مزید تاخیر نہ کی جائے، صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے،’مناسب وقت‘ کی بھی وضاحت کی جائے ‘وزیر اعلیٰ کا مرکزسے مطالبہ
’اگر شرط بی جے پی کی حکومت ہے تو کھل کر اعلان کیا جائے‘/ جموں و کشمیر حکومت کو اختیارات سے محروم رکھنے پر بھی سوالات
ندائے مشرق خبر
سرینگر؍۱۱ جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز مرکزی حکومت سے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کے معاملے میں ان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور’مناسب وقت‘ کی وضاحت کی جائے۔
وزیر اعلیٰ اپنی دادی بیگم اکبر جہاں کی۲۶ ویں برسی کے موقع پر حضرت بل میں اپنے دادا دادی کے مزار پر منعقدہ ایک عظیم کارکنان کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر مرکز لداخ کے عوام سے بات چیت کے لیے تیار ہے تو پھر جموں و کشمیر کے عوام سے بات کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔
اپنی دادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا، لیکن سب سے بڑا سبق صبر کا تھا۔انہوں نے کہا’’ہمیں بھی انہی کی طرح صبر سے کام لینا ہے، لیکن صبر کمزوری کا راستہ نہیں، نہ ہی خاموشی کا نام ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہ کریں، یا کوئی ہماری برداشت کا ناجائز فائدہ اٹھائے اور ہمیں کمزور سمجھے۔ ہمارا یہی صبر ہماری طاقت ہے، ہماری آواز ہے، اور ان شاء اللہ یہی صبر ہماری کامیابی کا ذریعہ بنے گا‘‘۔
ڈل جھیل کے کنارے منعقدہ اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو خود اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ایسی کیا مجبوری پیدا ہو گئی کہ ڈیڑھ برس سے زائد عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود حکمران جماعت کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’یقیناً کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے، کچھ نہ کچھ بدل چکا ہے۔ میں نے اپنی سیاسی ساکھ اور مستقبل کو داؤ پر لگا کر مرکز سے کہا تھا کہ ہم اپنے حقوق تشدد سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ میں جانتا تھا کہ سیاسی طور پر یہ میرے لیے ایک خطرناک فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت تشکیل دینے کے بعد انہوں نے دانستہ طور پر مرکز کو اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے وقت دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو اسی طرح برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی کامیابی گویا جموں و کشمیر کے عوام کے لیے سزا بن گئی ہے۔
عمرعبداللہ نے سوال کیا’’اگر آپ ہمیں حکومت چلانے ہی نہیں دینا چاہتے تھے تو پھر انتخابات کرانے کا کیا مقصد تھا‘‘؟انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے جموں و کشمیر کا نظم و نسق چلا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اگر لوگوں کو راج بھون کے ذریعے ہی پریشان کرنا تھا، ملازمین کو برطرف کرنا تھا اور بلڈوزر چلانے تھے، تو پھر ہمیں آگے لانے کی کیا ضرورت تھی‘‘؟انہوں نے مزید کہا’’اگر یہی کرنا تھا تو پہلے ہی کہہ دیتے کہ حکومت تو تم بناؤ گے، مگر تمہارے ہاتھ پیچھے باندھ دیے جائیں گے۔ ایسے افسر دیے جائیں گے جو تمہارے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود ہم آج بھی گدھوں کی طرح محنت کر رہے ہیں تاکہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے کچھ کر سکیں‘‘۔
عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’مناسب وقت‘ کی اصطلاح کی واضح تشریح کرے۔انہوں نے کہا’’میں ان سے پوچھتا ہوں، خدا کے لیے بتائیں کہ ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ مناسب وقت آ گیا ہے؟ مجھے اور میرے ساتھیوں کو وہ مناسب وقت آنے کے لیے آخر کیا کرنا ہوگا‘‘؟انہوں نے سوال کیا کہ کیا’مناسب وقت‘ سے مراد یہ ہے کہ سابق ریاست جموں و کشمیر میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو؟
انہوں نے کہا’’اگر ایسا ہی ہے تو ہمت کرکے عوام کے سامنے صاف صاف کہہ دیں، کم از کم ہم اس خوش فہمی میں تو نہیں رہیں گے کہ آپ اپنا وعدہ پورا کریں گے‘‘۔
پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں عوامی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آخر ریاستی درجے کی بحالی کی امید میں عوام کو مزید کتنے انتخابات لڑنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اب مقامی بلدیاتی اداروں اور پنچایتی انتخابات کرانے کی بات کی جا رہی ہے، جن کے وہ بھی حامی ہیں، تاہم یہ فیصلہ کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے ’مناسب وقت‘کب ہوگا، جموں و کشمیر حکومت خود کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’دونوں فریق اس ’مناسب وقت‘ کی اصطلاح استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ نے ہمارے صبر، شائستگی اور خاموشی کا مذاق بنا دیا ہے۔ کیا آپ یہاں آگ بھڑکانا چاہتے ہیں؟‘‘ (ایجنسیاں)










