شدید بارشوں کے باعث شہر کے کئی علاقے زیر آب‘نائد کدل میں بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے پر۶۵سالہ خاتون کی موت
حالیہ کچھ دنوں میں وادی کے متعدد علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئےجو فلیش فلڈ کا باعث بن گئے
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر؍۲۲ جون
وادی کشمیر میں پیر کے روز ہونے والی موسلادھار بارش اور بعض علاقوں میں ژالہ باری نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا، جبکہ سری نگر کے نائد کدل علاقے میں ایک افسوسناک واقعے میں۶۵ سالہ خاتون کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئیں۔
سرکاری حکام کے مطابق سری نگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں دوپہر کے وقت شدید بارش ہوئی جس کے نتیجے میں دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور موسم خوشگوار ہو گیا۔ تاہم بارش کی شدت کے باعث سری نگر کے متعدد نشیبی علاقوں، خصوصاً پرانے شہر کے کئی محلوں میں پانی جمع ہو گیا اور بعض مقامات پر بارش کا پانی گھروں اور گلیوں میں داخل ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
حکام نے بتایا کہ سری نگر اور ضلع اننت ناگ کے بعض علاقوں میں ژالہ باری بھی ریکارڈ کی گئی، جس سے موسم میں مزید خنکی پیدا ہوئی۔ بارش کے بعد متعلقہ محکموں نے متاثرہ علاقوں میں پانی نکالنے (ڈی واٹرنگ) کا عمل شروع کر دیا تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔
دریں اثنا، شدید بارش کے دوران نائد کدل علاقے میں ایک المناک حادثہ پیش آیا جہاں ایک معمر خاتون بجلی کے کرنٹ کی زد میں آکر جان کی بازی ہار گئیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق خاتون بارش کے دوران ایک بجلی کے کھمبے کو چھونے کے باعث کرنٹ لگنے سے شدید زخمی ہوگئیں۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
متوفیہ کی شناخت شمیمہ مخدومی(۶۵) زوجہ غلام نبی، ساکن نائد کدل سری نگر کے طور پر ہوئی ہے۔
واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں نے بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں اور کھلی تاروں سے لاحق خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ متعلقہ محکموں سے بھی واقعے کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
بارش اور ژالہ باری کے تازہ سلسلے نے ایک طرف گرمی کی شدت میں کمی لا کر لوگوں کو راحت پہنچائی، تو دوسری جانب شہری علاقوں میں نکاسیٔ آب اور برقی سلامتی کے انتظامات پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران وادی کے مختلف علاقوں میں کم از کم چار کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) کے واقعات پیش آئے ہیں جن کے نتیجے میں اچانک سیلابی ریلے، زرعی زمینوں کو نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
اتوار کی دوپہر شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے کنڈی علاقے میں بھی اچانک بادل پھٹنے اور شدید بارش کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ تیز بارش کے باعث نالہ ننگلی، جو علاقے کی سب سے طویل آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی جس سے اس کے کناروں پر آباد درجنوں دیہات میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
مقامی باشندے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ پانی کی سطح میں مزید اضافہ رہائشی مکانات اور زرعی اراضی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ کئی علاقوں میں مٹی اور ملبے سے بھرپور پانی باغات اور نشیبی زمینوں میں داخل ہوگیا جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات موسمیاتی تبدیلیوں اور غیر متوقع موسمی پیٹرن کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں بہتر ڈرینیج نظام، قبل از وقت انتباہی نظام اور حساس علاقوں کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے تاکہ مستقبل میں جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
گزشتہ بدھ کی شام جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بیجبہاڑہ علاقے کے سرہامہ گاؤں میں پیش آیا جہاں بادل پھٹنے کے بعد پانی اور ملبے کے تیز ریلوں نے دھان کے کھیتوں اور سیب کے باغات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سیلابی پانی کے ساتھ آنے والی مٹی اور پتھروں نے زرعی اراضی کو متاثر کیا جبکہ مقامی لوگوں نے فوری طور پر مشینوں کی مدد سے بند آبی گزرگاہوں کو صاف کر کے مزید نقصان کو روکنے کی کوشش کی۔
علاقے کا دورہ کرنے کے بعد رکن اسمبلی سری گفوارہ،بیجبہاڑہ بشیر احمد شاہ (ویرو) نے کہا کہ چند باغات کو نقصان پہنچا ہے تاہم خوش قسمتی سے نقصان بہت زیادہ نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت اور محکمہ باغبانی کے افسران نقصان کا تخمینہ لگائیں گے جبکہ محکمہ دیہی ترقی متاثرہ باغات اور کھیتوں میں جمع مٹی کو ہٹانے کا کام کرے گا۔
سرہامہ کا واقعہ اس سے ایک روز قبل شمالی کشمیر میں پیش آنے والے دو کلاؤڈ برسٹ واقعات کے بعد سامنے آیا۔ منگل کی شام ضلع کپواڑہ کے لولاب علاقے کے درپورہ گاؤں میں بادل پھٹنے سے اچانک سیلابی ریلہ آیا جس سے سڑکوں پر پانی بھر گیا اور آمد و رفت متاثر ہوئی۔ سیلابی پانی نے قریبی کیگام گاؤں کو بھی متاثر کیا جہاں دھان کے کھیتوں اور آبپاشی نہروں کو نقصان پہنچا۔
اسی رات گریز کی تلیل وادی کے ترتئی کلو گاؤں میں بھی بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ سیلابی ریلے کے باعث ایک پل اور سڑکوں کے کئی حصے تباہ ہوگئے جبکہ متعدد مکانات میں پانی داخل ہونے کے بعد رہائشیوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا۔
اس سے قبل رواں ماہ اننت ناگ کے شانگس علاقے کے رانی پورہ، راکھی برہہ اور ناگ نارن دیہات میں بھی بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئے تھے جن سے دھان کے کھیتوں اور باغات کو نقصان پہنچا اور لوگوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا تھا۔
کشمیر میں پیش آنے والے یہ واقعات جموں خطے کے ریاسی، ڈوڈہ، کشتواڑ اور پونچھ اضلاع میں رواں ماہ رپورٹ ہونے والے کم از کم پانچ کلاؤڈ برسٹ واقعات کے بعد سامنے آئے ہیں جہاں سیلابی ریلوں، مٹی کے تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے مکانات، سڑکیں، زرعی زمینیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ برس بھی جموں خطے کے مختلف اضلاع میں اپریل سے ستمبر کے درمیان بادل پھٹنے اور اچانک سیلاب آنے کے متعدد واقعات پیش آئے تھے جن میں انسانی جانوں کا نقصان بھی ہوا اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی تھی۔










