نیپال جیسے سانحے سے بچاؤ کے لیے جموں و کشمیر میں کیا کچھ کیا جارہا ہے ؟
سرینگر؍یکم ستمبر
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد جموں و کشمیر حکومت نے قدرتی آفات سے نمٹنے اور ممکنہ سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان میں تین اہم پن بجلی منصوبوں پر ابتدائی سیلابی انتباہی نظام کی تنصیب، جی آئی ایس پر مبنی کثیرالجہتی خطراتی اٹلس کی تیاری، ڈیزاسٹر رسک پلاننگ کو مضبوط بنانا اور تعمیراتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد شامل ہے۔
جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر راہل یادو کے مطابق۹۰۰ میگاواٹ بگلیہار پن بجلی منصوبہ، جو ضلع رام بن میں دریائے چناب پر واقع ہے‘۱۰۵ میگاواٹ اپر سندھ منصوبہ، جو ضلع گاندربل میں دریائے سندھ پر قائم ہے، اور۳۷ء۵ میگاواٹ پرنائی پن بجلی منصوبہ، جو سرحدی ضلع پونچھ کے بفلیاز کے قریب دریائے سرن پر تعمیر کیا گیا ہے، میں ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب کے لیے ٹینڈرز جاری کر دیے گئے ہیں۔
یہ فیصلہ جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے، اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے ڈیزاسٹر ریزیلینس مضبوط بنانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں بالخصوص چناب وادی قدرتی آفات سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، جبکہ نیپال میں حالیہ تباہی نے بلند پہاڑی علاقوں میں موجود خطرات پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے نظام کے تحت پن بجلی ڈیموں اور بیراجوں سے اوپر کی جانب اہم مقامات کی نشاندہی کرکے وہاں سینسرز اور مواصلاتی آلات نصب کیے جائیں گے۔ اس نظام کے ذریعے ممکنہ سیلاب کی صورت میں ایک سے دو گھنٹے کا اضافی ردعمل کا وقت حاصل ہونے کی توقع ہے۔
نظام کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانے کے لیے سینسرز میں اضافی متبادل انتظام بھی رکھا جائے گا، تاکہ کسی ایک سینسر کے ناکام ہونے کی صورت میں دوسرا خودکار طور پر کام شروع کر دے۔ آلات، بیٹریوں اور مواصلاتی نظام کی کارکردگی کو بھی حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جائے گا۔
یہ تینوں پن بجلی منصوبے ایسے پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں جہاں بادل پھٹنے، برفانی تودے گرنے اور بلند مقامات پر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔
ضلع کشتواڑ میں گزشتہ سال پڈر کے علاقے چشوتی میں بادل پھٹنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اقدامات کی ضرورت مزید نمایاں کر دی تھی۔ اس واقعے کے بعد محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، بحالی و تعمیر نو کے ماہرین نے متعدد مطالعات کیے۔
کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر پنکج شرما کے مطابق ابتدائی طور پر پورے جموں و کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد گلیشیائی جھیلوں سے پھوٹنے والے ممکنہ سیلاب کا بھی مطالعہ کیا گیا۔ ان مطالعات میں کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن کو لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے انتہائی حساس اضلاع قرار دیا گیا۔
بلند پہاڑی گلیشیائی جھیلوں کے حوالے سے ضلع کشتواڑ کی منڈسکر جھیل کو ’’انتہائی حساس‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق کشتواڑ انتظامیہ نے تقریباً دو ہفتے قبل ڈیزاسٹر سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، بحالی و تعمیر نو کو۳۵ کروڑ روپے کی تجویز بھیجی ہے۔ محکمہ میں ماہرین کی کمیٹی کی منظوری کے بعد اس پر کام شروع کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران بادل پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ سال کشتواڑ کے پڈر علاقے میں چشوتی میں بادل پھٹنے کے بعد آنے والے سیلاب میں کم از کم۵۰؍ افراد ہلاک اور۱۰۰ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ رواں سال جولائی کے وسط میں پونچھ کی سورن کوٹ تحصیل میں بادل پھٹنے سے آنے والے اچانک سیلاب میں کم از کم۱۷؍ افراد ہلاک ہوئے اور سرکاری و نجی بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
رواں سال یکم جون سے اب تک جموں و کشمیر میں تقریباً۳۵ بادل پھٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن کو زیادہ حساس اضلاع میں شمار کیا گیا ہے۔
گزشتہ سال جموں و کشمیر حکومت نے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ جیو انفارمیٹکس کے ماہرین کی ایک سائنسی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ کشمیر ہمالیہ کی پانچ گلیشیائی جھیلیں ممکنہ جی ایل او ایف کے حوالے سے ’’انتہائی زیادہ حساس‘‘ زمرے میں آتی ہیں۔
ان جھیلوں میں برم سر، کریسر، نندگول، بھگسر اور گنگہ بل شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق ان جھیلوں سے ممکنہ گلیشیائی سیلاب کی صورت میں نچلے علاقوں میں موجود۲۷۰۴ عمارتیں، تقریباً۱۵ بڑے پل، سڑکوں کے متعدد حصے اور ایک پن بجلی منصوبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ درجہ بندی۱۵۵ گلیشیائی جھیلوں کے مطالعے کے بعد کی گئی تھی، جس میں جھیلوں کے پھیلاؤ کی رفتار، قدرتی بندوں کا استحکام اور اردگرد کے جغرافیائی حالات سمیت مختلف ہائیڈرو جیو مورفک عوامل کا جائزہ لیا گیا۔
حکام کے مطابق محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، بحالی و تعمیر نو جموں و کشمیر میں ڈیزاسٹر سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے پانچ نکاتی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔اس کے تحت حساس علاقوں کا ڈیجیٹل ٹیرین اور ایلیویشن ماڈلنگ استعمال کرتے ہوئے جی آئی ایس پر مبنی کثیرالجہتی خطراتی اٹلس تیار کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ عمارتوں کے حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے، ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ منصوبوں کو اپ ڈیٹ کرنے اور ماسٹر پلانز میں خطرات میں کمی کے اقدامات شامل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
حکومت ایک ڈیڈیکیٹیڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کی پیش گوئی کے لیے جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت بھی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ساتھ ہی جی ایل او ایف کی نگرانی، خطرناک گلیشیائی جھیلوں کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں کو مستحکم بنانے کے لیے مخصوص اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ان اقدامات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قدرتی آفت آنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے خطرے کی پہلے سے نشاندہی کرکے لوگوں اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری وقت حاصل کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)








