سرینگر؍یکم ستمبر
جموں و کشمیر میں ہائر سیکنڈری سطح پر طلبہ کی شمولیت میں تشویشناک کمی سامنے آئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اسکولوں میں ہائر سیکنڈری سطح کی مجموعی شرحِ داخلہ(جی ای آر) 48.5 فیصد سے کم ہو کر 44.8 فیصد رہ گئی ہے، جو قومی اوسط 58.4 فیصد سے کہیں کم ہے اور ملک کی ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں نمایاں ترین نسبتی گراوٹ میں شامل ہے۔
یہ ان اہم انکشافات میں شامل ہے جو نیتی آیوگ کی حالیہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ 2026 کی یہ رپورٹ یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن کے۲۰۱۴۔۱۵ سے۲۰۲۴۔۲۵ تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے طلبہ پرائمری سے ہائر سیکنڈری سطح کی جانب بڑھتے ہیں، ان کی تعلیمی شمولیت میں مسلسل کمی آتی جاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں 11ویں اور 12ویں جماعتیں اسکولی نظام کی سب سے کمزور کڑی بنتی جا رہی ہیں۔
صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ ثانوی سے ہائر سیکنڈری سطح پر منتقلی کی شرح سے بھی ہوتا ہے، جو اسی عرصے میں 93.38 فیصد سے گر کر 72.9 فیصد رہ گئی۔ یہ ملک میں درج ہونے والی نمایاں ترین گراوٹوں میں سے ایک ہے۔
44.8 فیصد کی شرح کے ساتھ جموں و کشمیر ان علاقوں میں شامل ہے جہاں ہائر سیکنڈری جی ای آر سب سے کم ہے۔ اس فہرست میں بہار 38.1 فیصد، میگھالیہ 39.7 فیصد، ناگالینڈ 39.8 فیصد، آسام 43.5 فیصد اور اروناچل پردیش 43.7 فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔
2024-25 میں جموں و کشمیر کی پرائمری سطح پر جی ای آر113.7 فیصد رہی، جو ابتدائی مرحلے میں مضبوط تعلیمی شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم یہ شرح اپر پرائمری میں 77.3 فیصد، سیکنڈری میں 66.1 فیصد اور ہائر سیکنڈری میں محض 44.8 فیصد رہ جاتی ہے۔
جی ای آر سے مراد کسی تعلیمی سطح پر زیرِ تعلیم طلبہ کی مجموعی تعداد ہے، خواہ ان کی عمر مقررہ عمر گروپ کے مطابق ہو یا نہ ہو، جسے اس سطح کے لیے مقررہ عمر گروپ کی آبادی کے تناسب سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ اشارہ رسائی اور شمولیت کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ تعلیم کے معیار یا عمر کے عین مطابق داخلے کو۔
نیتی آیوگ کی رپورٹ جموں و کشمیر کے حوالے سے اس گراوٹ کی مخصوص وجوہات کا تفصیلی تجزیہ پیش نہیں کرتی، بلکہ اسے ملک بھر میں موجود وسیع تر ساختی مسائل کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
رپورٹ میں سب سے نمایاں وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ دسویں جماعت کے بعد کی تعلیم رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے تحفظ کے دائرے سے باہر ہے۔ قانونی طور پر لازمی تعلیم کا یہ دائرہ ختم ہونے کے بعد مالی مشکلات، کم عمری میں روزگار اختیار کرنا اور سماجی دباؤ طلبہ کے تعلیم چھوڑنے کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں۔
شمالی کشمیر کے ایک سرکاری ہائی اسکول کے استاد نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دیہی سرکاری اسکولوں کے بیشتر طلبہ محدود مالی وسائل رکھنے والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق دسویں جماعت کے بعد والدین تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں بچے تعلیم چھوڑ کر خاندان کی مدد کے لیے معمولی ملازمتیں اختیار کر لیتے ہیں۔
استاد نے تجویز دی کہ 12ویں جماعت تک تعلیم مفت کی جائے اور طلبہ کو مفت درسی کتب فراہم کی جائیں تاکہ اسکول چھوڑنے کے رجحان پر قابو پایا جا سکے۔
ایک کالج پروفیسر کے مطابق تعلیم کے بڑھتے اخراجات اور مہنگائی بھی کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کو تعلیم کے بجائے روزگار کو ترجیح دینے پر مجبور کر رہی ہے، جس کے اثرات سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اور حتیٰ کہ کالج کی سطح پر بھی نظر آ رہے ہیں۔
نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق ایک اہم ساختی مسئلہ ادارہ جاتی تسلسل کا فقدان ہے۔ ملک میں صرف 5.4 فیصد اسکول ایسے ہیں جہاں پہلی سے 12ویں جماعت تک مسلسل تعلیم ایک ہی ادارے میں دستیاب ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر طلبہ کو دسویں جماعت کے بعد اسکول تبدیل کرنا پڑتا ہے، جس سے تعلیم ترک کرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں دشوار گزار جغرافیہ، ہائر سیکنڈری اسکولوں کا محدود نیٹ ورک اور طویل سفری فاصلے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
رپورٹ میں جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام میں کئی دیگر دباؤ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں 146 ایسے اسکول جہاں ایک بھی طالب علم داخل نہیں، حالانکہ وہاں 61 اساتذہ تعینات ہیں؛ 1,371 سنگل ٹیچر اسکول جہاں مجموعی طور پر 32 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں؛ صرف 16.5 فیصد اسکولوں میں فعال اسمارٹ کلاس رومز؛ اور خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے صرف 45.4 فیصد اسکولوں میں ریمپ کی سہولت شامل ہے۔
اگرچہ یہ عوامل براہِ راست جی ای آر میں کمی کی وجوہات قرار نہیں دیے گئے، تاہم رپورٹ کے مطابق یہ وسائل اور معیار سے متعلق وسیع تر خلا کی عکاسی کرتے ہیں جو طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
اس پس منظر میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے 24 اگست کو سری نگر میں محکمہ اسکولی تعلیم کا جائزہ اجلاس منعقد کیا، جس میں ہائر سیکنڈری سطح کی کم شرحِ داخلہ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اجلاس میں 714 ہائی اسکولوں کو مرحلہ وار مکمل K-12 (پہلی سے 12ویں جماعت تک) کمپوزٹ اسکولوں میں اپ گریڈ کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔
حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد اسکولی تعلیم میں تسلسل یقینی بنانا، 11ویں اور 12ویں جماعت تک رسائی بڑھانا اور دسویں جماعت کے بعد طلبہ کے اسکول چھوڑنے کے رجحان میں کمی لانا ہے۔
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں سینئر سیکنڈری تعلیم کو وسعت دینے کے لیے ضرورت پر مبنی اور خصوصی توجہ مرکوز حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا، بالخصوص دور دراز علاقوں میں رسائی بہتر بنانے پر۔
نیتی آیوگ کی رپورٹ نے جموں و کشمیر کی 44.8 فیصد ہائر سیکنڈری جی ای آرکو ملک بھر میں ابتدائی تعلیم کے بعد تعلیمی تسلسل کے کمزور ہونے کے وسیع تر مسئلے کا حصہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں ایک اہم پالیسی حل کے طور پر پہلی سے 12ویں جماعت تک مسلسل تعلیم فراہم کرنے والے کمپوزٹ اسکولوں کے فروغ کی سفارش کی گئی ہے تاکہ دسویں جماعت کے بعد طلبہ کو ادارہ تبدیل نہ کرنا پڑے۔
اس کے علاوہ سفارشات میں دور دراز علاقوں میں رسائی برقرار رکھتے ہوئے وسائل کے بہتر استعمال کے لیے شواہد پر مبنی اسکول ریشنلائزیشن، اسکول کمپلیکس کے ذریعے اساتذہ، لیبارٹریز اور بنیادی ڈھانچے کی مشترکہ فراہمی، 11ویں اور 12ویں جماعت کے لیے بنیادی سہولیات اور اساتذہ کی تعیناتی مضبوط بنانا، ڈیجیٹل اور براڈکاسٹ تعلیم کو وسعت دینا، پیشہ ورانہ تعلیم کو مربوط کرنا اور دسویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑنے کے خطرے سے دوچار طلبہ کے لیے مساوات پر مبنی اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ اور حکومت کے اقدامات دونوں ایک واضح ترجیح کی طرف اشارہ کرتے ہیں: دسویں جماعت کے بعد طلبہ کی تعلیمی شمولیت میں آنے والی شدید کمی پر قابو پانا جموں و کشمیر میں تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔(بشکریہ انڈیا ٹو ڈے)
۔۔۔۔۔(اشفاق تانترے)









