نئی دہلی؍ ۱۱ ؍اگست
صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے منگل کے روز ایک ایسے بل کو منظوری دے دی جس کے تحت قومی نغمے ’وندے ماترم‘ کی ادائیگی میں جان بوجھ کر خلل ڈالنے یا اسے روکنے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق اس اقدام کے بعد قومی نغمے کو وہی قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے جو فی الحال قومی ترانے ’جنا گنا من‘ کو حاصل ہے۔
صدر کی منظوری کے ساتھ ہی پریوینشن آف انسَلٹس ٹو نیشنل آنر (ترمیمی) ایکٹ، ۲۰۲۶ قانون بن گیا ہے۔
لوک سبھا نے اس بل کو ۳۰ جولائی کو منظور کیا تھا، جبکہ راجیہ سبھا نے ایک روز قبل اسے منظوری دے دی تھی۔اس قانون کے تحت ’وندے ماترم‘ کو قومی ترانے ’جنا گنا من‘ کے مساوی درجہ حاصل ہو گیا ہے۔
مرکزی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ پہلی مرتبہ یومِ آزادی کی تقریب کے موقع پر لال قلعے کی فصیل سے ’وندے ماترم‘ گایا جائے گا۔
اس سے قبل پریوینشن آف انسَلٹس ٹو نیشنل آنر ایکٹ میں قومی ترانے ’جنا گنا من‘ کی ادائیگی کو جان بوجھ کر روکنے یا اس اجتماع میں خلل ڈالنے سے متعلق جرم کی ممانعت تھی جہاں قومی ترانہ گایا جا رہا ہو۔
ان جرائم کے لیے تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا مقرر تھی، جبکہ دوسری اور اس کے بعد ہر سزا کی صورت میں کم از کم ایک سال قید کی سزا لازمی تھی۔سابقہ قانون میں قومی نغمے کو اسی نوعیت کا قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا۔
بل میں کہا گیا تھا، ’’فی الوقت ’وندے ماترم‘ کی ادائیگی کی توہین کو روکنے کے لیے کوئی مخصوص قانونی شق موجود نہیں ہے، حالانکہ اسے قومی نغمے کے طور پر عزت حاصل ہے۔ لہٰذا کسی شخص کو قومی نغمے کی ادائیگی کو جان بوجھ کر روکنے یا اس اجتماع میں خلل ڈالنے سے روکنے کے لیے مذکورہ ایکٹ کی دفعہ ۳ میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ہے، تاکہ قومی نغمے کو بھی اس کے دائرے میں شامل کیا جائے اور ایسے اقدامات کو قابلِ سزا بنایا جا سکے۔‘‘
بل میں مزید کہا گیا کہ ۲۴ جنوری ۱۹۵۰ کو دستور ساز اسمبلی کے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے کہا تھا کہ بنکم چندر چٹرجی کا تحریر کردہ گیت ’وندے ماترم‘، جس نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کیا، قومی ترانے ’جنا گنا من‘ کے مساوی طور پر قابلِ احترام ہوگا اور اسے اس کے برابر درجہ حاصل ہوگا۔
اس سال کے اوائل میں مرکزی وزارتِ داخلہ نے ہدایت دی تھی کہ جب قومی نغمہ اور قومی ترانہ ایک ساتھ پیش کیے جائیں تو پہلے ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بند گائے جائیں۔
۲۸ جنوری کو جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں وزارتِ داخلہ نے پہلی مرتبہ قومی نغمے کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ پروٹوکول جاری کرتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ اس کے چھ بند، جن کی مدت ۳ منٹ ۱۰ سیکنڈ ہے، صدر کی آمد، قومی پرچم لہرانے اور گورنروں کی تقاریر سمیت سرکاری تقریبات میں گائے جائیں۔
حکم نامے میں کہا گیا تھا، ’’جب قومی نغمہ اور قومی ترانہ گایا یا بجایا جائے تو پہلے قومی نغمہ گایا یا بجایا جائے گا۔‘‘حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جس اجتماع میں قومی نغمہ گایا جائے، وہاں موجود افراد توجہ کی حالت میں کھڑے رہیں گے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے اس حکم نامے میں متعدد دیگر ہدایات بھی شامل تھیں۔ اس کے مطابق تمام اسکولوں میں دن کے کام کا آغاز قومی نغمے کی اجتماعی ادائیگی سے کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










