ہم سوچ رہے تھے کہ الیکشن ……. جموں کشمیر میں اسمبلی الیکشن کب ہیں ۔ جوڑ توڑ کے ہم نے حساب لگایا تو صاحب یہ راز کھل گیا کہ ابھی الیکشن میں تین ساڈھے تین سال کا طویل عرصہ ہے ۔لیکن پھر بھی اپنی بی جے پی کے قومی صدر کاکہنا ہے ……. جموںکشمیر کے کارکنوں سے کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب جموںکشمیر میں بھی بی جے پی کی حکومت ہو گی ۔ایسا ہم نہیں کہہ رہے ہیں ‘ بلکہ بی جے پی کے قومی صدر کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہہ رہے ہیں ‘ ہمیں نہیں معلوم ‘ لیکن جو ایک بات ہمیں معلوم ہے وہ یہ ہے کہ یقینا ً بی جے پی کے قومی صدر کو یہ معلوم ہو گا اور اچھی طرح معلوم ہو گا کہ ……. کہ جموںکشمیر میں ابھی اسمبلی دور نہیں بلکہ بہت دور ہیں ……. پھر انہوں نے ایسا کیوں کہا ،تو یقینا ً انہوں نے یہ بات ہوا میں نہیں کہی ہو گی ……. اس کی کوئی وجہ ہو گی ورنہ یہ اتنا بڑا بیان نہیں دیتے ……. دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ چھوٹا منہ بڑی بات والا معاملہ نہیں ہوتاکیونکہ یہ بڑے منہ والے ہیں اور اس ناطے یہ بڑی بات کر سکتے ہیں ۔اللہ رحم کرے اپنے عمرعبداللہ پر ‘انکی قسمت اچھی ہے ‘ اس لئے اچھی ہے کہ بی جے پی کو جہاں کمل کھلانا ہوتا ہے وہاں وہ ایسا بغیر کسی شور شرابے کے کھلاتی ہے …….کسی کو کانوں کان خبر نہیں رہتی ……. جیسا ہم نے دیکھا ‘ حالیہ کچھ ہفتوں میں ملک کی کچھ ریاستوں میں دیکھا ……. لیکن یہاں تو بی جے پی کھلم کھلا اعلان کر رہی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب جموںکے بعد وادی میں بھی کمل کھل اٹھے گا اور ……. اور عمرعبداللہ کےمنہ پر کہہ رہی ہے ۔اب صاحب ہم اس با ت کا برا منا رہے ہیں اور نہ ہی کوئی غلط مطلب اخذ کررہے ہیں …….بالکل بھی نہیں کررہے ہیں ۔ ہم یہ مان کے چل رہے ہیں کہ ضروری نہیں اور بالکل بھی نہیں کہ بی جے پی، این سی کو توڑ کے اقتدار پر قبضہ کرے ……. یہ ضروری نہیں ہے ……. توڑ کے نہ سہی، جوڑ کے؟ ……. ممکن ہے کہ وہ این سی سے ناطہ جوڑ کے اقتدار میں آجائے اور اسی لئے بی جے پی کے صدر نے کہا ہوگا کہ وہ دن دور نہیں جب بی جے پی جموںکشمیر میں اقتدار میں آجائےگی …….صاحب ایسا ہو سکتا ہے اور سو فیصد ہو سکتا ہے کہ ……. کہ سیاست اور کشمیر میں کبھی بھی اور کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ ہے نا؟




