تاریخ کے بعض فیصلوں کی اہمیت کا تعین اس روز نہیں ہوتا جس روز وہ نافذ کیے جاتے ہیں، بلکہ وقت انہیں اپنی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ جذبات کی شدت کم ہونے لگتی ہے، سیاسی نعروں کی گونج مدھم پڑ جاتی ہے اور پھر سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ ان فیصلوں نے عوام کی زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی، کون سے خواب تعبیر ہوئے اور کون سی امیدیں ابھی تک منتظر ہیں۔
جموں و کشمیر کے حوالے سے ۵؍اگست ۲۰۱۹ کا فیصلہ بھی آج اسی مرحلے میں کھڑا ہے۔ سات برس گزرنے کے بعد اب شاید سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ اس پورے عرصے کا جائزہ سیاسی عینک سے نہیں بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں لیا جائے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ۵؍اگست کے فیصلوں پر سیاسی اختلاف آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ اس اختلاف کی اپنی بنیادیں ہیں اور اس پر مختلف حلقوں کی اپنی اپنی آراء بھی۔ لیکن اب جبکہ سات برس کا ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، تو ماضی کی بحثوں کو دہرانے کے بجائے اس دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں اور مستقبل کی ضروریات پر توجہ دینا زیادہ سودمند معلوم ہوتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوتا کہ ماضی میں کیا ہوا، بلکہ اس پر بھی ہوتا ہے کہ حال کو کس طرح بہتر بنایا جائے اور مستقبل کے لیے کون سی راہیں اختیار کی جائیں۔
گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر جس رفتار سے کام ہوا ہے، اسے نظر انداز کرنا قرینِ انصاف نہیں ہوگا۔ قومی شاہراہوں کی توسیع، نئی سرنگوں کی تعمیر، دیہی سڑکوں کا جال، بجلی کے منصوبے اور سب سے بڑھ کر ریل رابطے کی تکمیل کی جانب ہونے والی پیش رفت نے خطے کی معاشی تصویر بدلنے کی بنیاد رکھی ہے۔ کشمیر برسوں تک جغرافیائی دشواریوں کا شکار رہا۔ اگر آمد و رفت آسان ہوتی ہے تو اس کا فائدہ صرف مسافروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ تجارت، باغبانی، صنعت اور سیاحت سبھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔
کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی باغبانی ہے۔ لاکھوں افراد کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ بہتر شاہراہیں، جدید پیک ہاؤسز، کولڈ اسٹوریج کی سہولتیں اور ملک کی بڑی منڈیوں تک تیز تر رسائی اس شعبے کے لیے نئی امید پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح ریل رابطہ مکمل ہونے کے بعد اگر پھلوں اور دیگر زرعی مصنوعات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کسانوں اور باغبانوں کی آمدنی پر بھی مثبت اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ البتہ اس کے لیے محض بنیادی ڈھانچہ کافی نہیں، بلکہ بہتر مارکیٹنگ، جدید ذخیرہ اندوزی اور منڈیوں میں مناسب قیمت کی ضمانت بھی ناگزیر ہے۔
سیاحت کے شعبے نے بھی گزشتہ برسوں میں نئی رفتار حاصل کی ہے۔ لاکھوں سیاحوں کی آمد نے مقامی معیشت کو تقویت دی ہے۔ ہوٹلوں، ہاؤس بوٹس، ٹیکسی آپریٹروں، دستکاروں اور ہزاروں چھوٹے تاجروں کو اس سے فائدہ پہنچا ہے۔ اگر اس شعبے کو ماحول دوست منصوبہ بندی اور بہتر سہولتوں کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ جموں و کشمیر کی معیشت کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ سیاحت کا فروغ ماحولیات کے تحفظ اور مقامی ثقافت کے احترام کے ساتھ ہی پائیدار ثابت ہوگا۔
انتظامی سطح پر بھی کئی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نئے اداروں کا قیام، مختلف مرکزی اسکیموں کا نفاذ اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جن کے اثرات عوامی زندگی میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان اقدامات کی کامیابی کا اصل پیمانہ بہرحال یہی ہوگا کہ ان کے فوائد سماج کے آخری فرد تک کس حد تک پہنچتے ہیں اور ان سے عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوتی ہے۔
امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ابھی باقی ہے اور وقفے وقفے سے حملے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر عام شہری کی روزمرہ زندگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ معمول پر آئی ہے۔ بازار، تعلیمی ادارے، سیاحتی سرگرمیاں اور تجارتی سرگرمیاں زیادہ تسلسل کے ساتھ جاری رہتی ہیں، جو معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ کے فیصلے پر آج بھی سیاسی اختلاف موجود ہے۔ متعدد سیاسی جماعتیں اس اقدام کو آئینی اور سیاسی اعتبار سے درست نہیں سمجھتیں، جبکہ حکومت اور اس کے حامی اسے جموں و کشمیر کی ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں ایسے اختلافات فطری ہوتے ہیں، لیکن بالآخر کسی بھی فیصلے کی کامیابی کا اصل معیار عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری، روزگار کے مواقع، امن، انصاف اور ترقی ہی ہوتے ہیں۔
آج، سات برس بعد، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جموں و کشمیر ایک نئے دور کے سفر پر گامزن ہے۔ اس سفر میں کئی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، کچھ اہداف ابھی تشنۂ تکمیل ہیں اور بعض چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی کے اس عمل کو مزید تیز کیا جائے، نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے، صنعتوں کو فروغ دیا جائے، باغبانی، زراعت اور دستکاری جیسے روایتی شعبوں کو مضبوط بنایا جائے اور سیاسی عمل کو بھی مکمل استحکام کی طرف لے جایا جائے۔
۵؍اگست کی تاریخی اہمیت صرف ایک آئینی تبدیلی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اصل مفہوم اس وقت مکمل ہوگا جب جموں و کشمیر کا ہر شہری خود کو ترقی، امن، خوشحالی اور مساوی مواقع کا حقیقی حصہ محسوس کرے۔ اگر آئندہ برسوں میں یہی سمت برقرار رہی تو یہ دن تاریخ میں صرف ایک سیاسی فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے جموں و کشمیر کو ایک نئے اعتماد، نئی امید اور نئے امکانات سے روشناس کرایا۔
لیکن ترقی کا سفر صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے مکمل نہیں ہوتا۔ کسی بھی خطے کی حقیقی خوشحالی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب معاشی ترقی کے ساتھ عوامی اعتماد، مضبوط جمہوری ادارے اور سیاسی استحکام بھی موجود ہوں۔ ترقیاتی منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر ان کے ساتھ عوام کی سیاسی توقعات کو نظر انداز کر دیا جائے تو ترقی کا احساس ادھورا رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جموں و کشمیر کے مستقبل پر گفتگو میں ریاستی درجے کی بحالی کا سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔



