھی موصول نہیں ہوا، مگر اس بیان سے متاثرہ ٹھیکہ داروں کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہیں نہ فنڈز کے ذرائع سے غرض ہے اور نہ سرکاری خط و کتابت سے؛ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ان کی جائز محنت کی کمائی انہیں واپس دی جائے۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ جے جے ایم پارٹ دوم کے تحت نئے منصوبوں پر کام شروع ہوگا، کیونکہ دیہی علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی آج بھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ماضی کے واجبات ادا نہیں کیے جائیں گے تو نئے منصوبوں کے لیے مطلوبہ اعتماد، رفتار اور معیار حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف نئی اسکیمیں شروع کرنے کا نام نہیں بلکہ پہلے سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل بھی اچھی حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی حکومت، جموں و کشمیر حکومت اور ٹھیکہ داروں کے نمائندے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ ایسے منصوبوں میں جہاں کام کی بڑی مقدار مکمل ہو چکی ہے، وہاں مرحلہ وار ادائیگی کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے تاکہ ٹھیکہ دار باقی کام بھی مکمل کر سکیں اور ان پر بڑھتا ہوا مالی دباؤ بھی کم ہو۔ اسی کے ساتھ پرانے واجبات کی ادائیگی کے لیے ایک واضح ٹائم لائن بھی جاری کی جانی چاہیے تاکہ متاثرین کو کم از کم یہ یقین ہو کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اس مسئلے کو صرف مالیاتی معاملہ نہ سمجھے بلکہ اسے ایک وسیع معاشی بحران کے طور پر دیکھے۔ جب ہزاروں کروڑ روپے مارکیٹ میں گردش نہیں کریں گے تو اس کا اثر صرف چند ٹھیکہ داروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مقامی معیشت، کاروبار، روزگار اور بینکاری نظام پر بھی پڑے گا۔ تعمیراتی شعبے کی رفتار سست ہوگی، نئے سرمایہ کار پیچھے ہٹیں گے اور ترقیاتی منصوبوں پر عوام کا اعتماد بھی کمزور پڑے گا۔
مرکزی حکومت کی جانب سے ۳۵۰ کروڑ روپے کی پہلی قسط جاری کرنے کا فیصلہ یقیناً مثبت ہے اور اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماضی کے بقایاجات کو نظر انداز کرنا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج جن نئے منصوبوں کی بات کی جا رہی ہے، ان کی بنیاد انہی ٹھیکہ داروں نے رکھی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے اپنی جائز ادائیگی کے منتظر ہیں۔
صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اس خاموش بحران کو سنجیدگی سے لے۔ اگر واقعی جل جیون مشن کو عوامی فلاح کا کامیاب نمونہ بنانا ہے تو صرف نئے منصوبوں کے لیے فنڈ جاری کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ ان لوگوں کا حق بھی ادا کرنا ہوگا جنہوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی جمع پونجی، اپنی محنت اور اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ ترقی کا سفر اسی وقت پائیدار اور قابلِ اعتماد بن سکتا ہے جب حکومت نئے وعدوں کے ساتھ ساتھ پرانے وعدوں کی بھی مکمل پاسداری کرے۔ یہی انصاف کا تقاضا ہے، یہی اچھی حکمرانی کی پہچان ہے اور یہی جموں و کشمیر کے ہزاروں متاثرہ ٹھیکہ داروں اور مزدوروں کی جائز امید بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔



