تو صاحب سچ یہ ہے کہ سچ ، سچ ہو تا ہے اور کچھ نہیں ہو تا ہے ۔ لیکن اپنے کشمیر میں ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ کشمیر میں سچ کو استثنیٰ حاصل ہے ‘ چھوٹ اور رعایت بھی ۔ یہاں سچ نہیں ہو تا ہے ……. ہوتا ہے ، سچ ہو تا ہے لیکن ایک سچ نہیں ہو تا ہے‘ یہاں بہت سارے سچ ہو تے ہیں ‘ ہر کسی کا ااپنا الگ الگ سچ ہو تا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان الگ الگ سچوں میں کوئی بھی سچ ، سچ نہیں ہو تا ہے ……. بالکل بھی نہیں ہو تا ہے اور یہی ہمارے کشمیر کے سچ کا سچ ہے ‘ تلخ سچ ہے ۔۱۳ جولائی ۱۹۳۱ کا واقعہ ایک سچ ہے ‘لیکن اس واقعہ کا بھی سچ یہ ہے کہ کشمیر میں اس واقعہ کا ایک ہی سچ نہیں ہے ‘بالکل بھی نہیں ہے……. اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر گزرتے سال اس ایک واقعہ کے سچ کے ساتھ اور کئی سچ جڑ جاتے ہیں …….اس سال بھی اس واقعہ کے ساتھ ایک اور سچ جوڑا گیا ہے‘ کل تک یہ سچ ، سچ نہیں تھا ……. لیکن آج اس سچ کو بھی جوڑ لیا گیا ……. اور آئندہ بھی اور کون کون سا سچ جوڑ لیا جائے گا ہم نہیں جانتے ہیں ……. لیکن ہاں اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس واقعہ سے نئے نئے سچ جوڑ نے کا مقصد ہے ……. اور یقیناً اور وہ مقصد یہ ہے کہ کس طرح ۱۳ جولائی کے سچ کے دائیں بائیں ، اوپر نیچے ، آگے پیچھے اتنے سچ جوڑ لئے جائیں کہ ……. کہ کل کو اس واقعہ کا اصل سچ اتنا دھند لا جائے کہ وہ دائیں بائیں،آگے پیچھے ، اوپر نیچے کھڑے کئے گئے ان سچوں میں کہیں دب جائے ، دفن ہو جائے اور ہاں متنازعہ بھی ہو جائے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی جائیداد کے حقیقی مالک کے سامنے دس اور شریک کھڑے کئے جائیں اوراس ملکیت پر اس کی دعویداری کو چیلنج کیا جائے ‘ تاکہ اسے متنازعہ بنایا جائے۔ ۱۳ جولائی ۱۹۳۱ کے واقعہ کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ‘ ایسے سچ گھڑ لئے جاتے ہیں تاکہ اس تاریخی واقعہ کو اس کے صحیح سیاق و سباق سے الگ کرکے کچھ اس طرح پیش کیا جائے کہ جیسے کشمیر میں ۱۲ جولائی ۱۹۳۱ تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا اور ۱۴ جولائی کے بعد پھر سب کچھ پہلے ہی طرح معمول پر آگیا ……. اور ۱۳ جولائی کو جو کچھ بھی ہوا وہ ہوا اور بس کہانی ختم…….یہ بھی اس دن کا ایک سچ ہے ،نیا اور ایک دم تازہ تراشا گیا سچ ۔ ہے نا؟



