سرینگر /۱۱؍اگست
ہندستان نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر محتاط اور متوازن ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندستان اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے پوری طرح سے پرعزم ہے اور اس سمت میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
مغربی ایشیا کی صورتحال کے بارے میں ہندستان نے کہا ہے کہ وہاں کے واقعات اور حالات پر اس کی گہری نظر ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز میڈیا بریفنگ میں اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندستان مغربی ایشیا کے تنازع کی پیشرفت پر مسلسل قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدے پر انہوں نے کہا’’جہاں تک اس معاہدے کا تعلق ہے، ہم ہندستان کی قومی سلامتی اور علاقائی امن و استحکام دونوں کے نقطہ نظر سے اس کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہندستان اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے پوری طرح سے پرعزم ہے اور اس سمت میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا‘‘۔
قابلِ ذکر ہے کہ تینوں ممالک نے سات اگست کو ایک سہ فریقی دفاعی معاہدے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔
اروناچل پردیش کے اپر سوبان سری ضلع میں مبینہ چینی دراندازی کی اطلاعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ سرحدی معاملات کی صورتحال دونوں ملکوں کے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کی کیفیت پر بھی اثرانداز ہوگی۔
منگل کو اس معاملے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جیسوال نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنا سب سے اہم ہے۔ انہوں نے بھارت اور چین کے درمیان سرحدی امور پر ہونے والی حالیہ بات چیت کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
جیسوال نے کہا، ’’بھارت اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے متعلق معاملات میں ہم نے ہمیشہ چینی فریق کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو انتہائی سنجیدہ سمجھتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔ ہم یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کی کیفیت پر اثرانداز ہوگی۔‘‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ۶ ؍اگست ۲۰۲۶ کو بھارت اور چین کے سرحدی امور سے متعلق مشاورت اور رابطہ کاری کے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کے ۳۶ویں اجلاس میں بھی اس موقف کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران دونوں فریقوں نے کھل کر بات چیت کی اور حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی فریق نے ایک بار پھر واضح کیا کہ سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھنا دوطرفہ تعلقات کی مجموعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
جیسوال نے بتایا کہ دونوں ممالک نے ایل اے سی پر زیرِ التوا مسائل کے حل اور ’’غلط فہمی اور غلط اندازے‘‘ سے بچنے کے لیے ڈبلیو ایم سی سی اور مقامی کمانڈر سطح کے اجلاسوں سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی رابطہ ذرائع کو استعمال کرتے رہنے پر اتفاق کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھارت نے اروناچل پردیش کے ۲۷ مقامات اور جغرافیائی خصوصیات کے سرکاری بھارتی نقشے میں ان کے معیاری نام درج کیے تھے۔ یہ اقدام ریاست کے مختلف مقامات کے نام تبدیل کرنے کی چین کی کوششوں کے جواب کے طور پر کیا گیا تھا۔
چین نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اروناچل پردیش کو تسلیم نہیں کرتا۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا تھا کہ ’’چین کی جانب سے طویل عرصے سے استعمال کیے جانے والے ناموں کو اپنے نام نہاد ’معیاری ناموں‘ سے تبدیل کرنے کی بھارت کی کوشش غیر قانونی، بے بنیاد اور بے اثر ہے۔‘‘اس پر بھارت نے منگل کو سخت ردعمل ظاہر کیا۔ رندھیر جیسوال نے ایک بار پھر بھارت کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اروناچل پردیش ملک کا ’’ناقابلِ تنسیخ حصہ‘‘ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک )










