سرینگر؍۱۴؍اگست
ایک نئے سروے کے مطابق بھارت اور پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد ایک دوسرے کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے، جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان گہری جڑیں رکھنے والے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ کے مطابق، بھارت میں سروے کیے گئے بالغ افراد میں سے ۵۴ فیصد نے پاکستان کو اپنے لیے سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی خطرہ قرار دیا، جبکہ ۲۱ فیصد نے چین کو سب سے بڑا خطرہ بتایا۔
اسی طرح پاکستان میں ۴۳ فیصد افراد نے بھارت کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا، جبکہ ۲۴، ۲۴ فیصد پاکستانیوں نے اسرائیل اور چین کو سب سے بڑا خطرہ بتایا۔
پاکستانی واضح طور پر چین کو اپنا سب سے اہم اتحادی سمجھتے ہیں، جہاں ۷۵ فیصد افراد نے چین کا نام لیا، جبکہ نسبتاً کم تعداد یعنی ۱۲ فیصد نے سعودی عرب کو اہم ترین اتحادی قرار دیا۔
تقریباً ایک تہائی بھارتی شہریوں کا کہنا ہے کہ روس ان کا سب سے بڑا اتحادی ہے، جبکہ ۳۶ فیصد نے روس کا نام لیا۔ ۱۶ فیصد نے امریکہ کو اپنا سب سے اہم اتحادی قرار دیا۔ تقریباً ایک تہائی بھارتیوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کے درمیان قربت کے باوجود صرف ۱۵ فیصد پاکستانی امریکہ کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔اس کے برعکس، ۹۰ فیصد پاکستانیوں نے چین کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا۔
پیو ریسرچ کے مطابق، صرف ۱۲ فیصد پاکستانیوں کو عالمی معاملات میں درست فیصلے کرنے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد ہے، جبکہ ۸۳ فیصد پاکستانیوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے بارے میں اسی نوعیت کے اعتماد کا اظہار کیا۔
بھارتی شہری روس کے بارے میں کہیں زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں۔ ۵۸ فیصد بھارتیوں نے روس کے بارے میں مثبت تاثر کا اظہار کیا، جبکہ ۵۱ فیصد نے صدر ولادیمیر پوتن کی عالمی قیادت پر اعتماد ظاہر کیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستانیوں میں روس کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح ۳۹ فیصد اور پوتن پر اعتماد کرنے والوں کی شرح ۳۲ فیصد رہی۔
صرف ۲۳ فیصد بھارتی چین کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ ۲۵ فیصد شی جن پنگ کی عالمی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔
سروے میں شامل ۴۵ فیصد بھارتیوں نے امریکہ کے بارے میں مثبت رائے ظاہر کی، جبکہ ۳۹ فیصد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا۔
جنوبی ایشیا کے چار ممالک یعنی بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے بالغ افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں مختلف نوعیت کے رجحانات سامنے آئے۔
سری لنکا کے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت، یعنی ۷۹ فیصد، بھارت کے بارے میں مثبت رائے رکھتی ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح ۴۲ فیصد اور پاکستان میں صرف ۷ فیصد رہی۔
سری لنکا کے ۶۳ فیصد افراد بھارت کو اپنا سب سے اہم اتحادی قرار دیتے ہیں، جبکہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے شہریوں نے زیادہ تر بھارت کو اپنا سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔
امریکہ میں ۴۵ فیصد امریکی بھارت کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ ۵۰ فیصد اس کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹس اور ڈیموکریٹک نظریات رکھنے والے آزاد ووٹروں میں سے ۵۰ فیصد نے بھارت کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا، جبکہ ریپبلکنز اور ریپبلکن نظریات رکھنے والے ووٹروں میں یہ شرح ۴۲ فیصد رہی۔
سروے میں شامل ۵۴ فیصد سے زیادہ امریکیوں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر بھارت کے اثر و رسوخ میں تقریباً کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ ۳۰ فیصد کے مطابق بھارت کا عالمی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ مزید ۱۳ فیصد امریکیوں نے کہا کہ بھارت کا عالمی اثر و رسوخ کم ہورہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈسیک)










