ایجنسیاں
سرینگر؍۱۰جولائی
جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر پارکنگ رولز۲۰۲۶ کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے، جن کے تحت تمام میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کونسلوں اور میونسپل کمیٹیوں میں پارکنگ کے انتظام کے لیے ایک جامع نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق پارکنگ فیس اور قواعد کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے کی ادائیگی صرف کیش لیس (ڈیجیٹل) طریقے سے کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ فیس ادا نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ گاڑی کے پہیوں پر وہیل کلمپ لگانے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
قواعد کے تحت تمام شہری بلدیاتی اداروں (اربن لوکل باڈیز) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئندہ چھ ماہ کے اندر سائنسی بنیادوں پر پارکنگ مینجمنٹ پلان تیار کریں تاکہ شہروں میں پارکنگ کے نظام کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے۔
حکومت نے سنٹرل پارکنگ مینجمنٹ سسٹم بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے موبائل ایپ، ایس ایم ایس اور نیشنل کامن موبلٹی کارڈ کے ذریعے ڈیجیٹل پارکنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
نئے نظام کے تحت پارکنگ فیس سے حاصل ہونے والی تمام رقم ایک ایسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے جمع کی جائے گی تاکہ مالی معاملات میں شفافیت برقرار رہے اور سرکاری آمدنی کے ضیاع یا خرد برد کو روکا جا سکے۔
ایجنسیاں
سرینگر؍۱۰جولائی
جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر پارکنگ رولز۲۰۲۶ کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے، جن کے تحت تمام میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کونسلوں اور میونسپل کمیٹیوں میں پارکنگ کے انتظام کے لیے ایک جامع نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق پارکنگ فیس اور قواعد کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے کی ادائیگی صرف کیش لیس (ڈیجیٹل) طریقے سے کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ فیس ادا نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ گاڑی کے پہیوں پر وہیل کلمپ لگانے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
قواعد کے تحت تمام شہری بلدیاتی اداروں (اربن لوکل باڈیز) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آئندہ چھ ماہ کے اندر سائنسی بنیادوں پر پارکنگ مینجمنٹ پلان تیار کریں تاکہ شہروں میں پارکنگ کے نظام کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے۔
حکومت نے سنٹرل پارکنگ مینجمنٹ سسٹم بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے موبائل ایپ، ایس ایم ایس اور نیشنل کامن موبلٹی کارڈ کے ذریعے ڈیجیٹل پارکنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
نئے نظام کے تحت پارکنگ فیس سے حاصل ہونے والی تمام رقم ایک ایسکرو اکاؤنٹ کے ذریعے جمع کی جائے گی تاکہ مالی معاملات میں شفافیت برقرار رہے اور سرکاری آمدنی کے ضیاع یا خرد برد کو روکا جا سکے۔










