تقاریر نہیں بلکہ عملی اقدامات حل ہے
جموں و کشمیر کی معیشت میں سیاحت ہمیشہ سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ ریاست کی شناخت، ثقافت اور قدرتی حسن کا آئینہ دار بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں وادی میں سیاحوں کی ریکارڈ آمد نے ایک طرف معاشی سرگرمیوں کو نئی زندگی بخشی، تو دوسری طرف اس بے ہنگم ہجوم نے ماحولیات، بنیادی ڈھانچے اور قدرتی وسائل پر غیر معمولی دباؤ بھی ڈالا۔ ایسے حالات میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پائیدار سیاحت کی ضرورت پر زور دینا اپنی جگہ ایک مثبت اور بروقت اقدام ہے۔
پائیدار سیاحت سے متعلق ایک کانکلیو میں ان کی تقریر میں ایسے بیشتر نکات شامل تھے جن سے اختلاف کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ہر باشعور شہری اس حقیقت سے واقف ہے کہ اگر کشمیر کے قدرتی حسن کو محفوظ نہ رکھا گیا تو سیاحت کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف اچھی اور دلکش تقاریر سے پائیدار سیاحت کا خواب حقیقت بن سکتا ہے؟ کیا حکومت کی ذمہ داری صرف مسائل کی نشاندہی کرنا ہے یا ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھانا ہیں؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب عوام سننا چاہتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں بار بار اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاحوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے معیاری اور ویلیو بیسڈ ٹورازم کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سو سیاح ایک ایک روپیہ خرچ کریں تو اس سے بہتر ہے کہ ایک سیاح سو روپے خرچ کرے۔ یہ سوچ جدید سیاحتی معیشت کے عین مطابق ہے، کیونکہ دنیا کے کئی ممالک اب ماس ٹورازم کے بجائے کوالٹی ٹورازم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن سوال پھر وہی ہے کہ اس نظریے کو عملی شکل کیسے دی جائے گی؟ اس کے لیے حکومت کی کیا حکمت عملی ہے؟ اس کا کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔
یہ حقیقت ہے کہ کشمیر کی سب سے بڑی دولت اس کے برف پوش پہاڑ، جھیلیں، دریا، چراگاہیں اور سرسبز جنگلات ہیں۔ اگر یہی قدرتی اثاثے آلودگی، بے ہنگم تعمیرات اور بے قابو سیاحتی سرگرمیوں کی نذر ہو جائیں تو پھر سیاحت کی بنیاد ہی ختم ہو جائے گی۔ اس لیے وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پائیداری اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ مگر ضرورت صرف اس احساس کا اظہار کرنے کی نہیں بلکہ اس کے مطابق فیصلے لینے کی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ، دودھ پتھری، یوس مرگ اور ڈل جھیل جیسے مقامات پر جس طرح گاڑیوں کا دباؤ بڑھا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گرمیوں کے موسم میں کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ سیاح بھی پریشان ہوتے ہیں اور مقامی لوگ بھی۔ ایسے میں اگر حکومت واقعی پائیدار سیاحت پر یقین رکھتی ہے تو اسے فوری طور پر ٹریفک مینجمنٹ کا ایک جامع نظام نافذ کرنا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے خود اپنی تقریر میں اس بات کا اعتراف کیا کہ بیرونی ریاستوں سے بڑی تعداد میں نجی گاڑیاں کشمیر آ رہی ہیں، جس سے بنیادی ڈھانچے پر غیر ضروری دباؤ پڑ رہا ہے اور مقامی ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت کو واقعی اس مسئلے کا احساس ہے تو پھر اس کے حل میں رکاوٹ کیا ہے؟ آخر وہ کون سی مجبوری ہے جو حکومت کو فیصلہ لینے سے روک رہی ہے؟
