سرینگر /۱۱؍اگست
پلوامہ پولیس نے مبینہ بھتہ خوری، دھمکانے اور کام میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایت پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پلوامہ کے ضلعی صدر انجینئر سید شوکت غیور اندرابی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد پارٹی نے انہیں تمام تنظیمی عہدوں اور ذمہ داریوں سے فوری طور پر معطل کردیا ہے۔
پولیس کے مطابق شوکت غیور کے خلاف ایک ایف آئی پولیس اسٹیشن پلوامہ میں ۱۰ ؍اگست کو درج کی گئی۔ ایف آئی آر ایک شخص محمد یاسین گنی ساکن سُتھسو بی کے پورہ، بڈگام کی شکایت پر درج کی گئی ہے، جو گوردوارہ پربندھک، برتھانہ کے لیے جاری کام کے سلسلے میں مٹی نکالنے اور اسے منتقل کرنے کا کام کر رہا تھا۔
شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا ہے کہ شوکت غیور مبینہ طور پر بار بار اس کے کام میں مداخلت کر رہے تھے، حالانکہ شکایت کنندہ کے مطابق اس کے پاس متعلقہ حکام کی جانب سے مٹی نکالنے اور اس کی نقل و حمل کی اجازت موجود تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر شکایت کنندہ سے پانچ لاکھ روپے طلب کیے اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں کام جاری رکھنے سے روکنے کی دھمکی دی۔
شکایت میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ۸ ؍اگست کو صبح تقریباً ۱۰ بج کر ۵۰ منٹ پر شوکت گیور پاری گام میں کام کی جگہ پہنچے اور اپنی ذاتی گاڑی شکایت کنندہ کی گاڑیوں کے آگے کھڑی کردی، جس کے باعث گاڑیوں کی نقل و حرکت مبینہ طور پر رک گئی۔
شکایت کنندہ کے مطابق اس کے بعد ملزم نے وہاں موجود ڈرائیوروں اور مزدوروں کو مبینہ طور پر گالیاں دیں اور دھمکایا، جبکہ اپنے موبائل فون سے ویڈیوز بھی بنائیں اور ان پر غیر قانونی کام کرنے کا الزام عائد کیا۔
شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ جب کارکنوں نے مبینہ رکاوٹ پر سوال اٹھایا تو انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت کارروائی کی دھمکی دی گئی۔ شکایت کنندہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے خلاف بھی بار بار پی ایس اے کے تحت کارروائی کرنے کی دھمکی دے کر مبینہ مالی مطالبات پورے کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
پولیس ریکارڈ میں شکایت کنندہ کی جانب سے یہ الزام بھی شامل ہے کہ مبینہ دباؤ کے تحت پہلے ہی ۵۴ ہزار روپے ادا کیے جاچکے ہیں۔ شکایت کے مطابق ۲۱ نومبر ۲۰۲۵ کو ۵۰ ہزار روپے جبکہ ۲۲ نومبر ۲۰۲۵ کو مزید چار ہزار روپے ادا کیے گئے تھے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں رضاکارانہ طور پر نہیں بلکہ مبینہ مسلسل دھمکیوں، ہراسانی اور کام میں رکاوٹ کے باعث کی گئیں۔
پولیس نے معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات ۱۲۶(۲)، ۳۵۱(۲)، ۳۰۸(۲) اور ۳۰۸(۳) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کیس کی تفتیش اسسٹنٹ سب انسپکٹر بشیر احمد ڈار کے سپرد کی گئی ہے۔
شکایت کنندہ نے پولیس سے مبینہ ادائیگیوں کی تصدیق، واقعے کے دوران موجود ڈرائیوروں اور مزدوروں کے بیانات قلمبند کرنے اور اس بات کی بھی تحقیقات کرنے کی درخواست کی ہے کہ آیا اسی نوعیت کے مالی مطالبات دوسرے افراد سے بھی کیے گئے تھے۔
دریں اثنا، بی جے پی جموں و کشمیر نے بھی شوکت غیور اندرابی کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرتے ہوئے انہیں پارٹی کے تمام تنظیمی عہدوں اور ذمہ داریوں سے فوری طور پر معطل کردیا ہے، جن میں پلوامہ کے ضلعی صدر کا عہدہ بھی شامل ہے۔
بی جے پی کے ریاستی جنرل سیکریٹری اور نیشنل کونسل رکن محمد انور خان کی جانب سے ۱۱ ؍اگست ۲۰۲۶ کو جاری معطلی کے حکم نامے کے مطابق یہ کارروائی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین ایڈووکیٹ سنیل سیٹھی کی سفارش پر اور بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر، رکن پارلیمنٹ ست شرما اور محمد انور خان کی مشاورت سے عمل میں لائی گئی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شوکت غیور اندرابی کے خلاف ان کے نام درج ایف آئی آر میں بھتہ خوری سے متعلق الزامات کے پیش نظر تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے۔
پارٹی نے واضح کیا ہے کہ تادیبی کارروائی مکمل ہونے تک شوکت غیور اندرابی بی جے پی کے کسی بھی تنظیمی عہدے یا ذمہ داری پر فائز نہیں رہیں گے اور انہیں پلوامہ کے ضلعی صدر کے عہدے سے بھی فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔
پارٹی نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ وہ عوامی زندگی میں نظم و ضبط، دیانت داری اور اخلاقی اقدار کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)










