کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کے تعلیمی اداروں میں تشکیل پاتا ہے۔ یہیں نئی نسل سوچنے، سمجھنے اور اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو جاننے کا شعور حاصل کرتی ہے۔ اسی لیے اسکولوں کی لائبریریوں میں رکھی جانے والی ہر کتاب محض مطالعے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری امانت ہوتی ہے۔ اگر اسی امانت میں غفلت برتی جائے اور ایسا مواد سرکاری تعلیمی اداروں تک پہنچ جائے جس پر علیحدگی پسندانہ یا ملک مخالف بیانیے کی ترویج کا الزام ہو، تو یہ ایک معمولی انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جو پورے نظامِ نگرانی، جوابدہی اور تعلیمی پالیسی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
جموں و کشمیر میں سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں دو ایسی کتابوں کی موجودگی پر پیدا ہونے والا تنازع اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ حکومت نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کتابیں واپس لینے، محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کرنے، دو ناشروں کو بلیک لسٹ کرنے، محکمانہ تحقیقات کا حکم دینے اور یو اے پی اے سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔
اس کے بعد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام تعلیمی اداروں، جامعات، کالجوں اور لائبریریوں کا جامع آڈٹ کرانے، قابل اعتراض مواد فوری ہٹانے اور کتابوں کی خریداری کے لیے سخت جانچ پر مبنی نیا معیاری طریقۂ کار وضع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ تمام فیصلے اپنی جگہ اہم اور ضروری ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم یہ جاننا ہے کہ آخر ایسا ہوا کیسے؟
سرکاری اسکولوں کے لیے کتابوں کی خریداری کوئی انفرادی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں، کتابوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، سفارشات مرتب ہوتی ہیں، مختلف سطحوں پر منظوری دی جاتی ہے اور اس کے بعد ہی کتابیں لائبریریوں تک پہنچتی ہیں۔ اگر اس پورے عمل کے باوجود ایسا مواد منتخب ہو گیا جس پر بعد میں سنگین اعتراضات سامنے آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں جانچ کے پورے نظام میں ایک بنیادی کمزوری موجود ہے۔ اس کمزوری کی نشاندہی اور اصلاح چند افراد کی معطلی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو مختلف ناشروں اور دو مختلف مصنفین کی کتابیں تقریباً ایک ہی نوعیت کے مندرجات کے ساتھ ایک ہی خریداری کے عمل میں منتخب ہوئیں۔ اگر تحقیقات میں یہ بات درست ثابت ہوتی ہے تو اس کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہوگا۔ کیا یہ صرف اتفاق تھا، یا انتخاب کے عمل میں کسی منظم غفلت یا غیر معمولی رابطے کا کردار بھی موجود تھا؟ ایسے سوالات کے جواب قیاس آرائیوں سے نہیں بلکہ غیر جانبدار، شفاف اور پیشہ ورانہ تحقیقات سے ہی مل سکتے ہیں۔
یہ پہلو بھی کم اہم نہیں کہ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں سے ایک کتاب کئی برس پہلے بھی شائع ہو چکی تھی۔ اگر اس کے مندرجات واقعی قابل اعتراض تھے تو اتنے طویل عرصے تک اس پر کسی سطح پر اعتراض کیوں نہیں کیا گیا؟ تعلیمی حلقوں، متعلقہ محکموں اور نگرانی کے اداروں کی ذمہ داری صرف نئی کتابوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پہلے سے زیر استعمال مواد کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے۔ بدلتے ہوئے حالات میں کتابوں کا ازسرنو معائنہ ایک معمول کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی تنازع کے بعد اختیار کیا جانے والا ہنگامی اقدام۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جموں و کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، شدت پسندی اور سرحد پار سے ہونے والی دراندازی جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ایسے حساس خطے میں تعلیمی مواد کی جانچ کا عمل ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذمہ داری اور احتیاط کا متقاضی ہے۔ اس لیے اگر کہیں غفلت ہوئی ہے تو اس کا احتساب ضرور ہونا چاہیے، لیکن احتساب کا معیار قانون، شواہد اور انصاف ہونا چاہیے، نہ کہ جذبات یا سیاسی دباؤ۔
لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، جامعات، کالجوں اور لائبریریوں کا جامع آڈٹ کرانے کی ہدایت بروقت قدم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل ذخائر کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی موجودہ دور کی ضرورت ہے، کیونکہ آج طلبہ صرف چھپی ہوئی کتابوں سے ہی نہیں بلکہ آن لائن ذرائع سے بھی علم حاصل کرتے ہیں۔ اگر نگرانی صرف مطبوعہ مواد تک محدود رہی تو اصلاح کا مقصد مکمل نہیں ہو سکے گا۔
تاہم صرف آڈٹ کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت ایک ایسے شفاف اور قابل اعتماد نظام کی ہے جس میں کتابوں کے انتخاب کے ہر مرحلے کی ذمہ داری واضح ہو۔ ماہرین تعلیم، مؤرخین، زبان و ادب کے ماہرین، سماجی علوم کے اسکالرز اور متعلقہ شعبوں کے غیر جانب دار ماہرین پر مشتمل پینل تشکیل دیا جائے جو کتابوں کا صرف رسمی نہیں بلکہ تفصیلی علمی جائزہ لے۔ ہر سفارش ریکارڈ پر ہو اور ہر منظوری کی جوابدہی بھی طے ہو تاکہ آئندہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ کتاب پڑھے بغیر منظور کر دی گئی تھی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاملے کو سیاسی اختلافات کا میدان بنانے کے بجائے تعلیمی اصلاحات کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جائے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں کا مشترکہ مفاد اسی میں ہے کہ طلبہ کو ایسا تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے جہاں علم، تحقیق، تنقیدی فکر اور آئینی اقدار کو فروغ ملے۔ اگر ہر تعلیمی معاملہ سیاسی الزام تراشی کی نذر ہوتا رہا تو نہ مسائل حل ہوں گے اور نہ عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔
ایک اور حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ آج کے دور میں کوئی بھی سرکاری دستاویز یا کتاب چند لمحوں میں عالمی سطح پر پہنچ سکتی ہے۔ اگر کسی سرکاری ادارے سے شائع یا خریدی گئی کتاب میں واقعی ایسا مواد موجود ہو جو بھارت کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا سکے تو اس کے سفارتی اور سیاسی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کتابوں کی جانچ صرف تعلیمی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ تعلیمی شعبے میں نگرانی کا نظام مسلسل نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے۔ صرف نصابی کتابیں ہی نہیں بلکہ لائبریریوں میں رکھی جانے والی ہر کتاب، ڈیجیٹل مواد اور دیگر تعلیمی وسائل کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے۔ دنیا بھر میں تعلیمی ادارے اپنے ذخیرۂ کتب کا باقاعدہ آڈٹ کرتے ہیں تاکہ فرسودہ، غلط یا متنازع مواد کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ جموں و کشمیر میں بھی اب اسی روایت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔
سرکاری کارروائیوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ کتنے افسر معطل ہوئے یا کتنی کتابیں واپس لی گئیں، بلکہ یہ ہوگا کہ آئندہ ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ اگر اس بحران کے بعد کتابوں کے انتخاب، نگرانی اور جوابدہی کا مضبوط نظام قائم ہو جاتا ہے تو یہ ایک تلخ تجربہ مستقبل کی بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر معاملہ صرف وقتی کارروائیوں اور سرخیوں تک محدود رہا تو چند برس بعد کوئی نیا تنازع اسی نوعیت کے سوالات کے ساتھ دوبارہ ہمارے سامنے ہوگا۔
جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں کو سیاسی، نظریاتی اور انتہاپسندانہ کشمکش سے دور رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ نئی نسل کو ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں اختلافِ رائے کی گنجائش ہو، تحقیق کی آزادی ہو، مگر ساتھ ہی آئینی اقدار، قومی یکجہتی اور علمی دیانت بھی ہر تعلیمی سرگرمی کی بنیاد ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کا اعتماد بحال کرے گا، تعلیمی اداروں کی ساکھ مضبوط کرے گا اور آنے والی نسلوں کو ایک متوازن، ذمہ دار اور باشعور شہری بننے میں مدد دے گا۔
کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کے تعلیمی اداروں میں تشکیل پاتا ہے۔ یہیں نئی نسل سوچنے، سمجھنے اور اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو جاننے کا شعور حاصل کرتی ہے۔ اسی لیے اسکولوں کی لائبریریوں میں رکھی جانے والی ہر کتاب محض مطالعے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری امانت ہوتی ہے۔ اگر اسی امانت میں غفلت برتی جائے اور ایسا مواد سرکاری تعلیمی اداروں تک پہنچ جائے جس پر علیحدگی پسندانہ یا ملک مخالف بیانیے کی ترویج کا الزام ہو، تو یہ ایک معمولی انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جو پورے نظامِ نگرانی، جوابدہی اور تعلیمی پالیسی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
جموں و کشمیر میں سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں دو ایسی کتابوں کی موجودگی پر پیدا ہونے والا تنازع اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ حکومت نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کتابیں واپس لینے، محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کرنے، دو ناشروں کو بلیک لسٹ کرنے، محکمانہ تحقیقات کا حکم دینے اور یو اے پی اے سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔
اس کے بعد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام تعلیمی اداروں، جامعات، کالجوں اور لائبریریوں کا جامع آڈٹ کرانے، قابل اعتراض مواد فوری ہٹانے اور کتابوں کی خریداری کے لیے سخت جانچ پر مبنی نیا معیاری طریقۂ کار وضع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ تمام فیصلے اپنی جگہ اہم اور ضروری ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم یہ جاننا ہے کہ آخر ایسا ہوا کیسے؟
سرکاری اسکولوں کے لیے کتابوں کی خریداری کوئی انفرادی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں، کتابوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، سفارشات مرتب ہوتی ہیں، مختلف سطحوں پر منظوری دی جاتی ہے اور اس کے بعد ہی کتابیں لائبریریوں تک پہنچتی ہیں۔ اگر اس پورے عمل کے باوجود ایسا مواد منتخب ہو گیا جس پر بعد میں سنگین اعتراضات سامنے آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں جانچ کے پورے نظام میں ایک بنیادی کمزوری موجود ہے۔ اس کمزوری کی نشاندہی اور اصلاح چند افراد کی معطلی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو مختلف ناشروں اور دو مختلف مصنفین کی کتابیں تقریباً ایک ہی نوعیت کے مندرجات کے ساتھ ایک ہی خریداری کے عمل میں منتخب ہوئیں۔ اگر تحقیقات میں یہ بات درست ثابت ہوتی ہے تو اس کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہوگا۔ کیا یہ صرف اتفاق تھا، یا انتخاب کے عمل میں کسی منظم غفلت یا غیر معمولی رابطے کا کردار بھی موجود تھا؟ ایسے سوالات کے جواب قیاس آرائیوں سے نہیں بلکہ غیر جانبدار، شفاف اور پیشہ ورانہ تحقیقات سے ہی مل سکتے ہیں۔
یہ پہلو بھی کم اہم نہیں کہ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں سے ایک کتاب کئی برس پہلے بھی شائع ہو چکی تھی۔ اگر اس کے مندرجات واقعی قابل اعتراض تھے تو اتنے طویل عرصے تک اس پر کسی سطح پر اعتراض کیوں نہیں کیا گیا؟ تعلیمی حلقوں، متعلقہ محکموں اور نگرانی کے اداروں کی ذمہ داری صرف نئی کتابوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پہلے سے زیر استعمال مواد کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے۔ بدلتے ہوئے حالات میں کتابوں کا ازسرنو معائنہ ایک معمول کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ کسی تنازع کے بعد اختیار کیا جانے والا ہنگامی اقدام۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جموں و کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، شدت پسندی اور سرحد پار سے ہونے والی دراندازی جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ایسے حساس خطے میں تعلیمی مواد کی جانچ کا عمل ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذمہ داری اور احتیاط کا متقاضی ہے۔ اس لیے اگر کہیں غفلت ہوئی ہے تو اس کا احتساب ضرور ہونا چاہیے، لیکن احتساب کا معیار قانون، شواہد اور انصاف ہونا چاہیے، نہ کہ جذبات یا سیاسی دباؤ۔
لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، جامعات، کالجوں اور لائبریریوں کا جامع آڈٹ کرانے کی ہدایت بروقت قدم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل ذخائر کا جائزہ لینے کا فیصلہ بھی موجودہ دور کی ضرورت ہے، کیونکہ آج طلبہ صرف چھپی ہوئی کتابوں سے ہی نہیں بلکہ آن لائن ذرائع سے بھی علم حاصل کرتے ہیں۔ اگر نگرانی صرف مطبوعہ مواد تک محدود رہی تو اصلاح کا مقصد مکمل نہیں ہو سکے گا۔
تاہم صرف آڈٹ کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت ایک ایسے شفاف اور قابل اعتماد نظام کی ہے جس میں کتابوں کے انتخاب کے ہر مرحلے کی ذمہ داری واضح ہو۔ ماہرین تعلیم، مؤرخین، زبان و ادب کے ماہرین، سماجی علوم کے اسکالرز اور متعلقہ شعبوں کے غیر جانب دار ماہرین پر مشتمل پینل تشکیل دیا جائے جو کتابوں کا صرف رسمی نہیں بلکہ تفصیلی علمی جائزہ لے۔ ہر سفارش ریکارڈ پر ہو اور ہر منظوری کی جوابدہی بھی طے ہو تاکہ آئندہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ کتاب پڑھے بغیر منظور کر دی گئی تھی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاملے کو سیاسی اختلافات کا میدان بنانے کے بجائے تعلیمی اصلاحات کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جائے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، دونوں کا مشترکہ مفاد اسی میں ہے کہ طلبہ کو ایسا تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے جہاں علم، تحقیق، تنقیدی فکر اور آئینی اقدار کو فروغ ملے۔ اگر ہر تعلیمی معاملہ سیاسی الزام تراشی کی نذر ہوتا رہا تو نہ مسائل حل ہوں گے اور نہ عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔
ایک اور حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ آج کے دور میں کوئی بھی سرکاری دستاویز یا کتاب چند لمحوں میں عالمی سطح پر پہنچ سکتی ہے۔ اگر کسی سرکاری ادارے سے شائع یا خریدی گئی کتاب میں واقعی ایسا مواد موجود ہو جو بھارت کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا سکے تو اس کے سفارتی اور سیاسی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کتابوں کی جانچ صرف تعلیمی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ تعلیمی شعبے میں نگرانی کا نظام مسلسل نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے۔ صرف نصابی کتابیں ہی نہیں بلکہ لائبریریوں میں رکھی جانے والی ہر کتاب، ڈیجیٹل مواد اور دیگر تعلیمی وسائل کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے۔ دنیا بھر میں تعلیمی ادارے اپنے ذخیرۂ کتب کا باقاعدہ آڈٹ کرتے ہیں تاکہ فرسودہ، غلط یا متنازع مواد کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ جموں و کشمیر میں بھی اب اسی روایت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔
سرکاری کارروائیوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ کتنے افسر معطل ہوئے یا کتنی کتابیں واپس لی گئیں، بلکہ یہ ہوگا کہ آئندہ ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ اگر اس بحران کے بعد کتابوں کے انتخاب، نگرانی اور جوابدہی کا مضبوط نظام قائم ہو جاتا ہے تو یہ ایک تلخ تجربہ مستقبل کی بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر معاملہ صرف وقتی کارروائیوں اور سرخیوں تک محدود رہا تو چند برس بعد کوئی نیا تنازع اسی نوعیت کے سوالات کے ساتھ دوبارہ ہمارے سامنے ہوگا۔
جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں کو سیاسی، نظریاتی اور انتہاپسندانہ کشمکش سے دور رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ نئی نسل کو ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں اختلافِ رائے کی گنجائش ہو، تحقیق کی آزادی ہو، مگر ساتھ ہی آئینی اقدار، قومی یکجہتی اور علمی دیانت بھی ہر تعلیمی سرگرمی کی بنیاد ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کا اعتماد بحال کرے گا، تعلیمی اداروں کی ساکھ مضبوط کرے گا اور آنے والی نسلوں کو ایک متوازن، ذمہ دار اور باشعور شہری بننے میں مدد دے گا۔


