جماعتی سیاست سے بالاتر ایک ذمہ داری
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بیگم اکبر جہاں عبداللہ کی چھبیسویں برسی کے موقع پر اپنی تقریر میں دو اہم باتیں کہیں۔ پہلی یہ کہ نیشنل کانفرنس کو توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس مقصد کیلئے ان کے ایک رکنِ اسمبلی کو بھاری مالی پیش کش، وزارت اور ریاستی درجے کی بحالی کا لالچ دیا گیا۔ دوسری اور زیادہ اہم بات یہ کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ اس لیے واپس نہیں دیا جا رہا کیونکہ یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم نہیں ہے۔
پہلی بات اپنی نوعیت میں ایک سیاسی الزام ہے جس کے حق میں ابھی تک کوئی ثبوت عوام کے سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی شخصیت یا ادارے کا نام لیا گیا ہے، اس لیے اس پر قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں۔ البتہ دوسری بات، یعنی ریاستی درجے کی بحالی، ایک ایسا بنیادی سیاسی اور آئینی مسئلہ ہے جس کا تعلق صرف نیشنل کانفرنس یا کسی ایک جماعت سے نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کے عوام سے ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پانچ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں اور اسے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے ریاستی درجے کی بحالی یہاں کے عوام کا ایک مشترکہ مطالبہ بن چکا ہے۔ خود مرکزی حکومت نے مختلف مواقع پر اس بات کا اظہار کیا کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں بھی اس کا ذکر ہوا، عوامی اجتماعات میں بھی یقین دہانیاں کرائی گئیں اور سپریم کورٹ میں بھی حکومت کی جانب سے ایک ایسا روڈ میپ پیش کیا گیا جس میں حد بندی، اسمبلی انتخابات اور اس کے بعد ریاستی درجے کی بحالی کا ذکر موجود تھا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ نیشنل کانفرنس بیس جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو لے کر احتجاج کرے گی۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں پرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے اور مطالبات کے اظہار کا جائز ذریعہ بھی۔ تاہم اس اعلان کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا اس احتجاج کو صرف ایک جماعت کی سرگرمی تک محدود رہنا چاہیے یا اسے جموں و کشمیر کے عوام کی مشترکہ آواز بنایا جانا چاہیے؟
ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کسی ایک سیاسی جماعت کی انتخابی مہم یا سیاسی مفاد کا مسئلہ نہیں۔ یہ جموں، کشمیر اور پیر پنچال سے لے کر چناب وادی تک بسنے والے ہر شہری کے سیاسی وقار، انتظامی خودمختاری اور جمہوری نمائندگی کا سوال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، وکلاء، تاجروں، طلبہ اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ مطالبہ واقعی عوامی ہے تو اس کی جدوجہد بھی عوامی اور مشترکہ ہونی چاہیے۔
بدقسمتی سے تاثر یہی پیدا ہوا کہ جنتر منتر کے احتجاج کا اعلان کرنے سے پہلے دوسری سیاسی جماعتوں کو نہ تو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان کے ساتھ باضابطہ مشاورت کی گئی۔ انہیں محض فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ اس طرزِ عمل سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی درجے جیسے مشترکہ مسئلے کو بھی جماعتی سیاست کے دائرے میں محدود کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف سیاسی طور پر نقصان دہ ہوگا بلکہ اس سے اس مطالبے کی اخلاقی اور عوامی قوت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوام نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو سب سے بڑی جماعت بنایا اور حکومت کی ذمہ داری سونپی۔ اس مینڈیٹ کے ساتھ یہ توقع بھی وابستہ تھی کہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے حکومت مؤثر، منظم اور ہمہ گیر کوششیں کرے گی۔ لیکن مؤثر کوششوں کا مطلب صرف بیانات دینا یا احتجاج کا اعلان کرنا نہیں بلکہ سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا بھی ہے۔ بڑی جماعتوں کی اصل پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اختلاف رکھنے والوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی بڑے آئینی یا عوامی مسائل پر مشترکہ آواز بلند ہوئی، اس کے اثرات زیادہ مؤثر ثابت ہوئے۔ اس کے برعکس جب مسائل جماعتی رقابتوں کی نذر ہوئے تو فائدہ کسی کو نہیں پہنچا۔ ریاستی درجے کی بحالی جیسے حساس اور اہم مسئلے پر بھی اگر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ مرکز کے سامنے بھی ایک مضبوط اور متحد مؤقف پیش کیا جا سکے گا۔
اگر ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ کیا گیا تھا تو اس کے لیے ایک واضح ٹائم لائن دی جانی چاہیے۔اسی طرح یہ تاثر بھی ختم ہونا چاہیے کہ ریاستی درجے کی بحالی کسی سیاسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی سے مشروط ہے۔ آئینی فیصلے عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اصولوں کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ اقتدار میں کون سی جماعت ہے۔ اگر اس حوالے سے کسی بھی سطح پر کوئی ابہام موجود ہے تو اسے دور کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نیشنل کانفرنس اپنی سیاسی برتری کو وسیع تر عوامی مفاد کے لیے استعمال کرے۔ اگر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ واقعی اس مسئلے کو جموں و کشمیر کے عوام کی ترجیح سمجھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر ایک آل پارٹی اجلاس بلانا چاہیے، تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرنی چاہیے، مشترکہ لائحۂ عمل مرتب کرنا چاہیے اور ریاستی درجے کی بحالی کی جدوجہد کو جماعتی رنگ دینے کے بجائے عوامی تحریک کی شکل دینی چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اس مطالبے کو زیادہ اخلاقی قوت، زیادہ سیاسی وزن اور زیادہ عوامی تائید فراہم کر سکتا ہے۔
ریاستی درجے کی بحالی کسی جماعت کی فتح یا شکست کا عنوان نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے جمہوری حقوق کی بحالی کا سوال ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو سیاسی مسابقت کا میدان بنانے کے بجائے اجتماعی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ اگر تمام سیاسی قوتیں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ایک آواز میں یہ مطالبہ اٹھائیں تو یقیناً اس کی بازگشت زیادہ دور تک سنائی دے گی۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی عوام کی توقع ہے اور یہی جمہوریت کا حسن بھی۔



