موسمیاتی بگاڑ، آبی بحران اور ہماری اجتماعی ذمہ داری
جموں و کشمیر میں دسمبر۲۰۲۵سے فروری۲۰۲۶تک کا موسمِ سرما ایک بار پھر معمول سے بہت کم بارشوں کے ساتھ رخصت ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں مجموعی طور پر صرف۱۰۰ء۶ ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ معمول۲۸۴ء۹ملی میٹر تھا، یوں۶۵ فیصد کمی نے اسے گزشتہ سات برسوں کے خشک ترین ادوار میں شامل کر دیا ہے۔ یہ ایک مسلسل رجحان کی خطرناک علامت ہے جسے نظر انداز کرنا آئندہ برسوں میں شدید بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یہ مسلسل ساتواں سال ہے جب سردیوں کی بارش معمول سے کم رہی۔یہ سلسلہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ محض وقتی اتار چڑھاؤ کا نہیں بلکہ موسمیاتی پیٹرن میں ایک مستقل تبدیلی کا ہے۔ اس کے برعکس۲۰۱۶۔۱۷؍اور۲۰۱۸۔۱۹میں سرپلس سردیاں ریکارڈ ہوئی تھیں، جو اب ماضی کی بات محسوس ہوتی ہیں۔
اعداد و شمار کو اگر مہینوں کے حساب سے دیکھا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔ دسمبر میں۷۸فیصد کمی، جنوری میں اگرچہ مغربی ہواؤں کے چند سلسلوں نے۲۳فیصد تک کمی محدود رکھی، لیکن فروری میں تو گویا موسم نے ہاتھ کھینچ لیا۔۱۳۰ء۴ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں صرف۱۴ء۲ ملی میٹر بارش—یعنی۸۹فیصد کمی—نے پورے موسمِ سرما کی اوسط کو بری طرح متاثر کیا۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ یہی فروری غیر معمولی حد تک گرم بھی رہا، جہاں اوسط درجہ حرارت معمول سے تقریباً ۱۰ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا۔ سردیوں کے عروج پر ایسی گرمی اس خطے کی موسمی شناخت کے لیے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
جموں و کشمیر کی معیشت کا بڑا حصہ زرعی اور باغبانی شعبے سے وابستہ ہے۔ سیب، اخروٹ، بادام اور زعفران جیسی فصلیں سردیوں کی برف باری اور نمی پر انحصار کرتی ہیں۔ بلند پہاڑی علاقوں میں جمع ہونے والی برف گرمیوں میں پگھل کر دریاؤں اور ندی نالوں کو زندگی بخشتی ہے، زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو ری چارج کرتی ہے اور کھیتی باڑی کے لیے آبپاشی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر برف باری نہ ہو یا معمول سے کم ہو، تو اس کا اثر براہِ راست فصلوں کی پیداوار، باغات کی صحت اور پینے کے پانی کی دستیابی پر پڑتا ہے۔
عالمی درجہ حرارت میں اضافے نے خطے کے موسمی نظام کو متاثر کیا ہے۔ ہمالیائی خطہ دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سردیوں کا مختصر ہونا، برف باری کا بارش میں تبدیل ہونا، اور فروری جیسے مہینوں کا غیر معمولی گرم ہونا اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہیں۔ جب سردی کی شدت کم ہوتی ہے تو برف جمع ہونے کے بجائے بارش کی صورت میں گرتی ہے، جو فوری طور پر بہہ جاتی ہے اور طویل مدتی ذخیرہ نہیں بن پاتی۔ یوں گرمیوں میں پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ صورتحال شہری منصوبہ بندی کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ اگر آنے والے مہینوں میں بارشیں معمول پر نہ آئیں تو پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ دیہی علاقوں میں چشموں اور کنوؤں کی سطح گرنے کا خدشہ ہے، جبکہ شہری علاقوں میں پانی کی تقسیم کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ توانائی کے شعبے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کا انحصار بھی پانی کے بہاؤ پر ہوتا ہے۔
زرعی شعبے کے لیے فوری حکمت عملی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آبپاشی کے جدید طریقوں کو فروغ دے، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے شروع کرے اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق فصلوں کے انتخاب اور کاشت کے نئے طریقوں سے آگاہ کرے۔ باغبانی کے شعبے میں بھی ایسی اقسام متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو کم نمی اور زیادہ درجہ حرارت برداشت کر سکیں۔
ساتھ ہی موسمیاتی ڈیٹا کے تجزیے اور پیشگوئی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ اگر مغربی ہواؤں کے پیٹرن میں تبدیلی مستقل نوعیت کی ہے تو اس کے مطابق طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ پانی کے ذخائر کی تعمیر، جھیلوں اور آبی ذخائر کی بحالی، اور زیرِ زمین پانی کے بے جا استعمال پر کنٹرول جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ایک اور اہم پہلو عوامی شعور ہے۔ پانی کا بے دریغ استعمال، ندی نالوں پر تجاوزات اور آبی ذخائر کی آلودگی مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اگر ہم نے اپنی روزمرہ عادات میں تبدیلی نہ لائی تو قدرتی کمی کے ساتھ انسانی غفلت بھی شامل ہو جائے گی۔ اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے پانی کے تحفظ اور موسمیاتی ذمہ داری کا پیغام عام کرنا ضروری ہے۔
فروری کی غیر معمولی گرمی ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمارے دروازے پر دستک دے چکی ہے۔ سردیوں کا گرم ہونا صرف ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ زرعی کیلنڈر، پھلوں کے پھولنے کے اوقات اور کیڑوں کے پھیلاؤ تک کو متاثر کرتا ہے۔ اگر درجہ حرارت میں یہی اضافہ جاری رہا تو سیب اور دیگر باغبانی فصلوں کے لیے درکار ’چِل آورز‘ کم ہو سکتے ہیں، جس سے پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہوں گے۔
یہ اداریہ محض خطرات کی نشاندہی کے لیے نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیداری کی اپیل بھی ہے۔ حکومت، ماہرینِ موسمیات، کسان، شہری منصوبہ ساز اور عام شہری—سب کو مل کر اس چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مکمل طور پر روکنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن دانشمندانہ منصوبہ بندی اور وسائل کے بہتر استعمال سے اس کے منفی اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔
جموں و کشمیر کی پہچان اس کی برف پوش وادیاں اور سرد موسم رہے ہیں۔ اگر یہی موسم بدلنے لگے تو یہ صرف موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور معاشی چیلنج بھی ہوگا۔ مسلسل سات خشک سردیوں نے ہمیں خبردار کر دیا ہے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے محض ایک اور موسمی خبر سمجھ کر نظر انداز کریں یا اسے ایک سنجیدہ انتباہ مان کر عملی اقدامات کی طرف بڑھیں۔





