حیدر پورہ کے ایک نجی آئی وی ایف مرکز میں بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والی پینتیس سالہ خاتون حنیفہ کی موت نے نہ صرف ایک خاندان کو ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچایا ہے بلکہ وادی کشمیر میں نجی طبی اداروں کی نگرانی، جوابدہی اور قانونی نظام پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے میں یہ تصور ہی لرزہ خیز ہے کہ ایک خاتون مکمل صحت کے ساتھ علاج کے لیے کسی طبی مرکز میں داخل ہو اور چند گھنٹوں بعد اس کی لاش گھر واپس پہنچے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں ایسے انکشافات سامنے آ رہے ہیں جن سے معاملہ محض ایک مبینہ طبی غفلت تک محدود نہیں رہتا بلکہ انتظامی نگرانی کے پورے نظام کی کمزوری بھی بے نقاب ہوتی ہے۔
اس واقعے کے فوراً بعد متوفیہ کے اہل خانہ نے جو الزامات عائد کیے، ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونا ناگزیر ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ بے ہوشی کی دوا دینے کے بعد مریضہ کی حالت بگڑ گئی، انہیں اصل صورت حال سے بے خبر رکھا گیا اور بعد میں دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، جہاں ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر بتایا کہ مریضہ پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔ یہ تمام دعوے اپنی جگہ تحقیقات کے محتاج ہیں، لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ اس سانحے نے عوام کے ذہنوں میں اعتماد کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ فکر انگیز پہلو وہ ہے جو محکمۂ صحت کی ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعلقہ آئی وی ایف مرکز کے بارے میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ مطلوبہ قانونی تقاضوں اور رجسٹریشن کے بغیر کام کر رہا تھا۔ بعد ازاں مزید تحقیقات میں غیر مجاز الٹراساؤنڈ مشین کی موجودگی، پی سی این ڈی ٹی ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزی، زیر تعمیر عمارت میں طبی سرگرمیوں کا انعقاد اور دیگر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، یہاں تک کہ متعلقہ حکام نے ایف آئی آر درج کرنے اور مجرمانہ تحقیقات کی سفارش بھی کی ہے۔ اگر یہ تمام حقائق تحقیقات میں ثابت ہو جاتے ہیں تو پھر سوال صرف ایک ڈاکٹر یا ایک مرکز کا نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے نظام کی ناکامی کی علامت ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک طبی ادارہ قانونی منظوری کے بغیر یا مطلوبہ معیار پورا کیے بغیر کام کر رہا تھا تو اسے اجازت کس نے دی؟ متعلقہ محکموں نے اس کی رجسٹریشن، انفراسٹرکچر، ایمرجنسی سہولیات، اینستھیزیا کے انتظام، آپریشن تھیٹر، تربیت یافتہ عملے اور حفاظتی معیارات کا جائزہ کب اور کیسے لیا؟ اگر معائنہ ہوا تھا تو کس بنیاد پر اسے قابلِ قبول قرار دیا گیا؟ اور اگر معائنہ نہیں ہوا تو ذمہ دار افسران نے اپنی قانونی ذمہ داری کیوں ادا نہیں کی؟
یہ معاملہ صرف ایک آئی وی ایف مرکز تک محدود نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وادی کشمیر میں نجی اسپتالوں، تشخیصی مراکز، کلینیکل لیبارٹریوں، الٹراساؤنڈ سینٹروں اور فرٹیلیٹی کلینکس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بلاشبہ جدید طبی سہولیات کی دستیابی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان مراکز کا معیار، قانونی حیثیت اور عوام کی جان و مال کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔ بدقسمتی سے زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی مقامات پر نجی طبی ادارے قائم تو ہو جاتے ہیں، مگر ان کی باقاعدہ نگرانی اور وقتاً فوقتاً جانچ کا مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات چند رسمی کارروائیوں یا مبینہ اثر و رسوخ کے ذریعے ایسے ادارے بھی کام شروع کر دیتے ہیں جو مطلوبہ تقاضے پورے نہیں کرتے۔ اگر واقعی ایسا ہو رہا ہے تو یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ طب کا شعبہ عام تجارت نہیں بلکہ ایسا پیشہ ہے جس میں معمولی سی کوتاہی بھی انسانی جان لے سکتی ہے۔ اس لیے یہاں کسی قسم کی رعایت، مصلحت یا لاپروائی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومتیں اکثر کسی سانحے کے بعد متحرک ہوتی ہیں۔ جب تک کوئی جان ضائع نہ ہو، کسی کی شکایت میڈیا کی سرخی نہ بن جائے یا عوامی احتجاج نہ ہو، متعلقہ ادارے خاموش رہتے ہیں۔ پھر اچانک معائنے شروع ہوتے ہیں، کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں، رپورٹیں طلب کی جاتی ہیں اور چند روز بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ اگر نگرانی کا یہی انداز برقرار رہا تو ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ بھی پیش آسکتے ہیں۔
آئی وی ایف علاج ایک نہایت حساس اور پیچیدہ طبی عمل ہے۔ اس میں جدید آلات، اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین، محفوظ اینستھیزیا، ایمرجنسی ریسپانس، آئی سی یو بیک اپ اور سخت قانونی ضابطوں کی پابندی ناگزیر ہوتی ہے۔ ایسے مراکز کو صرف کاروباری نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ انتہائی حساس طبی اداروں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کی منظوری، رجسٹریشن اور مسلسل نگرانی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہونی چاہیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس واقعے کو ایک انفرادی حادثہ سمجھ کر نظر انداز نہ کرے بلکہ اسے اصلاحِ نظام کا نقطۂ آغاز بنائے۔ وادی کشمیر میں قائم تمام آئی وی ایف مراکز، کلینیکل لیبارٹریوں، ڈائگناسٹک سینٹروں اور دیگر نجی طبی اداروں کا جامع آڈٹ کیا جائے۔ ان کی رجسٹریشن، لائسنس، عملے کی اہلیت، آلات کے معیار، ایمرجنسی سہولیات اور قانونی تقاضوں کی مکمل جانچ کی جائے۔ جو ادارے معیار پر پورا نہ اتریں، ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، خواہ ان کے مالکان کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ نگرانی کے ذمہ دار سرکاری اداروں کی کارکردگی کا بھی احتساب ہو۔ اگر کسی غیر رجسٹرڈ یا غیر معیاری مرکز کو برسوں تک کام کرنے دیا گیا تو صرف نجی ادارے ہی نہیں بلکہ متعلقہ نگران محکمے بھی جوابدہی سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے۔ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
حنیفہ اب اس دنیا میں واپس نہیں آسکتیں، لیکن ان کی موت رائیگاں نہیں جانی چاہیے۔ اگر اس سانحے کے نتیجے میں طبی نگرانی کا نظام مضبوط ہوتا ہے، غیر قانونی مراکز کے خلاف مؤثر کارروائی ہوتی ہے، قانون کی حکمرانی قائم ہوتی ہے اور مریضوں کی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے تو یہی ان کے ساتھ حقیقی انصاف ہوگا۔
ضرورت ایک شفاف، آزاد اور وقت مقررہ کے اندر مکمل ہونے والی تحقیقات کی ہے، جس میں نہ صرف موت کی اصل وجہ معلوم کی جائے بلکہ یہ بھی طے کیا جائے کہ اگر کسی مرحلے پر طبی غفلت، انتظامی لاپروائی یا قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دار کون ہیں۔ انصاف صرف قصوروار کو سزا دینے کا نام نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنے کا بھی نام ہے جہاں آئندہ کسی خاندان کو اپنے پیارے کی موت کے بعد یہ سوال نہ اٹھانا پڑے کہ علاج کے نام پر ان کے ساتھ کیا ہوا اور اس کا ذمہ دار کون تھا۔



