کچھ ماہ پہلےامریکی صدر‘ ڈونالڈ ٹرمپ نے محکمہ دفاع کا نام تبدیل کرکے اسے محکمہ جنگ رکھا۔یہ ایک کام ٹرمپ صاحب نے صحیح کیا اور اس لئے کیا کہ …….کہ امریکہ کے سر پر ہمیشہ جنگ کا جنون سوار رہتا ہےاور یہ جنگ کر بھی لیتا ہے …….اس لئے ٹرمپ صاحب کا نام تبدیل کرنا صحیح قدم تھا اور سو فیصد تھا۔ایک اور ملک کو اپنی وزارت دفاع کا نام بدل کر امریکہ کے نقش قدموں پر چلتے ہوئے اسے وزارت جنگ رکھنا چاہئے ۔اس لئے نہیں کہ اس ملک پر بھی جنگ کا جنون سوار رہتا ہے ……. بلکہ اس لئے کہ اس ملک کے وزیر دفاع‘ پر ضرور رہتا ہے……. جنگ کا جنون۔ خواجہ آصف بات بات اور ہر بات میں جنگ کی بات کرتے ہیں کبھی بھارت کے ساتھ جنگ تو کبھی افغانستان کے ساتھ ۔ اب کی با ر بھی انہوں نے بھارت سے پانی روکنے پر جنگ کی دھمکی دی ہے اور سو فیصد دی ہے ۔ہمارا بھی ماننا ہے کہ خواجہ آصف کے ملک کو جنگ کرنی چاہئے کیونکہ یہ اس کی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ……. لیکن یہ جنگ بھارت یا کسی اور ہمسایہ ملک کےخلاف نہیں کرنی ہے ……. بلکہ پاکستان کی ان بیماریوں ‘ کوتاہیوں اور محرومیاں کےخلاف لڑنی چاہئے جس سے یہ ملک جوجھ رہاہے ……. پاکستان کو غریبی ‘ بے روز گاری اور مہنگائی کےخلاف جنگ کا اعلان کرنا چاہئے ‘ توانائی کے اُس بحران کےخلاف اعلان جنگ کرنا چاہئے جس کا اس ملک کو سامنا رہتا ہے ……. ایران امریکہ جنگ سے پہلے بھی ‘ اس ودران اور اس کے بعد بھی رہے گا ۔خواجہ آصف کے ملک کو اس سوچ کےخلاف جنگ لڑنی چاہئے جس کے تحت ‘غیر مسلموں کو وہاں دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے ……. ان انسانی حقوق کی پامالیوں کےخلاف جنگ لڑنی چاہئے جن کا یہ ملک بلوچستان ‘ گلگت بلتستان اور مقبوضہ کشمیر میں مرتکب ہو رہا ہے ……. جب ان سب جنگوں سے پاکستان اور خواجہ آصف فارغ ہو جائیں گے ‘ ان میں فتح حاصل کریں گے ‘ ان سب کو شکست فاش دیں گے تو تب جا کے انہیں بھارت سے جنگ لڑنے کی بات کرنی چاہئے اور……. اور اگر انہیں سچ میں جنگ کا شوق بھی ہے تو……. تو طاقت آزمائی کرنی چاہئے کہ ہمیں امید سے زیادہ یقین ہے کہ انہیں مایوسی نہیں ہو گی کہ …….کہ ان کا یہ شوق پورا کرنے کیلئے یہاں بھی سب تیاریاں مکمل ہیں۔ہاں اس سے پہلے خواجہ آصف بھی اپنی ماتحت وزارت کا نام تبدیل کرکے وزارت جنگ رکھ دیں۔ ہے نا؟




