بیک وقت انتخابات کے حق میں۹۹ فیصد سول سوسائٹی کی تائید ‘ بار بار انتخابات سے ملک کو۷ لاکھ کروڑ روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے‘
ایجنسیاں
پناجی؍۱۰ جولائی
بیک وقت انتخابات سے متعلق بلوں کا جائزہ لینے والی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی(جے پی سی سی ) کے چیئرمین پی پی چودھری نے جمعہ کے روز کہا کہ کمیٹی ایسے نظام کی تشکیل پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کی اصلاحات کو۲۰۲۹ کے عام انتخابات تک مکمل طور پر نافذ کیا جا سکے۔
گوا میں کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نے دعویٰ کیا کہ اب تک مشاورت میں شامل کیے گئے سول سوسائٹی کے تقریباً۹۹ فیصد نمائندوں نے اس تجویز کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد بار بار انتخابات کے باعث ہونے والے تقریباً۷ لاکھ کروڑ روپے کے معاشی نقصان کو روکنا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی نے گوا میں آئین(۱۲۹ ویں ترمیمی) بل‘۲۰۲۴ پر غور و خوض کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت اور ان کی کابینہ کے ارکان سے ملاقات کی اور بیک وقت انتخابات کے نفاذ میں درپیش چیلنجوں اور ان کے حل کے بارے میں ان کی آراء حاصل کیں۔
چودھری نے کہا’’ہم نے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے وزراء سے غیر رسمی تبادلۂ خیال کیا، جو گوا کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہم نے اس بات پر گفتگو کی کہ ’یک ملک، ایک انتخاب‘ کو کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے، اس میں کیا مشکلات ہیں اور سب کے لیے قابلِ قبول توازن برقرار رکھتے ہوئے ان مشکلات کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، ہریانہ اور دہلی سمیت کئی ریاستوں کا دورہ کر چکی ہے، جہاں آئینی ماہرین، سول سوسائٹی کی تنظیموں، ماہرینِ تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی گئی۔
راجستھان کے حلقہ پالی سے تعلق رکھنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مشاورت میں شامل ہونے والوں کی بھاری اکثریت نے بیک وقت انتخابات کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے پایا کہ تقریباً۹۹فیصد متعلقہ فریق، بالخصوص سول سوسائٹی اور مختلف تنظیمیں، بیک وقت انتخابات کے حق میں ہیں۔ اب کوشش یہ ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جو تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابلِ قبول ہو‘‘۔
عمل درآمد کے ممکنہ وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر چودھری نے کہا کہ کمیٹی مختلف امکانات کا جائزہ لے رہی ہے اور امکان ہے کہ یہ اصلاحات۲۰۲۹ کے عام انتخابات تک عملی شکل اختیار کر لیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ رضاکارانہ طور پر اپنے انتخابی ادوار کو ہم آہنگ کرنے پر آمادہ ہوں تو اس سے پہلے بھی بعض ریاستوں کو اس نظام کے مطابق لایا جا سکتا ہے۔
اس تجویز کے معاشی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے چودھری نے سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی ایک اقتصادی رپورٹ کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں الگ الگ انتخابات کرانے سے تقریباً۷ لاکھ کروڑ روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے، جبکہ بیک وقت انتخابات سے قومی معیشت کو اتنے ہی حجم کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا’’آج انتخابات صرف ایک ریاست تک محدود نہیں رہتے۔ ملک کے کسی بھی حصے میں انتخابات ہوں تو ان کے اثرات دوسری ریاستوں پر بھی پڑتے ہیں کیونکہ معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے‘‘۔
چودھری نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی بڑی ریاست میں انتخابات ہونے سے گوا میں سیاحوں کی آمد متاثر ہوتی ہے، جبکہ خود گوا میں انتخابات وہاں کی سیاحتی صنعت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا’’آج کی معیشت عالمی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ ایک ریاست میں پیدا ہونے والے منفی اثرات دوسری ریاستوں کو بھی متاثر کرتے ہیں، اس لیے بار بار انتخابات کے اثرات ریاستی سرحدوں سے کہیں آگے تک جاتے ہیں‘‘۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ مسلسل انتخابات حکمرانی کے عمل میں خلل ڈالتے ہیں اور تعلیمی نظام کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، کیونکہ سرکاری اساتذہ کو ووٹر فہرستوں کی تیاری، تربیت اور پولنگ ڈیوٹی سمیت مختلف انتخابی ذمہ داریوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا’’اس کے نتیجے میں سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان معاشی طور پر کمزور طبقات کے ان بچوں کو ہوتا ہے جو سرکاری اسکولوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر یہ صورتحال آئندہ کئی دہائیوں تک جاری رہی تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا‘‘۔
چودھری نے بیک وقت انتخابات کو وزیر اعظم نریندر مودی کے تصور کردہ ایک’اہم انتخابی اصلاح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارت کو۲۰۴۷ تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا’’وقت کے ساتھ ساتھ تمام تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔ ہمارا مقصد وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور ایسا عملی نظام تیار کرنا ہے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔










