کہتے ہیں کہ سمندر میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی لینا سمجھداری نہیں ہے ‘بالکل بھی نہیں ہے ۔ یہ احمقوں والا کام ہو گا اور…….اور اللہ میاں کی قسم ہم بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں ‘ سوفیصد رکھتے ہیں ۔ لیکن کیا کیجئے گا کہ کچھ ہیں جو نہ جانے کس ذعم میں سمندر میں رہتے ہو ئے مگر مچھ سے بیر لیتے ہیں ‘دشمنی لیتے ہیں اور ان میں اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ بھی شامل ہیں۔ نہیں صاحب انہوں نے اپنی میان میں پڑی زنگ آلودہ تلوار باہر نہیں نکالی ‘ اتنے بھی یہ احمق ‘ معاف کیجئے دلیر نہیں ہیں …….ان کی تلوار میان میں ہی ہے اور سڑ رہی ہے ‘ اسے انگ لگ گیا ہے اور وہ اسی زنگ کی نذر ہو جائےگی ۔خیر ! خبر یہ ہے کہ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ وہ بالآخر اپنی کابینہ میں توسیع کرنے جا رہے ہیں اور ممکنہ طور پر یہ اسی ماہ ہو گا اور یہی بات ‘ ان کا یہی اعلان سمندر میں رہتے مگر مچھ سے بیر لینے جیسا ہے ۔اور اللہ میاں کی قسم ہم یہ کوئی مذاق نہیں کررہے ہیں ‘ اجی ہم اس شخص کے بارے میں کیامذاق کریں جو اب گزشتہ ڈیڑھ ماہ……. معاف کیجئے ڈیڑھ سال سے خود ایک مذاق بن کے رہ گیا ہے ۔ اس لئے ہم یہ مذاق نہیں کررہے ہیں اور اس لئے نہیں کررہے ہیں کیونکہ یہ سچ میں مذاق نہیں ہے ۔یہ مذاق نہیں ہے کہ چالیس پچاس ممبران میں سے کچھ ایک دو کو کابینہ میں جگہ دیکر دوسرے ’امیدواروں‘کی امیدوں پر پانی پھینکا جائے ……. یہ کوئی مذاق نہیںہے اور اس لئے نہیں ہے کہ کیا معلوم کہ مذاق مذاق میں جو باتیں ہو رہی ہیں ‘جن کی باز گشت داچھی گام میں بھی سنی گئی ‘ یا سنا دی گئی ‘وہ اس ایک قدم سے سچ ثابت ہوں …….اور یہ بات اپنے وزیر اعلیٰ صاحب جانتے ہیں …….پھر بھی ان کا کابینہ ‘لولی لنگڑی حکومت کی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ ان کی جرأت مندی ظاہر کررہی ہے یا یہ بھی ان کا ایک اور احمقانہ اقدام ہو گا ‘احمقانہ اقداما ثابت ہو گا …….اللہ میاں کی قسم ہم نہیں جانتے ہیں سوائے اس ایک بات کے کہ اگر کہنے والوں نے کہاہے کہ سمندر میں رہ کر مگر مچھ سے بیر لینا عقلمندی نہیں تو ……. تو انہوں نے سچ ہی کہا ہو گا ۔ ہے نا؟




