جموں؍ یکم ستمبر
جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے ایک نجی اسکول کے استاد کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے، جسے پانچ سال سے زائد عرصہ قبل ڈوڈہ-کشتواڑ خطے میں حزب المجاہدین کے دہشت گردوں کو مبینہ طور پر پناہ، خوراک اور دیگر لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
خصوصی جج پریم ساگر کی عدالت نے تنویراحمد ملک کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد بادی النظر میں اس کی غیر قانونی اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں مبینہ ملوث ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ملزم کی رہائی سے زیرِ سماعت مقدمہ متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ گواہوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرے۔
ڈوڈہ ضلع کے تنتنا گاؤں کے رہائشی تنویر احمد ملک کو یکم مارچ۲۰۲۱ کو ایک دہشت گردی کے مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ان سات ملزمان میں شامل تھا جن کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے۲۲ مئی۲۰۲۱ کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ان سات ملزمان میں تین ہلاک شدہ دہشت گرد، اسامہ بن جاوید، ہارون عباس وانی اور زاہد حسین بھی شامل تھے۔
یہ مقدمہ ابتدا میں کشتواڑ پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے)، آرمز ایکٹ، نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ اور بھارتی تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ کارروائی اس واقعے کے بعد شروع ہوئی جب ہارون احمد وانی کی قیادت میں دہشت گردوں نے۸ مارچ۲۰۱۹ کو ہیڈ کانسٹیبل دلیپ سنگھ سے اس کی سروس رائفل، تین میگزین اور۹۰ گولیاں چھین لی تھیں۔ دلیپ سنگھ اس وقت کشتواڑ کے اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر کے ایسکارٹ انچارج کے طور پر تعینات تھا اور ایک کرائے کی رہائش گاہ میں مقیم تھا۔
۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )









