ہند پاک میں تنازعہ نیا نہیں ‘ یہ تیس چالیس پرانا ہے :وزیر اعلیٰ
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲ جولائی
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ہونے والے مذاکرات پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
یہاں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کوئی نیا نہیں بلکہ گزشتہ تین سے چار دہائیوں سے جاری ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’یہ تنازعہ۳۰ سے۴۰ برس پرانا ہے اور گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد اس میں مزید شدت آ گئی۔ اب وزیر اعظم کو ایک خط کے ذریعے درخواست کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔ اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
واضح رہے کہ سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے چیئرمین او پی شاہ کی قیادت میں تیار کیے گئے ایک خط پر بھارت کے۶۱؍اور پاکستان کے۵۵ممتاز شہریوں نے دستخط کیے ہیں، جس میں دونوں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دوطرفہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں۔
اس اقدام پر تنقید کرنے والوں پر سوال اٹھاتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر رہنما بھی بھارت اور پاکستان کے تعلقات بہتر بنانے کی حمایت کر چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’حال ہی میں آر ایس ایس کے ایک سینئر رہنما نے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے اور دوست بننا چاہیے۔ جب آر ایس ایس یہ بات کہتی ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا، لیکن جب جموں و کشمیر کے رہنما یہی بات کرتے ہیں تو اسے مسئلہ بنا دیا جاتا ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا’’ہم تو صرف وہی بات کر رہے ہیں جو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کہا کرتے تھے کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوں‘‘۔
ادھر بھارت اور پاکستان کے۱۱۷ ممتاز شہریوں، جن میں جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں، نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکرات بحال کریں اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کریں۔
اس خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق را چیف اے ایس دولت، راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا، سابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی، سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر، پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سمیت متعدد ریٹائرڈ سفارت کار اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں۔
خط میں دونوں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’’جنوبی ایشیا میں امن، معمول کی صورتحال، مذاکرات اور تعاون کی بحالی کے لیے بامعنی اور مسلسل اقدامات‘‘ کریں۔










