سری نگر؍ یکم ستمبر
عوامی صحت اور سماجی بہبود کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی زیرِ قیادت حکومت نے کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ مینجمنٹ فنڈ فار پُور میں جامع اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے کینسر مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ پر پڑنے والے علاج کے اخراجات کا بوجھ کم کرنا ہے۔
نئی پالیسی ان مالی مشکلات کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے جن کے باعث کم آمدنی والے خاندان کینسر کے علاج کے دوران شدید مالی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ بڑے آپریشنز اور داخل مریضوں کے علاج اور تھراپی کی بڑی ضروریات آیوشمان بھارت‘ پی ایم جے اے وائی صحت‘ اسکیم کے تحت عمومی طور پر پوری ہو جاتی ہیں، تاہم مریضوں کو بیرونی مریضوں کے علاج، معمول کی تشخیص اور روزمرہ ادویات پر بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے تھے۔
نئی ہدایات کے تحت فنڈ سے استفادے کے لیے خاندان کی سالانہ آمدنی کی حد۲ء۴۰ لاکھ روپے سے بڑھا کر۴ لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اس طرح مزید کم آمدنی والے خاندان بھی اس حفاظتی مالی دائرے میں شامل ہو سکیں گے۔
انتظامیہ نے کینسر کے علاج اور صحت یابی کے طویل عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے پرانی ایک مرتبہ کی مالی امداد کی شرط ختم کر دی ہے اور اب ضرورت کے مطابق تین الگ مالی منظوریوں تک گنجائش فراہم کی گئی ہے۔
نظرثانی شدہ اسکیم کے تحت سالانہ۳ لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے خاندانوں کو۷۵ ہزار روپے جبکہ۳ لاکھ سے۴ لاکھ روپے تک سالانہ آمدنی رکھنے والے خاندانوں کو۵۰ ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔
مزید برآں، مستحقین کو اب علاج کے لیے کسی محدود فہرست تک پابند نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ آیوشمان بھارت‘ پی ایم جے اے وائی صحت نیٹ ورک کے تحت پینل میں شامل کسی بھی اسپتال سے علاج کروا سکیں گے۔
نظرثانی شدہ نظام میں امداد کی رقم اسپتال کے کھاتے میں منتقل کرنے کے روایتی طریقے کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب مالی امداد ڈائریکٹ بینفٹ ٹرانسفر کے ذریعے براہِ راست مریض کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
حکومت نے یہ بھی مقرر کیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے مالی منظوری ملنے کے بعد متعلقہ ڈپٹی کمشنر وزیرِ اعلیٰ سیکریٹریٹ سے رقم جاری ہونے کے۷۲ گھنٹوں کے اندر منظور شدہ رقم مستحق کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کریں گے۔
حکومت کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد جان لیوا بیماری سے لڑنے والے غریب مریضوں کی مالی کمزوری کو کم کرنا، علاج تک رسائی بہتر بنانا اور ضرورت مند خاندانوں کو فوری اور مؤثر سرکاری مدد فراہم کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
(ڈی آئی پی آر)









