پیر, اکتوبر 19, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کا نظام۲۰۲۹ کے عام انتخابات تک نافذ ہو سکتا ہے:جے پی سی سی سربراہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-11
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کا نظام۲۰۲۹ کے عام انتخابات تک نافذ ہو سکتا ہے:جے پی سی سی سربراہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

 بیک وقت انتخابات کے حق میں۹۹ فیصد سول سوسائٹی کی تائید ‘ بار بار انتخابات سے ملک کو۷ لاکھ کروڑ روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے‘
ایجنسیاں
پناجی؍۱۰ جولائی
بیک وقت انتخابات سے متعلق بلوں کا جائزہ لینے والی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی(جے پی سی سی ) کے چیئرمین پی پی چودھری نے جمعہ کے روز کہا کہ کمیٹی ایسے نظام کی تشکیل پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کی اصلاحات کو۲۰۲۹ کے عام انتخابات تک مکمل طور پر نافذ کیا جا سکے۔
گوا میں کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نے دعویٰ کیا کہ اب تک مشاورت میں شامل کیے گئے سول سوسائٹی کے تقریباً۹۹ فیصد نمائندوں نے اس تجویز کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد بار بار انتخابات کے باعث ہونے والے تقریباً۷ لاکھ کروڑ روپے کے معاشی نقصان کو روکنا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی نے گوا میں آئین(۱۲۹ ویں ترمیمی) بل‘۲۰۲۴ پر غور و خوض کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت اور ان کی کابینہ کے ارکان سے ملاقات کی اور بیک وقت انتخابات کے نفاذ میں درپیش چیلنجوں اور ان کے حل کے بارے میں ان کی آراء حاصل کیں۔
چودھری نے کہا’’ہم نے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے وزراء سے غیر رسمی تبادلۂ خیال کیا، جو گوا کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم نے اس بات پر گفتگو کی کہ ’یک ملک، ایک انتخاب‘ کو کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے، اس میں کیا مشکلات ہیں اور سب کے لیے قابلِ قبول توازن برقرار رکھتے ہوئے ان مشکلات کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، ہریانہ اور دہلی سمیت کئی ریاستوں کا دورہ کر چکی ہے، جہاں آئینی ماہرین، سول سوسائٹی کی تنظیموں، ماہرینِ تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی گئی۔
راجستھان کے حلقہ پالی سے تعلق رکھنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مشاورت میں شامل ہونے والوں کی بھاری اکثریت نے بیک وقت انتخابات کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے پایا کہ تقریباً۹۹فیصد متعلقہ فریق، بالخصوص سول سوسائٹی اور مختلف تنظیمیں، بیک وقت انتخابات کے حق میں ہیں۔ اب کوشش یہ ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جو تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابلِ قبول ہو‘‘۔
عمل درآمد کے ممکنہ وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر چودھری نے کہا کہ کمیٹی مختلف امکانات کا جائزہ لے رہی ہے اور امکان ہے کہ یہ اصلاحات۲۰۲۹ کے عام انتخابات تک عملی شکل اختیار کر لیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ رضاکارانہ طور پر اپنے انتخابی ادوار کو ہم آہنگ کرنے پر آمادہ ہوں تو اس سے پہلے بھی بعض ریاستوں کو اس نظام کے مطابق لایا جا سکتا ہے۔
اس تجویز کے معاشی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے چودھری نے سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی ایک اقتصادی رپورٹ کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں الگ الگ انتخابات کرانے سے تقریباً۷ لاکھ کروڑ روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے، جبکہ بیک وقت انتخابات سے قومی معیشت کو اتنے ہی حجم کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا’’آج انتخابات صرف ایک ریاست تک محدود نہیں رہتے۔ ملک کے کسی بھی حصے میں انتخابات ہوں تو ان کے اثرات دوسری ریاستوں پر بھی پڑتے ہیں کیونکہ معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے‘‘۔
چودھری نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی بڑی ریاست میں انتخابات ہونے سے گوا میں سیاحوں کی آمد متاثر ہوتی ہے، جبکہ خود گوا میں انتخابات وہاں کی سیاحتی صنعت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا’’آج کی معیشت عالمی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ ایک ریاست میں پیدا ہونے والے منفی اثرات دوسری ریاستوں کو بھی متاثر کرتے ہیں، اس لیے بار بار انتخابات کے اثرات ریاستی سرحدوں سے کہیں آگے تک جاتے ہیں‘‘۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ مسلسل انتخابات حکمرانی کے عمل میں خلل ڈالتے ہیں اور تعلیمی نظام کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، کیونکہ سرکاری اساتذہ کو ووٹر فہرستوں کی تیاری، تربیت اور پولنگ ڈیوٹی سمیت مختلف انتخابی ذمہ داریوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا’’اس کے نتیجے میں سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان معاشی طور پر کمزور طبقات کے ان بچوں کو ہوتا ہے جو سرکاری اسکولوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر یہ صورتحال آئندہ کئی دہائیوں تک جاری رہی تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا‘‘۔
چودھری نے بیک وقت انتخابات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے تصور کردہ ایک’اہم انتخابی اصلاح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارت کو۲۰۴۷ تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا’’وقت کے ساتھ ساتھ تمام تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔ ہمارا مقصد وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور ایسا عملی نظام تیار کرنا ہے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

پائیدار سیاحت :

Next Post

یاتریوں کی سلامتی، سہولت اور بلا رکاوٹ یاترا اولین ترجیح:سنہا

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘
اہم ترین

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

2026-10-18
اگر والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو بچوں کو ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا سوال
اہم ترین

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

2026-10-18
 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
اہم ترین

 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل

2026-10-18
’کشمیر میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اولین ترجیح برقرار رہیں گی‘
اہم ترین

عوام کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی ‘ جواب دہی یقینی بنانے پر زور

2026-10-18
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

 کشتواڑ میں نابالغ لڑکی کی موت کیس میں فرد جرم داخل

2026-10-18
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

جموں میں مبینہ منشیات فروش  گرفتار‘۳۸۵گرام ہیروئن برآمد

2026-10-18
لہیہ میںفوجی ٹینک دریا کے بہاؤ میں بہہ گئی ‘۵ فوجی اہلکار ہلاک
اہم ترین

مرکز نے لداخ کی پہاڑی  ترقیاتی کونسلوں کے ڈھانچے  اور انتخابی قواعد میں ترمیم کر دی

2026-10-18
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

آئی ٹی آئی اداروں کی جدید  کاری کیلئے۴۷۵ کروڑ روپے  منظوری پر عمر کا مرکزکا شکریہ

2026-10-18
Next Post
یاتریوں کی سلامتی، سہولت اور بلا رکاوٹ یاترا اولین ترجیح:سنہا

یاتریوں کی سلامتی، سہولت اور بلا رکاوٹ یاترا اولین ترجیح:سنہا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.