شاہ سے بھی زیادہ وفادار!
ہم……. ہم کشمیری بھی بڑے کمال کے ہیں ۔نہیں صاحب خوشی سے اچھلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ وہ کمال نہیں ہے‘ یہ کمال والا کمال نہیں بلکہ زوال والا کمال ہے‘ اس لئے واپس زمین پر آئے ‘اور فرش پر بیٹھ جایئے۔ہم وہ واحد قوم …….اگر ہم کوئی قوم ہے تو ‘ جس میں کچھ ایک باتیں ہول سیل میں مشترک ہیں۔امیر کیا اور غریب کیا‘ بادشاہ کیا اور رعایا کیا ‘سیاستدان کیا اور سائنسدان کیا ……. ہم سب شاہ سے زیادہ وفادار ہیں یا شاہ سے وفادار بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ……. کیوں کرتے رہتے ہیں یہ ہم نہیں جانتے ہیں ‘ لیکن اس میں ایک دوسرے پر سبقت لینے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ہم سے اتنی وفادار ی بادشاہ کو بھی نہیں ہو گی ‘ جتنا ہم وفادار بننے کی کوشش کرتے ہیں یا خود کو وفادار ظاہر کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اللہ میاں کی قسم اس کی ضرورت بھی نہیں ہو تی ہے ‘ لیکن کیا کیجئے گا ہمارے اس ڈی این اے ……. قومی ڈی این اے کا کہ ……. کہ یہ کچھ اس انداز کا بن گیا ہے ‘ اس کی بناوٹ ہی کچھ ایسی ہے ‘یہ کچھ ایسی ساخت کا ہے کہ ہم یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ہم خود کو شاہ سے بھی زیادہ وفادار ثابت کریں ۔اس پر بھی اعتراض نہیں ‘ بالکل بھی نہیں اگر اس سے کچھ حاصل ہو تا ……. لیکن اللہ میاں کی قسم اس سے کچھ حاصل نہیں ہو تا الٹا اس سے رسوائی اور ہماری جگ ہنسائی ہی ہو تی ہے اور ہو نی بھی چاہئے …….اس لئے ہونی چاہئے کہ ہم نے ایک نارمل ……. ایک نارمل قوم ‘ ایک عام قوم کی طرح جینانہیں سیکھا ہے ……. بالکل بھی نہیں سیکھا ہے ۔ایسا نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہو گی …….یقیناً اس کی بھی کوئی وجہ ہو گی ‘ لیکن صاحب ہمارا شاہ سے بھی زیادہ وفادار بننے کیلئے وجہ نہیں ہو نی چاہئے ‘ وجہ نہیں ہو سکتی ہے ۔ ہم تو صاحب کچھ زیادہ نہیں کہیں گے ‘ کچھ زیادہ کہہ بھی نہیں سکتے ہیں سوائے اس ایک بات کے کہ ……. کہ کم بخت شاہ سے بھی زیادہ وفادار بننے کے اس مرض نے ہمارے ہاں ایک ایسی بیماری …….قومی بیماری کو جنم دیا ہے ‘ اسے پیدا کیا ہے‘ اسے پنپنے کا موقع دیا ہے کہ اب یہ ایک لاعلاج مرض بن گیا ہے …….اب لاکھ کوشش کیجئے تو بھی اس کا علاج اب نہیں ہو گا ……. بالکل بھی نہیں ہو گا ۔ہے نا؟




