اگلے ہفتے سالانہ امر ناتھ یاترا سے قبل ایل جی منوجی سنہا کی سول سوسائٹی، تاجروں اور مذہبی رہنماؤں سے مشاورت
یاترا سماجی ہم آہنگی کی عظیم علامت ہے‘عوام یاتریوں کو ایک یادگار روحانی تجربہ فراہم کرنے کے لیے آگے آئیں:سنہا
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۷جون
لیفٹیننٹ گورنر ‘منوج سنہا نے آج سول سوسائٹی کے نمائندوں، تاجروں، کاروباری رہنماؤں اور مختلف مذاہب کے سربراہان سے ملاقات کر کے آئندہ شری امرناتھ جی یاترا کے انتظامات اور اس کے پُرامن انعقاد پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ اس مقدس یاترا میں بھرپور تعاون کریں، کیونکہ شری امرناتھ جی یاترا سماجی ہم آہنگی، باہمی احترام اور اتحاد کی حقیقی علامت ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ یاتریوں کو ایک یادگار روحانی تجربہ فراہم کرنے کے لیے آگے آئیں۔
سنہا نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا دنیا کے سامنے ہماری بے لوث خدمت، ہمدردی اور مہمان نوازی کی ثقافت کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
ایل جی نے کہا، ’’آئیے ہم سب مل کر اس سال کی یاترا کو ایمان، اتحاد اور عقیدت کی روشن مثال بنائیں۔ جب زائرین بابا برفانی کی مقدس گپھا کی جانب روانہ ہوں تو ہم اپنی عقیدت کو انسان دوستی اور خدمت میں تبدیل کریں، تاکہ یہ یاترا روحانیت اور انسانی ہمدردی کی بہترین مثال بن جائے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ اس سال شری امرناتھ جی یاترا؍۳ جولائی سے شروع ہو کر۲۸؍ اگست تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی کے نمائندے، مذہبی رہنما، تاجر برادری اور سماجی کارکن قوم کی اخلاقی اقدار کے محافظ ہیں۔
سنہا نے کہا، ’’آپ سب ہماری روحانی روایات کے امین ہیں۔ نسل در نسل ہم نے بابا امرناتھ کی قدیم روحانی روایت کو زندہ رکھا ہے۔ اب جبکہ ہم ایک بار پھر زائرین کے استقبال کی تیاری کر رہے ہیں، مجھے آپ کے تعاون، رہنمائی اور اشتراک کی ضرورت ہے۔ آپ کا کردار اس بات کو یقینی بنانے میں نہایت اہم ہے کہ ہر زائر کو احترام، تحفظ اور اپنائیت کا احساس ہو۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا صدیوں سے ہمارے عقیدے، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ مقدس یاترا ہمیں لامحدود طاقت، علم اور ہمدردی کی علامت بھگوان شیو سے ہمارے ابدی تعلق کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین صرف اپنی دعائیں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی امیدیں اور تمنائیں بھی اپنے ساتھ لاتے ہیں۔
سنہا نے کہا، ’’ہر سال دنیا اس بات کی گواہ بنتی ہے کہ شری امرناتھ جی یاترا ایسا موقع ہے جہاں تمام مذاہب، برادریوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ زائرین کی خدمت کے جذبے کے ساتھ متحد ہو جاتے ہیں۔ آئیے بابا برفانی کی یاترا کو عقیدت اور خدمت کا مثالی نمونہ بنائیں۔ دنیا کو دکھائیں کہ جب عبادت اور خدمت ایک ساتھ چلتی ہیں تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر زائر ہماری مہمان نوازی اور محبت کو محسوس کرے۔ یہی وہ موقع ہے جب جموں و کشمیر میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام مذاہب کے ماننے والے انسانی خدمت کے جذبے کے تحت ایک ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور یہی اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شری امرناتھ جی شرائن بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں نے یاترا کو مزید محفوظ اور سہل بنانے کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کو کشادہ کیا گیا ہے، مواصلاتی سہولیات میں بہتری لائی گئی ہے، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا گیا ہے اور اب یاترا عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ ہے۔
ملاقات کے دوران سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شری امرناتھ جی یاترا کے کامیاب انعقاد کے لیے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے انتظامیہ اور شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کی جانب سے گزشتہ برسوں میں کیے گئے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، سکیورٹی، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی اور زائرین کے لیے دیگر سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے یاترا کا مجموعی تجربہ مزید بہتر ہوا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ تمام معقول سفارشات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
اجلاس میں اراکینِ قانون ساز اسمبلی الطاف احمد وانی، آغا سید منتظر مہدی اور میاں مہر علی، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکریٹری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر شری امرناتھ جی شرائن بورڈ ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، ڈویژنل کمشنر کشمیر انشول گرگ، انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وی کے بردی، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، سینئر سرکاری افسران، مذہبی و سماجی تنظیموں، تجارتی انجمنوں اور سول سوسائٹی کے ممتاز نمائندوں نے بھی شرکت کی۔










