سرینگر /۱۱؍اگست
رواں ماہ کے اوائل میں جموں و کشمیر پولیس کو اطلاع ملی کہ گاندربل ضلع میں منشیات کی ایک کھیپ بھیجی جا رہی ہے۔
یہ اطلاع اس لحاظ سے اہم تھی کہ پولیس کی جانب سے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے۔ مشتبہ منشیات فروشوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، ان کی املاک ضبط کی جا رہی ہیں اور بعض معاملات میں ان کے مکانات تک منہدم کیے گئے ہیں۔
پیکٹ کو روکنے کے بعد پولیس مطلوبہ وصول کنندہ کے گھر پہنچی۔ وہ ایک معمولی سا پولٹری فارمر تھا، جس کی چند ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ پارسل میں پولٹری فیڈ آنے کی توقع کر رہا تھا اور اسے اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ اس میں منشیات موجود ہیں۔
البتہ اس نے پولیس کو ایک اور اہم بات بتائی۔ رواں برس کے اوائل میں اسے سعودی عرب کے ایک نمبر سے فون آیا تھا، جس میں اسے اپنی شادی کا منصوبہ ترک کرنے سے خبردار کیا گیا تھا۔
پولیس نے اس کی اہلیہ سے پوچھ گچھ کی، جس کے نتیجے میں انہیں مبینہ ملزم تک پہنچنے میں مدد ملی۔ پولیس کے مطابق اس شخص کا نام طارق احمد صوفی ہے اور وہ سری نگر کے زینہ کوٹ علاقے کا رہنے والا ہے۔ پولیس کے مطابق صوفی، پولٹری فارمر کی اہلیہ کا سابق محبوب تھا اور اس نے اسے منشیات کے مقدمے میں پھنسا کر گرفتار کرانے کی سازش تیار کی تھی۔ صوفی کو ۹ اگست کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایک پولیس افسر نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ۸ اگست کو پولیس کو اطلاع ملی کہ جموں و کشمیر سے باہر سے منشیات پر مشتمل ایک پارسل بذریعہ کوریئر بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارسل کو گاندربل کے ڈاک خانے میں روک لیا گیا اور مجسٹریٹ کی موجودگی میں اسے کھولا گیا۔
پارسل میں منشیات کی ایک کھیپ موجود تھی، جس میں چار کلوگرام کوکین، ۸۰ گرام چرس اور کچھ نفسیاتی ادویات شامل تھیں۔
یہ پارسل اتر پردیش کے کانپور سے کوریئر کیا گیا تھا، جو یہاں سے تقریباً ۱۳۰۰ کلومیٹر دور ہے۔
پولٹری فارمر نے پولیس کو بتایا کہ بھیجنے والے نے اسے دھوکا دیا تھا۔ اس شخص نے واٹس ایپ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا تھا اور پولٹری فیڈ کے نمونے بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ فارمر نے تفتیش کاروں کو بھیجنے والے کا فون نمبر فراہم کیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ سعودی عرب کا موبائل نمبر تھا۔
ایک پولیس افسر کے مطابق فارمر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اسے اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کے ایک نمبر سے فون آیا تھا، جس میں اسے مذکورہ خاتون سے شادی کرنے سے خبردار کیا گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد تحقیقات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔
پولیس افسر نے کہا، ’’اس کے بعد ہم نے سازش کے پہلو اور اسے پھنسانے کی منصوبہ بندی پر غور شروع کیا۔‘‘
ملزم صوفی نے انکشاف کیا ہے کہ کانپور سے پارسل بھیجنے والا شخص، جس کی شناخت عریب کے طور پر ہوئی ہے، اس کا دوست تھا اور اسی کے اصرار پر اس نے پارسل روانہ کیا تھا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، ’’پارسل بھیجنے کا انتظام سب سے پہلے صوفی نے اپنے دوست کے ذریعے کیا اور اس کے بعد پولیس کو اطلاع بھی دی۔ چونکہ وہ محتاط تھا، اس لیے اس نے براہِ راست پولیس کو اطلاع نہیں دی بلکہ کچھ دوسرے لوگوں کے ذریعے یہ اطلاع پہنچائی۔‘‘
صوفی کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات ۸/۲۰ اور ۲۱ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق صوفی کا دوست عریب اگرچہ کانپور کا رہنے والا ہے، تاہم وہ کچھ عرصے سے سعودی عرب میں مقیم ہے۔
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ عریب نے پولٹری فارمر کو بھیجی جانے والی منشیات کا انتظام کس طرح کیا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ وہ یہ بھی معلوم کر رہے ہیں کہ عریب اس سازش سے واقف تھا یا نہیں۔
افسر نے کہا، ’’ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا صوفی نے یہاں سے پارسل بھیجنے کا انتظام کیا اور اپنے دوست سے اسے گاندربل کے پتے پر بھیجنے کے لیے کہا، یا اس کے دوست نے خود منشیات کا انتظام کیا۔ ہمیں ابھی یہ یقین سے معلوم نہیں کہ کانپور کا رہنے والا شخص پارسل کے اندر موجود اشیا کے بارے میں جانتا تھا یا نہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک )










