’صرف ریاستی درجے پر بات کرنا بھاجپا بیانیہ کو تقویت پہنچانا ہے‘
ایجنسیاں
کولگام؍۱۱ جولائی
نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے ہفتہ کے روز کہا کہ پارٹی کو اب ان کی ضرورت نہیں رہی، اسی لیے انہیں پارٹی کنونشن میں مدعو کیا گیا اور نہ ہی وہ اس میں شریک ہوئے۔
روح اللہ نے واضح کیا کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کے مجوزہ جنتر منتر احتجاج میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔
کولگام میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ بیگم اکبر جہاں کی برسی کے موقع پر منعقدہ نیشنل کانفرنس کے کنونشن میں اس لیے شریک نہیں ہوئے کیونکہ انہیں نہ بلایا گیا تھا اور نہ ہی ان کی وہاں ضرورت تھی۔
روح اللہ نے کہا’’میں اس سوال کا آخر کتنی بار جواب دوں؟ انہیں اب میری ضرورت نہیں ہے۔ نہ مجھے بلایا گیا اور نہ ہی میں وہاں موجود تھا۔ محرم کے سلسلے میں کولگام، سرینگر اور دیگر مقامات پر میرے پہلے سے طے شدہ پروگرام تھے، اس لیے میں انہی میں مصروف رہا۔ اب انہیں میری ضرورت نہیں رہی‘‘۔
ایک سوال کے جواب میں کہ آیا وہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے، آغا روح اللہ نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ جموں و کشمیر کے عوام سے متعلق بنیادی مسائل پر مرکوز رہے گی۔
این سی رکن پارلیمان نے کہا’’وہ ریاستی درجے کے لیے احتجاج کرنے جا رہے ہیں، حالانکہ عوام نے انہیں اس مقصد کے لیے مینڈیٹ نہیں دیا۔ میں جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان جاؤں گا اور دفعہ۳۷۰ کے بارے میں بات کروں گا۔ میں عوام کے اصل ایجنڈے پر کام کروں گا‘‘۔
روح اللہ نے الزام عائد کیا کہ سیاسی بیانیے کو دفعہ۳۷۰ سے ہٹا کر صرف ریاستی درجے تک محدود کرنا دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بیانیے کو آگے بڑھانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا’’نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے دوران دفعہ۳۷۰ کی منسوخی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ ہم سب نے اسی مسئلے پر انتخابی مہم چلائی۔ جو بھی اس مؤقف سے ہٹ کر صرف ریاستی درجے کی بات کرتا ہے، وہ موجودہ صورتحال کو معمول پر لانے اور بی جے پی کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے میں مدد دے رہا ہے۔‘‘










