منگل, جون 23, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کانگریس کی دھڑہ بندی:

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-23
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

محض افراد کا مسئلہ نہیں، تنظیمی بحران کی علامت

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جانب سے جموں و کشمیر کانگریس کے معاملات کا جائزہ لینے اور پارٹی میں پائی جانے والی بد نظمی، اختلافات اور دھڑہ بندی کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک تین رکنی انضباطی کمیٹی کی تشکیل اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت اس وقت ایک گہرے تنظیمی بحران سے دوچار ہے۔ کمیٹی کی جانب سے سری نگر میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں، سابق وزراء، سابق ارکان اسمبلی اور دیگر عہدیداروں سے الگ الگ ملاقاتیں اور ان کے خیالات جاننے کا عمل محض جموں و کشمیر تک محدود معاملہ نہیں بلکہ اس بڑے مسئلے کی ایک کڑی ہے جس نے گزشتہ کئی برسوں سے کانگریس کو کمزور کر رکھا ہے۔

متعلقہ

پلاسٹک آلودگی کے خلاف سنجیدہ اقدام کی ضرورت

صحافت یا تشہیر؟

جموں و کشمیر میں کانگریس کی موجودہ صورت حال دراصل اس بیماری کی عکاس ہے جس کا سامنا پارٹی ملک کی تقریباً ہر ریاست میں کر رہی ہے۔ باہمی اختلافات، گروہ بندی، قیادت کی کشمکش، ذاتی مفادات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست نے کانگریس کی تنظیمی قوت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زمانے میں ملک کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت سمجھی جانے والی کانگریس آج کئی ریاستوں میں اپنے وجود کی بقا کی جدوجہد کر رہی ہے۔

جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے نتائج اس حقیقت کی واضح مثال ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے ساتھ انتخابی اتحاد کے باوجود کانگریس کو نوے رکنی اسمبلی میں صرف چھ نشستیں حاصل ہو سکیں۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے زیادہ حیران کن تھا کہ روایتی طور پر کانگریس کی بنیاد جموں خطے میں نسبتاً مضبوط سمجھی جاتی رہی ہے۔ لیکن انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ داخلی اختلافات اور قیادت کے درمیان عدم اعتماد نے پارٹی کی عوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ نتیجتاً وہ خطہ جہاں کانگریس ماضی میں مضبوط تھی، وہاں بھی عوام نے اس پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب کانگریس کو داخلی انتشار کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پارٹی تقریباً ہر اہم ریاست میں اسی قسم کے مسائل سے دوچار رہی ہے۔ راجستھان میں اشوک گہلوٹ اور سچن پائلٹ کے درمیان طویل رسہ کشی نے حکومت اور تنظیم دونوں کو نقصان پہنچایا۔ پنجاب میں کیپٹن امریندر سنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو کے اختلافات نے پارٹی کو اقتدار سے محروم کر دیا۔ کرناٹک میں بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر سدارمیا اور ڈی کے شیوکمار کے درمیان طاقت کا توازن مسلسل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ کیرالہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں بھی کانگریس کو کم و بیش اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ آخر کانگریس میں دھڑہ بندی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر کیوں موجود رہتا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ قیادت اور تنظیم کے درمیان رابطے کا فقدان ہے۔ جب کسی جماعت میں فیصلہ سازی کا عمل شفاف نہ ہو، کارکنوں اور درمیانی سطح کی قیادت کو مناسب نمائندگی نہ ملے اور سیاسی ترقی کے مواقع چند مخصوص افراد تک محدود ہو جائیں تو ناراضگیاں جنم لیتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی ناراضگیاں گروہوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور پھر جماعت کی اجتماعی طاقت کمزور پڑنے لگتی ہے۔

کانگریس کی موجودہ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف چند رہنماؤں کے خلاف تادیبی کارروائی کر دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگرچہ نظم و ضبط ہر سیاسی جماعت کے لیے ضروری ہے اور پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان بنیادی وجوہات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جو اختلافات کو جنم دیتی ہیں۔ جب تک تنظیمی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں کی جاتیں، کارکنوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور قیادت کے انتخاب کے عمل کو زیادہ شفاف نہیں بنایا جاتا، تب تک ایسے مسائل بار بار سامنے آتے رہیں گے۔

جموں و کشمیر کے تناظر میں یہ معاملہ اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ مرکز کے زیر انتظام اس خطے میں جلد ہی پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں۔ اگر کانگریس ان انتخابات میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ عوام ان جماعتوں پر اعتماد کرتے ہیں جو خود منظم اور متحد ہوں۔ جو جماعت اپنے اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکے، اس سے عوام یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ عوامی مسائل کا مؤثر حل پیش کر سکے گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کانگریس اس وقت قومی سطح پر ایک مضبوط متبادل سیاسی قوت بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک میں جمہوری سیاست کی صحت کے لیے ایک مضبوط اپوزیشن ناگزیر ہے، لیکن اپوزیشن کا کردار صرف حکومت پر تنقید کرنے سے ادا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جماعت خود کو ایک منظم، باصلاحیت اور متبادل حکمرانی کی اہل قوت کے طور پر پیش کرے۔ اگر پارٹی کے اندرونی اختلافات ہی سرخیوں میں رہیں گے تو عوام کی توجہ اس کے سیاسی ایجنڈے اور پالیسیوں سے ہٹ جائے گی۔

سری نگر میں موجود انضباطی کمیٹی کی سفارشات یقیناً اہم ہوں گی اور ممکن ہے کہ کچھ رہنماؤں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں آئے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ مشق محض احتساب تک محدود نہ رہے بلکہ تنظیمی اصلاحات کا آغاز بھی بنے۔ پارٹی کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں اختلاف رائے کو بغاوت نہ سمجھا جائے لیکن نظم و ضبط کی حدود بھی واضح ہوں۔ جہاں کارکنوں کو ترقی کے مساوی مواقع ملیں اور قیادت کے فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جائیں۔

کانگریس کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر وہ واقعی مستقبل میں ملک کی سیاست میں ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ بیرونی چیلنجز کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب اندرونی کمزوریاں دور کی جائیں۔ جموں و کشمیر میں جاری یہ مشاورتی عمل اگر سنجیدگی اور دیانت داری سے انجام پایا تو نہ صرف مقامی یونٹ بلکہ پوری جماعت کے لیے ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر چند افراد کے خلاف کارروائی کے بعد بھی مسئلہ جوں کا توں رہے گا اور کانگریس بدستور اسی بحران کا شکار رہے گی جس نے اسے گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی طور پر کمزور کر رکھا ہے۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سرینگر میں موسلادھار بارشیں اور ژالہ باری

Next Post

خواجہ آصف پرجنگ کا جنون

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پلاسٹک آلودگی کے خلاف سنجیدہ اقدام کی ضرورت

2026-06-21
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

صحافت یا تشہیر؟

2026-06-20
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کھانسی کے سرپ پر نسخے کی شرط:

2026-06-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پانی، دہشت گردی اور قومی سلامتی

2026-06-14
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

سیاحت اورسرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش

2026-06-13
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر میں بڑھتا بحران:

2026-06-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

زوجیلا سرنگ میں تاریخی بریک تھرو

2026-06-10
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عوام انڈیا بلاک کو کیوں سنجیدہ لیں؟

2026-06-09
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

خواجہ آصف پرجنگ کا جنون

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.