اتوار, جون 28, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

بیک ڈور تقرریوں کے الزامات

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-28
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر بیک ڈور تقرریوں، آؤٹ سورسنگ اور سرکاری ملازمتوں کا معاملہ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ ایک طرف حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے بیک ڈور تقرریوں اور روزگار کے مواقع ختم کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف حکومت ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اپنے ناقدین ہی کے ماضی کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔ اس سیاسی رسہ کشی میں بیانات، جوابی بیانات اور دستاویزی ثبوتوں کے دعوے اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک حقیقت ایسی ہے جس سے نہ کوئی انکار کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے سیاسی نعروں سے چھپایا جا سکتا ہے۔ وہ حقیقت جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی مایوسی ہے۔

یہ سوال یقیناً اپنی جگہ اہم ہے کہ آیا بیک ڈور تقرریوں کے الزامات درست ہیں یا نہیں، آؤٹ سورسنگ کے فیصلے کس حد تک جائز ہیں اور کس حکومت نے کیا غلطی کی۔ تاہم عام نوجوان کے لیے یہ بحث ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی اولین تشویش یہ ہے کہ اسے باعزت، مستقل اور شفاف طریقے سے روزگار کب ملے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج جموں و کشمیر کا نوجوان اسی سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے، لیکن سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ماضی کی گرد جھاڑنے میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہیں۔

متعلقہ

 نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس:

جنگی دھمکیوں سے حقیقت نہیں بدلی جا سکتی

اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد برسوں سے سرکاری ملازمتوں کے انتظار میں ہے جبکہ نجی شعبہ ابھی تک اس حد تک مضبوط نہیں ہو سکا کہ وہ روزگار کے وسیع مواقع فراہم کر سکے۔ نتیجتاً ہزاروں نوجوان یا تو مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاری میں اپنی عمر کا قیمتی حصہ صرف کر رہے ہیں یا پھر معمولی اور غیر محفوظ روزگار اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورت حال کے سنگین سماجی اور معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا کسی بھی حکومت کے لیے مناسب نہیں۔

نیشنل کانفرنس نے انتخابی مہم کے دوران روزگار کو اپنی ترجیحات میں نمایاں مقام دیا تھا۔ نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے، سرکاری آسامیوں کو بروقت پر کرنے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے جیسے وعدے کیے گئے تھے۔ حکومت کے قیام کے بعد عوام کی توقع تھی کہ ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیز رفتار اقدامات دیکھنے کو ملیں گے۔ لیکن موجودہ صورت حال یہ تاثر دینے میں کامیاب نہیں ہوئی کہ حکومت روزگار کے محاذ پر کوئی غیر معمولی پیش رفت کر سکی ہے۔ اگر روزگار کے مواقع محدود رہیں گے، بھرتی کے عمل میں تاخیر ہوگی اور نوجوانوں کو مستقبل غیر یقینی دکھائی دے گا تو لازماً سوالات بھی اٹھیں گے اور حکومت کو ان کا جواب دینا ہوگا۔

آؤٹ سورسنگ کے مسئلے نے بھی اسی تناظر میں تشویش کو بڑھایا ہے۔ اگر واقعی بڑی تعداد میں سرکاری نوعیت کی ملازمتوں کو نجی ایجنسیوں کے ذریعے پر کیا جا رہا ہے تو یہ ایک ایسی پالیسی ہے جس پر سنجیدہ عوامی بحث ہونی چاہیے۔ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ملازمت حاصل کرنے والے افراد کو اکثر مستقل ملازمین جیسے حقوق، ملازمت کا تحفظ، ترقی کے مساوی مواقع اور سماجی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو محض سیاسی نعرہ بازی کے بجائے پالیسی کے زاویے سے دیکھا جانا چاہیے۔

تاہم اس پورے معاملے میں ایک اور حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسئلہ صرف موجودہ حکومت تک محدود نہیں ہے۔ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران اقتدار میں آنے والی تقریباً ہر حکومت پر بھرتیوں کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ چاہے وہ نیشنل کانفرنس ہو، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ہو یا دیگر سیاسی اتحاد، مختلف ادوار میں بھرتیوں کی شفافیت پر اعتراضات سامنے آتے رہے۔ کہیں اقربا پروری کے الزامات لگے، کہیں میرٹ پر سوال اٹھے، کہیں عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑی اور کہیں بھرتیوں کو منسوخ کرنا پڑا۔ اس لیے اگر آج ماضی کی حکومتوں پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے تو یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچانے میں مختلف ادوار کی خامیوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

