ایجنسیاں
نئی دہلی؍۴ جولائی
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس۲۰ جولائی سے۱۳ اگست تک منعقد ہوگا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے ہفتہ کے روز اس کا اعلان کیا۔
۲۵ دنوں پر مشتمل اس اجلاس میں مجموعی طور پر۱۹ نشستیں ہوں گی۔ یہ اجلاس مغربی بنگال، آسام اور پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابیوں کے بعد منعقد ہو رہا ہے۔
آئندہ اجلاس میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) میں بغاوت کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کی جانب سے ٹی ایم سی کے۲۰ اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے۶؍ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے خود کو الگ پارلیمانی گروپ کے طور پر تسلیم کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔
ادھر راجیہ سبھا میں نومنتخب اور دوبارہ منتخب ہونے والے ارکان کے حلف اٹھانے کے بعد ایوان بالا میں حکمران قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی عددی برتری مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
تین باغی ٹی ایم سی ارکانِ راجیہ سبھا پہلے ہی اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے چکے ہیں، جبکہ آئندہ ضمنی انتخابات کے بعد بی جے پی کی راجیہ سبھا میں مزید مضبوطی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
کرن ریجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت کی سفارش پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مانسون اجلاس طلب کیا ہے۔
مرکزی وزیر نے لکھا’’یہ اجلاس۲۰ جولائی۲۰۲۶ سے شروع ہوگا اور۱۳؍ اگست۲۰۲۶تک جاری رہے گا، جس میں قومی اہمیت کے معاملات پر بامعنی بحث، غور و خوض اور فیصلے کیے جائیں گے‘‘۔
گزشتہ پارلیمانی اجلاس حکومت کے لیے مایوس کن ثابت ہوا تھا، کیونکہ۲۰۲۹ سے قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے اور لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل ایوان زیریں میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔
ذرائع کے مطابق حکومت اب اس بل کو ازسرنو تیار کر رہی ہے، جس میں تمام ریاستوں کی لوک سبھا نشستوں میں یکساں طور پر۵۰فیصد اضافہ کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم آبادی کی بنیاد پر نشستوں میں اضافے کا معاملہ جنوبی ہند کی سیاسی جماعتوں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔










