بدھ, جولائی 15, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-15
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

 

لداخ میں گزشتہ چند برسوں سے جاری آئینی اور جمہوری جدوجہد ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پہلے لداخ میں سات اضلاع کا قیام، پھر ہر ضلع میں خودمختار ہِل ڈیولپمنٹ کونسل قائم کرنے کا فیصلہ اور اس کے ساتھ ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سطح پر ایک بااختیار منتخب ادارہ تشکیل دینے پر سنجیدہ غور و خوض اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جمہوری انداز میں مسلسل، منظم اور پُرامن طریقے سے اٹھائی جانے والی آواز بالآخر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتی ہے۔ اگرچہ لداخ کے عوام کے تمام مطالبات ابھی پورے نہیں ہوئے، لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کی پرامن جدوجہد نے ایک مثبت سمت اختیار کر لی ہے اور اس کے ثمرات آہستہ آہستہ سامنے آ رہے ہیں۔

متعلقہ

ریاستی درجے کی بحالی:

پائیدار سیاحت :

۲۰۱۹ میں آئینی تبدیلیوں کے بعد لداخ کو براہ راست مرکزی انتظام کے تحت لا دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد وہاں کے مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی طبقات نے اپنے آئینی حقوق، شناخت، زمین، روزگار اور اختیارات کے تحفظ کے لیے اختلاف کا اظہار ضرور کیا، لیکن اس اختلاف کو تصادم یا تشدد کی راہ پر نہیں لے جایا گیا۔ مختلف تنظیموں نے باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل مذاکرات، یادداشتوں، عوامی اجتماعات، احتجاجی مظاہروں اور سیاسی رابطوں کا راستہ اختیار کیا۔ سب سے اہم بات یہ رہی کہ اختلاف کے باوجود آئینی دائرے میں رہ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کی گئی۔

آج اگر مرکزی حکومت لداخ کے لیے ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے پر آمادہ ہے جس کے تحت مقامی نمائندوں کو قانون سازی، مالی، انتظامی اور ترقیاتی اختیارات حاصل ہوں گے تو اس کے پس منظر میں یہی مسلسل اور ذمہ دارانہ عوامی جدوجہد کارفرما نظر آتی ہے۔ حکومتوں کے فیصلے ہمیشہ یک طرفہ نہیں رہتے۔ اگر عوام منظم انداز میں، دلیل کے ساتھ اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کریں تو پالیسیوں میں تبدیلی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

یہی تجربہ جموں و کشمیر کے لیے بھی نہایت اہم پیغام رکھتا ہے۔ ریاستی درجے کی بحالی، مکمل جمہوری عمل، اختیارات کی واپسی اور عوامی نمائندگی جیسے معاملات سیاسی جماعتوں کے نعروں سے حل نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے وسیع تر عوامی اتفاقِ رائے، سیاسی بلوغت اور مسلسل جمہوری کوششوں کی ضرورت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں اکثر اوقات مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے سیاسی مفادات کے تحت الگ الگ آواز اٹھاتی ہیں، جس سے مشترکہ مطالبات بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کم از کم ان بنیادی آئینی اور جمہوری مطالبات پر تمام سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، تجارتی تنظیمیں، وکلاء، طلبہ اور دیگر سماجی طبقات ایک مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ مرکز کے ساتھ رابطے اور مذاکرات کا سلسلہ بھی منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوری نظام میں مذاکرات کمزوری نہیں بلکہ مسائل کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوتے ہیں۔ لداخ کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں مسلسل بات چیت نے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کو بھی چاہیے کہ وہ جذباتی بیانات کے بجائے ٹھوس تجاویز کے ساتھ نئی دہلی کے ساتھ سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھائیں اور انہیں وقتی سیاسی حالات سے مشروط نہ کریں۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی خود متعدد مواقع پر جموں و کشمیر کو مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر بھی حکومت کی جانب سے یہی یقین دہانی کرائی گئی اور سپریم کورٹ میں بھی ریاستی درجے کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ یقیناً یہ وعدے عوامی توقعات کو جنم دیتے ہیں اور ان وعدوں کی تکمیل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول اعتماد، مکالمے اور سیاسی استحکام پر مبنی ہو۔

جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے ایک نئے انتظامی اور آئینی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اس دوران امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام ہوا ہے اور سرمایہ کاری کی نئی کوششیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس امن کو سیاسی پیش رفت سے جوڑا جائے تاکہ ترقی کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل بھی پوری قوت سے آگے بڑھے۔ مضبوط جمہوری ادارے ہی کسی بھی معاشرے میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کی بنیاد بنتے ہیں۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دنیا کے بیشتر جمہوری معاشروں میں بڑے آئینی اور سیاسی فیصلے مسلسل گفت و شنید، تحمل، سیاسی بصیرت اور عوامی دباؤ کے امتزاج سے سامنے آئے ہیں۔ نہ حکومتیں ہمیشہ ایک ہی مؤقف پر قائم رہتی ہیں اور نہ عوامی مطالبات ہمیشہ نظر انداز کیے جا سکتے ہیں۔ حالات بدلتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور اگر اعتماد کا ماحول قائم رہے تو پیچیدہ مسائل بھی بتدریج حل ہونے لگتے ہیں۔

لداخ کی حالیہ پیش رفت اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ آئینی راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اگر عوام اپنی بات نظم و ضبط، اتحاد اور دلیل کے ساتھ پیش کریں اور حکومت بھی سنجیدگی سے ان کی آواز سنے تو درمیانی راستہ ضرور نکلتا ہے۔ یہی سوچ جموں و کشمیر میں بھی فروغ پانے کی ضرورت ہے۔

اس وقت سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ جمہوری مقاصد پر اتفاق پیدا کیا جائے۔ ریاستی درجے کی بحالی صرف کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کے عوام کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس مطالبے کو بھی کسی سیاسی مسابقت کے بجائے ایک اجتماعی عوامی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔

ٍ             اگر لداخ میں پرامن جدوجہد اور مسلسل مذاکرات مثبت نتائج کی طرف بڑھ سکتے ہیں تو جموں و کشمیر کے لیے بھی مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ صبر، تدبر، سیاسی یکجہتی اور جمہوری استقامت ہی وہ راستہ ہے جو بالآخر منزل تک پہنچاتا ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وزیراعظم کی جانب سے بارہا کی گئی یقین دہانیوں کو عملی شکل دی جائے گی اور مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو اس کا ریاستی درجہ واپس ملے گا۔ اس دن تک عوامی جدوجہد بھی آئینی، پُرامن، متحد اور مسلسل رہنی چاہیے، کیونکہ جمہوریت میں دیر ہو سکتی ہے، مگر دلیل، استقامت اور اجتماعی عزم کبھی رائیگاں نہیں جاتے

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

۱۳ جولائی کے کتنے سچ ہیں؟

Next Post

 کشمیر کے سنگھاڑوں میں بھاری دھاتوں کی موجودگی کا انکشاف، ڈل جھیل سب سے زیادہ آلودہ: تحقیق

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

صحافت صرف کیمرہ اور مائیک کا نام نہیں

2026-07-03
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

2026-07-02
Next Post
 کشمیر کے سنگھاڑوں میں بھاری دھاتوں کی موجودگی کا انکشاف، ڈل جھیل سب سے زیادہ آلودہ: تحقیق

 کشمیر کے سنگھاڑوں میں بھاری دھاتوں کی موجودگی کا انکشاف، ڈل جھیل سب سے زیادہ آلودہ: تحقیق

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.