پی ڈی پی کے دور حکومت میں بھی متعدد بھرتیوں پر سوالات اٹھے تھے۔ بعض معاملات عدالتوں تک پہنچے اور کئی فیصلوں پر قانونی اعتراضات سامنے آئے۔ اسی طرح مختلف ادوار میں بھرتی کے عمل کی رفتار، شفافیت اور میرٹ پر عمل درآمد ہمیشہ عوامی بحث کا موضوع رہے۔ اس لیے کسی ایک جماعت کو مکمل طور پر بری الذمہ اور دوسری کو مکمل طور پر قصوروار قرار دینا شاید حقیقت کا درست عکس نہیں ہوگا۔

اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے بجائے نوجوانوں کے مستقبل پر توجہ دیں۔ اگر واقعی کسی بھی دور میں غیر قانونی تقرریاں ہوئی ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ مستقبل میں ایسا نظام قائم کیا جائے جس پر کسی کو انگلی اٹھانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

آج ضرورت شفاف، بروقت اور مکمل طور پر میرٹ پر مبنی بھرتی نظام کی ہے۔ سرکاری اسامیوں کو برسوں تک خالی رکھنا، امتحانات میں تاخیر، نتائج کے اعلان میں غیر ضروری وقفہ اور تقرریوں کے عمل کو طول دینا نوجوانوں کی مایوسی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صرف سرکاری ملازمتوں پر انحصار بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ حکومت کو صنعت، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، باغبانی، دستکاری اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی تاکہ نجی شعبہ بھی روزگار پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ روزگار صرف تقرریوں سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ مضبوط معیشت سے پیدا ہوتا ہے۔ جب سرمایہ کاری بڑھے گی، کاروبار فروغ پائیں گے، سیاحت مستحکم ہوگی اور صنعتی سرگرمیاں تیز ہوں گی تو روزگار کے نئے دروازے خود بخود کھلیں گے۔ یہی وہ سمت ہے جس میں حکومت کو اپنی توانائیاں صرف کرنی چاہئیں۔

جموں و کشمیر کے نوجوان سیاسی جماعتوں سے ایک دوسرے کی کردار کشی نہیں بلکہ عملی نتائج چاہتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ماضی میں کس نے کتنی غلطیاں کیں، بلکہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آج ان کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔ اگر موجودہ حکومت اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یقیناً اسے سیاسی فائدہ بھی ملے گا، لیکن اگر نوجوانوں کی امیدیں اسی طرح ٹوٹتی رہیں تو صرف ماضی کا حوالہ دے کر حال کی ذمہ داری سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ الزام اور جوابِ الزام کی سیاست سے آگے بڑھ کر بے روزگاری کو ریاست کے سب سے بڑے سماجی و معاشی چیلنج کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ نوجوانوں کو شفاف بھرتی، محفوظ روزگار اور بہتر مستقبل فراہم کرنا ہی وہ معیار ہونا چاہیے جس پر ہر حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ ہو، کیونکہ روزگار محض ایک انتخابی وعدہ نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’یاترا کو اتحاد اور عقیدت کی روشن مثال بنائیں‘

Next Post

پی ڈی پی سے ایک بات !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

 نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس:

2026-06-27
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جنگی دھمکیوں سے حقیقت نہیں بدلی جا سکتی

2026-06-25
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جی ایم سی اننت ناگ :

2026-06-24
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کانگریس کی دھڑہ بندی:

2026-06-23
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پلاسٹک آلودگی کے خلاف سنجیدہ اقدام کی ضرورت

2026-06-21
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

صحافت یا تشہیر؟

2026-06-20
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کھانسی کے سرپ پر نسخے کی شرط:

2026-06-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پانی، دہشت گردی اور قومی سلامتی

2026-06-14
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

پی ڈی پی سے ایک بات !

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.