اس کی ایک واضح مثال لداخ ہے۔ وہاں برسوں سے بیرونی سیاح اپنی نجی گاڑیوں کے ذریعے مقامی سیاحتی مقامات پر آزادانہ تجارتی انداز میں نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔ مقامی ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ روزگار بھی محفوظ رہے اور گاڑیوں کی تعداد بھی قابو میں رہے۔ جب لداخ میں ایسا نظام کامیابی سے چل سکتا ہے تو کشمیر میں اس پر سنجیدگی سے غور کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ اگر مکمل پابندی ممکن نہ ہو تو کم از کم حساس علاقوں میں نجی گاڑیوں کے داخلے کو محدود کیا جا سکتا ہے اور شٹل ٹرانسپورٹ یا الیکٹرک پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح وزیر اعلیٰ نے ماحولیات کے تحفظ، فضلہ کے بہتر انتظام، پانی کے تحفظ اور سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کی بات کی۔ یہ تمام نکات درست ہیں، مگر افسوس کہ یہ باتیں گزشتہ کئی برسوں سے ہر سرکاری تقریب میں دہرائی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب تک کتنے سیاحتی مقامات پر مؤثر ویسٹ مینجمنٹ سسٹم قائم کیا گیا؟ کتنے مقامات پر پلاسٹک کے استعمال پر سختی سے عمل درآمد ہوا؟ کتنے افراد پر جرمانے عائد کیے گئے؟ کتنے ہوٹلوں کو ماحول دوست معیار اختیار نہ کرنے پر نوٹس دیے گئے؟ اگر ان سوالات کے جوابات اطمینان بخش نہیں تو پھر محض تقریریں کافی نہیں۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ سیاحتی ممالک میں ماحولیات کو نقصان پہنچانے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ بعض جگہوں پر سیاحوں کی تعداد پہلے سے مقرر ہوتی ہے اور آن لائن اجازت نامے کے بغیر داخلہ ممکن نہیں ہوتا۔ کئی قومی پارکوں میں روزانہ آنے والوں کی حد مقرر ہے تاکہ قدرتی نظام متاثر نہ ہو۔ کشمیر جیسے حساس خطے میں بھی اسی نوعیت کی پالیسیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ہر سیاحتی مقام کی ایک مخصوص گنجائش ہوتی ہے اور ہر جگہ ایک جیسی پالیسی نہیں چل سکتی۔ یہ نہایت اہم نکتہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سائنسی بنیادوں پر ہر مقام کی’کیریئنگ کیپیسٹی‘ کا تعین کرے اور پھر اس کے مطابق قانون سازی بھی کرے۔ اگر کسی مقام پر ایک دن میں پانچ ہزار افراد کی گنجائش ہے تو وہاں دس ہزار افراد کو جانے کی اجازت دینا خود حکومت کی پالیسی کی ناکامی ہوگی۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف سیاحت کے فروغ کی تشہیر نہ کرے بلکہ سیاحت کے نظم و نسق کو بھی اسی سنجیدگی سے لے۔ نئے سیاحتی مقامات کھولنے کے ساتھ ساتھ موجودہ مقامات پر دباؤ کم کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ دیہی سیاحت، ماحولیاتی سیاحت، ثقافتی سیاحت اور مذہبی سیاحت کو متوازن انداز میں فروغ دیا جائے تاکہ سیاحوں کا دباؤ چند مخصوص مقامات تک محدود نہ رہے۔
اسی طرح تعمیراتی ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔ گزشتہ برسوں میں کئی سیاحتی علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات نے قدرتی حسن کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر ماسٹر پلان موجود ہے تو پھر اس پر بلاامتیاز عمل ہونا چاہیے۔ قانون صرف کمزور لوگوں کے لیے نہیں بلکہ ہر بااثر فرد پر بھی یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ یہی طرزِ حکمرانی عوام کا اعتماد بحال کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نے جن مسائل کی نشاندہی کی، وہ تمام مسائل حقیقی ہیں اور ان کے حل کی ضرورت بھی فوری ہے۔ لیکن ان کی تقریر سن کر ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کسی مبصر یا پالیسی تجزیہ کار کی حیثیت سے تجاویز دے رہے ہوں، حالانکہ وہ خود حکومت کے سربراہ ہیں۔ عوام ان سے تجاویز نہیں بلکہ فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں۔ ان کے پاس اختیار بھی ہے، انتظامیہ بھی، قانون سازی کی طاقت بھی اور پالیسی نافذ کرنے کا مکمل موقع بھی۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایک واضح اور قابلِ عمل’پائیدار سیاحت روڈ میپ‘ جاری کرے، جس میں ہر اقدام کی مدت، ذمہ دار ادارے، مالی وسائل اور نگرانی کا نظام واضح ہو۔ صرف کانفرنسوں، سیمیناروں اور تقاریر سے نہ ماحول محفوظ ہوگا، نہ ٹریفک کم ہوگا، نہ ڈل جھیل صاف ہوگی اور نہ ہی کشمیر کی قدرتی خوبصورتی آئندہ نسلوں تک منتقل ہو سکے گی۔



