ذیلی سرخی:
وزیر اعلیٰ کا کچھ عناصر پر پروگرام سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا الزام، ملک بھر کے۵۲سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو دعوت
’کاکروچ جنتا پارٹی کو ۲۴ گھنٹوں میں جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت ملی ‘ ہم گزشتہ ۵ دنوں سے اس کے منتظر ہیں ‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۰جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ ان کی جماعت نیشنل کانفرنس۲۰ جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجے (اسٹیٹ ہُڈ) کی بحالی کے مطالبے کے حق میں احتجاج کرنے کے لیے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم بعض عناصر اس پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز۲۰ جولائی کو جنتر منتر پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ مرکزی حکومت پر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
پارٹی نے اس احتجاج میں شرکت کے لیے ملک بھر کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے۵۲ رہنماؤں کو بھی دعوت نامے ارسال کیے ہیں۔
جموں میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ احتجاجی پروگرام کے انعقاد کے لیے ابھی تک اجازت نہیں ملی ہے۔انہوں نے کہا’’۲۰جولائی کو پروگرام ہونا ہے، بشرطیکہ ہمیں اس کی اجازت مل جائے۔ ہم اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’کاکروچ جنتا پارٹی کو احتجاج کی اجازت۲۴ گھنٹوں کے اندر مل گئی، جبکہ نیشنل کانفرنس گزشتہ چار سے پانچ دن سے اجازت کی منتظر ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ کچھ لوگ نیشنل کانفرنس کے پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم گزشتہ چار، پانچ دن سے کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے پروگرام کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی تاریخیں تبدیل کر کے ہمارے پروگرام کی تاریخوں سے ملا دی ہیں‘‘۔ تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔
جن رہنماؤں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے ان میں کانگریس کی سونیا گاندھی، ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی، ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن، ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی، سماجوادی پارٹی کے اکھیلیش یادو، بی ایس پی کی مایاوتی، آر جے ڈی کے لالو پرساد یادو، این سی پی (شرد پوار گروپ) کے شرد پوار، شیو سینا (ادھو دھڑے) کے ادھو ٹھاکرے، عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال، وائی ایس آر کانگریس کے وائی ایس جگن موہن ریڈی، بی آر ایس کے کے چندر شیکھر راؤ، اے آئی ایم آئی ایم کے اسدالدین اویسی اور شرومنی اکالی دل کے سکھبیر سنگھ بادل شامل ہیں۔
دعوت نامہ حاصل کرنے والوں میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور تملگا ویٹری کزگم کے سربراہ سی جوزف وجے، سی پی آئی کے ڈی راجہ اور راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل بھی شامل ہیں۔
جموں و کشمیر سے جن شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے ان میں سابق وزرائے اعلیٰ غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی، جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ست پال شرما، اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری، پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) کے رہنما ایم وائی تاریگامی، رکن پارلیمنٹ اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید شامل ہیں۔
اس کے علاوہ میرواعظ کشمیر میرواعظ عمر فاروق، جو متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) کے سربراہ بھی ہیں، اور جموں و کشمیر کے گرینڈ مفتی مفتی ناصر الاسلام کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ (ایجنسیاں)









