علیحدگی پسندی کی مبینہ ستائش پر مشتمل کتابوں کی منظوری اور خریداری پر کارروائی‘ مصنفین اور ناشرین بلیک لسٹ
ایل جی سنہا کا تحقیقات کا حکم ‘ایڈیشنل چیف سیکریٹری اشونی کمار کو تحقیقاتی افسر مقرر‘۳۰ دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کی
ویب ڈیسک
سرینگر؍۴ جولائی
جموں و کشمیر حکومت نے ہفتہ کے روز اسکولی تعلیم محکمہ (ایس ای ڈی) کے آٹھ افسران کو متنازعہ کتاب ’پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں اینڈ کشمیر‘ (سریز۴) کی منظوری اور خریداری کے معاملے میں فوری اثر سے معطل کر دیا۔ اس کتاب پر علیحدگی پسندی کی مبینہ ستائش پر مبنی مواد شامل ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ حکم جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایت پر جاری کیا گیا۔سرکاری حکم نامے کے مطابق اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب اسکولی تعلیم محکمہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور دیگر حلقوں کی شدید تنقید کے بعد سمگر شکشا پروگرام کے تحت سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں فراہم کی گئی دو متنازعہ کتابیں واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
حکومت کے ایک حکم نامے کے مطابق سریز۴سب کمیٹی کے ارکان اور متعلقہ نگران افسران نے کتابوں کی جانچ اور منظوری کے دوران ’سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ احتیاط نہ برتنے‘کا مظاہرہ کیا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ کتابوں میں علیحدگی پسندی سے متعلق ’انتہائی نامناسب مواد‘ شامل تھا، جس سے امن و قانون کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا تھا۔
محکمہ کے مطابق سمگر شکشا کو۱۸ ہزار۳۲۸ سرکاری اسکولوں اور۳۹۴ پی ایم شری اسکولوں کے لیے عمر کے لحاظ سے موزوں کتابوں کی خریداری کے واسطے لائبریری گرانٹ موصول ہوئی تھی، جس کے بعد اظہارِ دلچسپی جاری کیا گیا۔
اس مقصد کے لیے جموں اور کشمیر دونوں ڈویژنوں کے ماہرین تعلیم پر مشتمل چار ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں، جنہوں نے مختلف تعلیمی درجات کے لیے کتابوں کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کیں۔
حکم نامے کے مطابق ان کمیٹیوں نے۳۶۴ ناشرین کی جانب سے پیش کی گئی کتابوں میں سے۴۶۳ کتابوں کا انتخاب کیا۔تاہم بعد میں دو کتابوں میں قابل اعتراض مواد پائے جانے پر انہیں۳ جولائی کو محکمہ نے واپس لے لیا۔
یہ کتابیں ’پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں اینڈ کشمیر‘ ہیں، جس کے مصنفین ہلال احمد اور سنتوش مینا ہیں اور اسے اوبیرائے بک سروس، جموں نے شائع کیا، جبکہ دوسری کتاب ’گریٹ پرسنالٹیز آف جموں اینڈ کشمیر‘ ہے، جس کے مصنف ڈاکٹر سشانت گیری اور ناشر انوراگ پرکاشن، دہلی ہیں۔
حکم نامے کے مطابق پہلی کتاب کی۱۲۳ کاپیاں جموں، رام بن اور ادھم پور کے اسکولوں میں تقسیم کی گئی تھیں، جبکہ دوسری کتاب کی۱۲۸ کاپیاں جموں اور بارہمولہ اضلاع کے اسکولوں میں فراہم کی گئی تھیں، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔
اس معاملے کے بعد حکومت نے جموں و کشمیر سول سروسز (درجہ بندی، کنٹرول اور اپیل) قواعد۱۹۵۶کے رول۳۱(۱)(اے) کے تحت آٹھ افسران کو فوری اثر سے معطل کر دیا۔
معطل کیے گئے افسران میں سمگر شکشا کے لائبریری کوآرڈینیٹر فاضل عمران صدیقی، اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر گرجیت سنگھ، پرنسپل سنجیو شرما، اکیڈمک آفیسر شازیہ کوثر، لیکچرار امتیاز احمد میر، نرنجن شرما، رینو منگی اور راج موہنی شامل ہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ معطلی کے دوران یہ تمام افسران محکمہ اسکولی تعلیم کے انتظامی شعبے کے ساتھ منسلک رہیں گے۔حکومت نے سمگر شکشا میں لائبریری کوآرڈینیٹر کی معاونت کرنے والے کنٹریکچول کمپیوٹر اسسٹنٹ شیخ سہیل احمد کی خدمات بھی فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔
مزید برآں، حکومت نے محکمہ بجلی کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اشونی کمار کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا ہے، جبکہ جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ کے ایڈیشنل سیکریٹری روہت شرما کو پریزینٹنگ آفیسر نامزد کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ۳۰ دن کے اندر اپنی رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کریں۔حکم نامے کے مطابق حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور ناشرین کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
حکم میں کہا گیا ہے کہ ان مصنفین یا ناشرین کی تحریر کردہ یا شائع شدہ تمام مطبوعہ مواد کو بھی مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے واپس لیا جائے گا۔
اس سے پہلے جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں فراہم کی گئی ایک متنازعہ کتاب کو فوری طور پر واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے اس کی منظوری، خریداری اور تقسیم میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) نے الزام عائد کیا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں فراہم کی گئی ایک کتاب میں علیحدگی پسند رہنماؤں اور دہشت گردوں کو جموں و کشمیر کی ’عظیم شخصیات‘ اور ’نامور شخصیات‘کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اس معاملے نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ مذکورہ کتاب ملک مخالف بیانیے کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے کتاب کو فوری طور پر واپس لینے، اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور وزیر تعلیم کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔
حکومت کے اسکولی تعلیم محکمہ کے کمشنر سیکریٹری رام نواس شرما نے اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ کتاب کو تمام اسکولوں سے فوری اثر کے ساتھ واپس لے لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا’’کتاب واپس لے لی گئی ہے۔ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ کتاب کے تمام نسخے اسکولوں سے واپس منگوا لیے گئے ہیں اور اس کی اشاعت، منظوری، خریداری اور تقسیم میں شامل افراد کے خلاف باضابطہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
رام نواس شرما کے مطابق متنازعہ کتاب ’گریٹ پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز‘ کے عنوان سے جون۲۰۲۶ میں اسکولوں کو فراہم کی گئی تھی، جبکہ۳ جولائی۲۰۲۶کو اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
حکومت کا یہ اقدام اس کتاب کو اسکولوں کی لائبریریوں میں شامل کیے جانے پر وسیع پیمانے پر ہونے والی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور مختلف تنظیموں کا الزام ہے کہ کتاب میں قابل اعتراض اور مبینہ طور پر ملک مخالف مواد شامل ہے۔
ادھر، یہ خبر ارسال کیے جانے تک اسکولی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو سے اس معاملے پر رابطہ نہیں ہو سکا اور ان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔










