سرحدی علاقوں تریکانجن بونیار اور سلطان ڈھکی میں منصوبے کا آغاز، لیونڈر آئل پروسیسنگ یونٹ بھی قائم، خوشبودار اور طبی پودوں کی تجارتی کاشت کو فروغ ملے گا
اُوڑی؍۲جولائی
محکمہ زراعت نے ضلع بارہمولہ کے سرحدی قصبہ اُوڑی میں طبی اور خوشبودار پودوں کی کاشت کو فروغ دینے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے مقصد سے لیونڈر کی دو نرسریاں قائم کی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ نرسریاں اُوڑی کے سرحدی علاقوں تریکانجن بونیار اور سلطان ڈھکی میں قائم کی گئی ہیں تاکہ کسانوں کو طبی اور خوشبودار پودوں کی کاشت کو ایک منافع بخش تجارتی سرگرمی کے طور پر اختیار کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
تریکانجن بونیار میں تقریباً۴۰کنال اراضی پر قائم نرسری میں جدید لیونڈر آئل نکالنے اور پروسیسنگ یونٹ بھی نصب کیا گیا ہے، جہاں اعلیٰ معیار کے ضروری تیل اور عطر تیار کیے جائیں گے۔
حکام نے بتایا کہ سلطان ڈھکی میں تقریباً۱۰ کنال رقبے پر قائم نرسری کا بنیادی مقصد معیاری لیونڈر پودے تیار کرکے مقامی کسانوں میں تقسیم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تریکانجن فارم میں لیونڈر کے علاوہ کئی دیگر اعلیٰ قدر کی حامل طبی و خوشبودار اقسام بھی کاشت کی جا رہی ہیں، جن میں روزمیری، سوسوریا کوسٹس (کُٹھ)، برگینیا سیلی ایٹا، آرٹیمیشیا اینوا اور اکورس کیلامس شامل ہیں، جس سے علاقے میں متنوع اور منافع بخش زراعت کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
زرعی ماہر شرن گردیو سنگھ نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد کسانوں کو طبی اور خوشبودار پودوں کی کاشت کو ایک منافع بخش تجارتی شعبے کے طور پر اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔
سنگھ نے بتایا کہ محکمہ کسانوں کو تکنیکی رہنمائی، معیاری پودے اور مسلسل معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ روایتی فصلوں سے ہٹ کر زیادہ منافع بخش فصلوں کی طرف راغب ہو سکیں۔
تریکانجن بونیار کے فارم منیجر فیاض احمد میر نے کہا کہ نرسریوں اور لیونڈر پروسیسنگ یونٹ کا قیام اُوڑی کو طبی اور خوشبودار پودوں کا ایک اہم مرکز بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیونڈر ایک امید افزا نقد آور فصل کے طور پر ابھر رہا ہے، جو مقامی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
نرسریوں کی دیکھ بھال سے وابستہ مقامی مزدوروں نے بتایا کہ پودوں کی بہتر نشوونما کے لیے باقاعدہ دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا’’ہم ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ صفائی اور دیکھ بھال کا کام انجام دیتے ہیں تاکہ پودوں کی مناسب افزائش کو یقینی بنایا جا سکے‘‘۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف کسانوں بلکہ مقامی مزدوروں کے لیے بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ اُوڑی کو جموں و کشمیر میں لیونڈر کی کاشت کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر فروغ ملے گا۔










