ایجنسیاں
جموں؍۴جولائی
جموں و کشمیر کانگریس کے صدر ‘طارق حمید قرہ نے ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو ایک خط لکھ کر کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بٹ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور حملے کی کوشش کے واقعے کی مکمل تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
قرہ نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ فوری مداخلت کریں گے تاکہ اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد بحال ہو اور ’اتحاد دھرم‘ کے اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ بانڈی پورہ سے کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعہ کے روز ایک سرکاری جائزہ اجلاس کے دوران نیشنل کانفرنس کے ایک رکن اسمبلی کے بھائی اور ان کے حامیوں نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
رکن اسمبلی کے مطابق، سونہ واری کے ایم ایل اے ہلال اکبر لون کے بھائی جلال اکبر لون اور ان کے ساتھیوں نے بانڈی پورہ میں ترقیاتی کاموں اور فنڈز کے استعمال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی، اجلاس میں خلل ڈالا، ہال میں توڑ پھوڑ کی اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دیں۔
قرہ نے اس واقعے کو’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کی جانب سے کانگریس رکن اسمبلی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی جمہوری روایات سے سنگین انحراف ہے اور ’اتحاد دھرم‘ کی روح کے بھی منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا فطری حصہ ہیں، لیکن کسی بھی شخص کو دھمکانے یا اس کے ساتھ جسمانی تصادم کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔
کانگریسی لیڈرنے کہا’’یہ حقیقت کہ اس واقعے میں حکمران اتحاد کے ایک فریق سے وابستہ افراد ملوث بتائے جا رہے ہیں، معاملے کو مزید افسوسناک بنا دیتی ہے اور اتحادی جماعتوں کے درمیان باہمی احترام کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو لکھے گئے اپنے خط میں کانگریس صدر نے ان سے ذاتی طور پر مداخلت کرنے، غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنانے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں منتخب عوامی نمائندے پہلے ہی’دوہری انتظامی نگرانی‘ کے چیلنجنگ نظام کے تحت کام کر رہے ہیں، اس لیے تمام جمہوری قوتوں پر لازم ہے کہ وہ منتخب اداروں کے وقار کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں۔
قرہ نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ کی بروقت مداخلت سے اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد بحال ہوگا اور اتحاد دھرم کے اصولوں کو مضبوطی ملے گی۔انہوں نے خبردار کیا ’’اگر اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش آئے یا انہیں کسی بھی انداز میں درست قرار دینے کی کوشش کی گئی تو اس سے اتحاد کی ہموار کارکردگی اور جموں و کشمیر کے عوام کے دیے گئے جمہوری مینڈیٹ کیلئےناگزیر اعتماد اور خیرسگالی کو شدید نقصان پہنچے گا۔‘‘










