پیر, اکتوبر 19, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

 کشمیر میں تعلیمی مواد کی جانچ کا دائرہ اسکولوں سے بڑھا کر کالجوں اور یونیورسٹیوں تک وسیع

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-12
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
 کشمیر میں تعلیمی مواد کی جانچ کا دائرہ اسکولوں سے بڑھا کر کالجوں اور یونیورسٹیوں تک وسیع
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

حکومت کا کالجوں، یونیورسٹیوں اور عوامی کتب خانوں میں کتابوں، جرائد، تحقیقی مقالوں اور ڈیجیٹل مواد کے جامع آڈٹ کا حکم

(ویب ڈیسک)

متعلقہ

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

سری نگر؍۱۱جولائی

                 جموں و کشمیر حکومت نے اسکولوں کی لائبریریوں میں موجود کتابوں کی جانچ کے احکامات جاری کرنے کے بعد اب کالجوں، یونیورسٹیوں اور عوامی کتب خانوں میں موجود تعلیمی مواد کا بھی جامع تعلیمی و مشمولاتی آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

                اس بار جانچ کا دائرہ صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس میں تحقیقی جرائد، ریسرچ پبلیکیشنز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے اور تعلیمی اداروں کے ڈیجیٹل ذخائر بھی شامل کیے گئے ہیں۔

                جمعہ کو جاری سرکاری بیان میں کہا گیا کہ سرکولر کے مطابق کوئی بھی ایسی اشاعت یا تعلیمی مواد، جس میں حقائق کے منافی، گمراہ کن، مسخ شدہ، اشتعال انگیز، غیر قانونی یا دیگر قابل اعتراض مواد موجود ہو، یا جو براہ راست یا بالواسطہ دہشت گردی، پرتشدد انتہا پسندی، علیحدگی پسندی، بنیاد پرستی یا ملک کی خودمختاری، اتحاد، سالمیت اور سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کی تائید، جواز یا تشہیر کرتا ہو، اسے تعلیمی اداروں میں خریدا، نصاب میں شامل، تجویز، محفوظ، تقسیم، شائع، آن لائن دستیاب یا کسی بھی شکل میں فراہم نہیں کیا جائے گا۔

                حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد تعلیمی معیار کو مضبوط بنانا، ادارہ جاتی جوابدہی کو بہتر کرنا، تعلیمی نظام کی سالمیت کا تحفظ کرنا اور جموں و کشمیر کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی وسائل کے وقتاً فوقتاً جائزے کے لیے ایک شفاف، معروضی اور یکساں نظام قائم کرنا ہے۔

                انڈئن اہکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل نے بتایا کہ اگرچہ انہیں اس حکم کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے ابھی تک کوئی واضح رہنما خطوط جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

                انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں زبانی طور پر بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال حکومت کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی۲۵  کتابوں کے طرز کی کسی بھی کتاب یا مواد کو قابل اعتراض سمجھا جائے گا۔ان کا کہنا تھا’’عمومی طور پر یہ فیصلے ہمارے اپنے صوابدید پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ چونکہ آخرکار ذمہ داری اداروں کے سربراہان پر عائد ہوتی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ احتیاطاً کشمیر سے متعلق تمام علمی کتابیں ہی لائبریریوں سے ہٹا دی جائیں‘‘۔

                ایک سرکاری کالج کے پرنسپل نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے سرکولر کے بارے میں اطلاعات دیکھی ہیں، لیکن ابھی تک انہیں باضابطہ طور پر کوئی سرکاری حکم موصول نہیں ہوا۔

                واضح رہے کہ دو روز قبل جموں و کشمیر حکومت نے تمام سرکاری و نجی اسکولوں اور کوچنگ مراکز کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی لائبریریوں، دفاتر، جماعتوں اور اسٹاف رومز میں موجود تمام کتابوں کی جانچ کریں تاکہ کسی بھی نامناسب یا قابل اعتراض مواد کی نشاندہی کی جا سکے۔

                اس حکم پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کرتے ہوئے اسے جموں و کشمیر کی تاریخ تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا گیا تھا۔

                قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے کشمیر سے متعلق۲۵کتابوں کی اشاعت اور فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان میں غلط بیانیہ اور علیحدگی پسندی کو فروغ دیا گیا ہے۔

                ممنوعہ کتابوں میں اے جی نورانی کی’دا کشمیر ڈسپیوٹ ‘ ، سمنترا بوس کی‘کنٹیسٹیڈ لینڈ‘، اروندھتی رائے کی’آزادی‘  اور ڈیوڈ دیوداس کی ایک کتاب سمیت دیگر تصانیف شامل ہیں۔

                قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ حال ہی میں سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں فراہم کی گئی دو کتابوں میں مبینہ طور پر قابل اعتراض اور علیحدگی پسندانہ مواد سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں جموں و کشمیر کو بعض مقامات پر’انڈیا آکیوپائیڈ کشمیر‘ اور’انڈین ہیلڈ کشمیر‘ قرار دینے کے علاوہ کالعدم تنظیم جے کے ایل ایف کے بانی مقبول بٹ کو’شہید‘ لکھا گیا تھا، جس پر شدید تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

                 اس معاملے کے بعد حکومت نے دونوں کتابیں واپس لینے، محکمہ تعلیم کے آٹھ اہلکاروں کو معطل کرنے، محکمانہ تحقیقات کا حکم دینے اور پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے سمیت متعدد کارروائیاں کیں۔ اسی پس منظر میں پہلے اسکولوں اور اب کالجوں، یونیورسٹیوں اور عوامی کتب خانوں میں موجود تعلیمی مواد کے جامع آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ڈھائی سال سے غیر حاضر کٹھوعہ میں  پولیس کانسٹیبل ملازمت سے برطرف

Next Post

بی جے پی کا عمر عبداللہ کے الزامات مسترد، ثبوت پیش کرنے یا غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘
اہم ترین

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

2026-10-18
اگر والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو بچوں کو ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا سوال
اہم ترین

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

2026-10-18
 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
اہم ترین

 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل

2026-10-18
’کشمیر میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اولین ترجیح برقرار رہیں گی‘
اہم ترین

عوام کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی ‘ جواب دہی یقینی بنانے پر زور

2026-10-18
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

 کشتواڑ میں نابالغ لڑکی کی موت کیس میں فرد جرم داخل

2026-10-18
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

جموں میں مبینہ منشیات فروش  گرفتار‘۳۸۵گرام ہیروئن برآمد

2026-10-18
لہیہ میںفوجی ٹینک دریا کے بہاؤ میں بہہ گئی ‘۵ فوجی اہلکار ہلاک
اہم ترین

مرکز نے لداخ کی پہاڑی  ترقیاتی کونسلوں کے ڈھانچے  اور انتخابی قواعد میں ترمیم کر دی

2026-10-18
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

آئی ٹی آئی اداروں کی جدید  کاری کیلئے۴۷۵ کروڑ روپے  منظوری پر عمر کا مرکزکا شکریہ

2026-10-18
Next Post
بی جے پی کا عمر عبداللہ کے الزامات مسترد، ثبوت پیش کرنے یا غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ

بی جے پی کا عمر عبداللہ کے الزامات مسترد، ثبوت پیش کرنے یا غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.