سرینگر؍ ۱۴ ؍اگست
وزارت خارجہ(ایم ای اے) نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹریک ٹو مذاکرات میں حصہ لینے والے افراد اپنی نجی حیثیت میں ان مکالموں میں شریک ہوتے ہیں اور ان کے خیالات حکومتِ ہند کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور باہمی روابط کی موجودہ صورت حال سے متعلق پوچھے گئے ایک غیر ستارہ دار سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک کے تھنک ٹینکس اور ماہرین تعلیم کے درمیان ہونے والے روابط حکومتِ ہند کے دائرۂ کار سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’افراد ٹریک ٹو مذاکرات میں اپنی نجی حیثیت میں شرکت کرتے ہیں اور ان کے خیالات حکومتِ ہند کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔‘‘
وزیر مملکت نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں اپنی متعلقہ سفارتی نمائندگی برقرار رکھی ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بعض ’’فعال روابط‘‘ بھی جاری ہیں۔
ان روابط میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کی سطح پر بات چیت، بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کی پیشگی اطلاع کا تبادلہ، جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا باہمی تبادلہ اور ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ شامل ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے بارے میں سوال کے جواب میں کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ ۲۲ ؍اپریل ۲۰۲۵ کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ معاہدہ اس وقت تک التوا میں رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت سے قابلِ اعتبار اور ناقابلِ واپسی طور پر دستبردار نہیں ہوجاتا۔‘‘
پارلیمنٹ میں حکومت سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ مئی ۲۰۲۵ میں جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کے بعد قائم کیے گئے ڈی جی ایم او سطح کے ہاٹ لائن رابطے کے علاوہ پاکستان کے ساتھ کوئی اور سرکاری سطح کا رابطہ فعال ہے یا نہیں، نیز ٹریک ٹو مذاکرات کے حوالے سے حکومت کا کیا موقف ہے اور سندھ طاس معاہدے کی موجودہ حیثیت کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے جواب سے واضح کیا گیا کہ ٹریک ٹو رابطوں میں شریک غیر سرکاری شخصیات کی آرا کو حکومتِ ہند کے سرکاری موقف کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بعض مخصوص اور ضرورت پر مبنی سرکاری روابط بدستور برقرار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










