سری نگر؍ یکم ستمبر
نیشنل کانفرنس (این سی) نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو لے کر بدھ کے روز جموں اور سری نگر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفاتر کا پُرامن گھیراؤ کرے گی۔
پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ احتجاج مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے سامنے ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق کیے گئے وعدوں پر جواب دہی کے مطالبے کے لیے کیا جائے گا۔
نیشنل کانفرنس کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی نے مبینہ طور پر عمر عبداللہ حکومت کی جانب سے انتخابی وعدے پورے نہ کیے جانے کے خلاف بدھ کو سری نگر میں سول سیکریٹریٹ کے گھیراؤ کا اعلان کر رکھا ہے۔
این سی نے اپنے مطالبات واضح کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ضمانتیں، جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی، ریزرویشن سے متعلق فائل کی منظوری اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ انصاف اس کی ترجیحات ہیں۔
پارٹی نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام کا مینڈیٹ کوئی خالی چیک نہیں ہے۔ اس کا احترام کیا جانا چاہیے، اسے معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
واضح رہے کہ اگست۲۰۱۹ میں آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں ازسرنو منظم کیا گیا تھا۔ دسمبر۲۰۲۳ میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل۳۷۰ کو منسوخ کرنے کے فیصلے کی آئینی حیثیت برقرار رکھی تھی۔
رواں سال جولائی میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور پارٹی کارکنوں نے نئی دہلی میں جموں و کشمیر ہاؤس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )









