نئی دہلی؍ ۱۴ ؍اگست
قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول نے کہا ہے کہ بھارت کی سخاوت اور تحمل کو اس کی کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت خطرات مول لینے اور نتائج کی پروا کیے بغیر دشمن پر بھرپور ضرب لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈسکوری کی آنے والی دستاویزی سیریز ’’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈوول نے کہا کہ ۸۸ گھنٹے جاری رہنے والی فوجی کارروائی کا مقصد دشمن کے ان کیمپوں کو تباہ کرنا تھا جو خصوصاً پہلگام دہشت گرد حملے کے ذمہ دار تھے۔
آپریشن سندور کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں ڈوول نے کہا، ’’ہم نے آپریشن کا مقصد دشمن کے ان کیمپوں کی تباہی مقرر کیا تھا، بالخصوص ان عناصر کے کیمپ جو پہلگام حملے کے ذمہ دار تھے۔‘‘
قومی سلامتی کے مشیر نے کہا، ’’دنیا کے لیے پیغام بالکل واضح ہے‘بھارت کی سخاوت یا اس کا تحمل اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارت خطرات مول لے سکتا ہے، بھارت سخت ضرب لگاسکتا ہے، نتائج کچھ بھی ہوں۔‘‘
ڈسکوری کے ایک بیان کے مطابق دو حصوں پر مشتمل یہ دستاویزی سیریز آپریشن سندور سے متعلق فیصلوں اور واقعات کو بیان کرنے کے لیے بھارت کی فوجی اور قومی سلامتی کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہے۔ اس میں ان افراد کے براہِ راست تجربات شامل کیے گئے ہیں جنہوں نے بھارت کے ردعمل کی نگرانی کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پروگرام میں اجیت ڈوول فوجی کارروائی کے پس پردہ فیصلہ سازی اور عزم و حوصلے کی تفصیلات بھی پیش کرتے ہیں۔
’’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘‘ ہفتہ کی رات ۹ بجے ڈسکوری اور اس کی اسٹریمنگ سروس ڈسکوری پلس پر نشر کی جائے گی۔
آپریشن سندور گزشتہ سال ۷ مئی کی صبح سویرے ۲۲ اپریل کو پہلگام میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملے کا بدلہ لینے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس کے تحت بھارتی فوج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے متعدد بنیادی ڈھانچوں کو درست نشانہ بنانے والی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔
اس کے بعد پاکستان نے بھی بھارت کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں جبکہ بھارت کی جانب سے بعد کی تمام جوابی کارروائیاں بھی آپریشن سندور کے تحت کی گئیں۔
دونوں جوہری صلاحیت رکھنے والے ہمسایہ ممالک کے درمیان یہ فوجی تصادم تقریباً ۸۸ گھنٹے جاری رہا اور ۱۰ مئی کی شام دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے بعد اس کا اختتام ہوا۔
۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










