سرینگر میں گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے ایک مرتبہ پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ شہر کا بنیادی ڈھانچہ معمولی بارش کا بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اگرچہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں، بالخصوص راجوری اور پونچھ میں شدید بارشوں نے جانی و مالی نقصان پہنچایا، جو ایک قدرتی آفت کا نتیجہ ہے، لیکن سرینگر میں چند گھنٹوں کی بارش کے بعد اہم شاہراہوں، تجارتی مراکز، رہائشی علاقوں، اسپتالوں، ہوٹلوں اور بازاروں کا زیر آب آ جانا کسی قدرتی آفت سے زیادہ انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور غیر ذمہ دارانہ عمل آوری کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
سرینگر کے بلیوارڈ روڈ، ڈل گیٹ، بوچھوارہ، لال چوک اور دیگر مرکزی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مناظر نے ایک مرتبہ پھر’سمارٹ سٹی‘ منصوبے کی افادیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جواہر لعل نہرو میموریل اسپتال (جے وی سی) جیسے اہم طبی ادارے میں پانی داخل ہو جانا صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک جدید شہر کے اسپتال، بازار اور مرکزی شاہراہیں چند گھنٹوں کی بارش برداشت نہیں کر سکتے تو پھر اربوں روپے کے اس منصوبے کا اصل مقصد کیا تھا؟
سمارٹ سٹی مشن کا بنیادی تصور شہری زندگی کو بہتر بنانا، بنیادی سہولیات کو مضبوط کرنا، نکاس آب، ٹریفک، ماحولیات اور شہری خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ بدقسمتی سے سرینگر میں اس تصور کو زیادہ تر ظاہری خوبصورتی تک محدود کر دیا گیا۔ فٹ پاتھوں کی ازسرنو تعمیر، سڑکوں پر ٹائلیں، سجاوٹی لائٹس، پارکوں کی تزئین اور رنگ و روغن پر تو خطیر سرمایہ خرچ کیا گیا، لیکن شہر کے سب سے اہم مسئلے، یعنی نکاس آب، کو وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سرینگر ایک قدرتی آبی شہر ہے۔ یہاں کی جغرافیائی ساخت، جھیلیں، نالے، دلدلی علاقے اور برساتی پانی کے قدرتی راستے ہمیشہ سے خصوصی منصوبہ بندی کے متقاضی رہے ہیں۔ ماضی میں کئی کئی دن مسلسل بارش ہوتی تھی لیکن شہر اس طرح پانی میں نہیں ڈوبتا تھا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ آدھے گھنٹے کی شدید بارش بھی شہر کو مفلوج کر دیتی ہے۔ اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ قدرتی نکاسی آب کے نظام میں مداخلت، نالوں کی صفائی میں غفلت، دلدلی علاقوں پر تجاوزات اور سائنسی بنیادوں پر شہری منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہر بار بارش کے بعد وہی روایتی بیانات سامنے آتے ہیں کہ پانی نکالنے کا کام جاری ہے، متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور صورت حال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر سال یہی منظرنامہ دہرایا جانا ہے تو پھر گزشتہ برسوں میں اربوں روپے خرچ کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟ عوام کو محض وقتی ریلیف نہیں بلکہ مستقل حل درکار ہے۔
اس وقت سب سے اہم ضرورت صرف پانی نکالنے کی نہیں بلکہ جوابدہی کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سمارٹ سٹی منصوبے کے تحت نکاس آب سے متعلق تمام منصوبوں کا ایک آزاد اور غیر جانبدار تکنیکی آڈٹ کرائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ منصوبہ بندی کس بنیاد پر کی گئی، کن ماہرین نے اس کی منظوری دی، کتنی رقم خرچ ہوئی، کن اداروں نے کام انجام دیا اور کیا منصوبے اپنے اصل مقاصد کے مطابق مکمل ہوئے یا نہیں۔
اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی، ناقص تعمیر، غیر معیاری کام یا مالی بے ضابطگیوں کے باعث عوام کو یہ مشکلات پیش آ رہی ہیں تو ذمہ دار انجینئروں، مشیروں، کنسلٹنٹس، ٹھیکیداروں اور متعلقہ افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ سرکاری منصوبوں میں ناکامی کو صرف تکنیکی خامی قرار دے کر نظر انداز کرنا ایک خطرناک روایت بن چکی ہے۔ جب تک ناقص فیصلوں کی قیمت ذمہ دار افراد کو ادا نہیں کرنی پڑے گی، عوامی وسائل کا ضیاع اسی طرح جاری رہے گا۔
ساتھ ہی حکومت کو فوری طور پر ایک جامع اور سائنسی ’اربن ڈرینیج ماسٹر پلان‘ تیار کرنا چاہیے، جو صرف موجودہ مسائل کا عارضی حل نہ ہو بلکہ آئندہ کئی دہائیوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جائے۔ اس منصوبے میں شہر کے تمام برساتی نالوں کی ازسرنو نقشہ سازی، پانی کے بہاؤ کا ہائیڈرولوجیکل تجزیہ، زیر زمین نکاسی آب کے نظام کی توسیع، جدید پمپنگ اسٹیشنوں کی تنصیب، برساتی پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات، اور حساس علاقوں کی نشاندہی شامل ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ شہر کے تمام نالوں اور ڈرینوں کی سال میں کم از کم دو مرتبہ مشینی صفائی کو لازمی بنایا جائے۔ دلدلی علاقوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر ہر قسم کی تجاوزات ختم کی جائیں، کیونکہ یہی علاقے بارش کے پانی کو جذب کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ شہری منصوبہ بندی کو ماحولیاتی حقائق سے ہم آہنگ کیے بغیر کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی کامیابی ممکن نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ نالوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے کی روش، غیر قانونی تعمیرات اور شہری ضابطوں کی خلاف ورزی مسائل کو مزید بڑھاتی ہے۔ اس لیے عوامی بیداری، سخت نگرانی اور مؤثر بلدیاتی نظام بھی ناگزیر ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، تعمیر اور دیکھ بھال کی اولین ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر ہی عائد ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سمارٹ سٹی کے تصور کو صرف خوبصورت سڑکوں، آرائشی ستونوں اور دلکش فٹ پاتھوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے حقیقی معنوں میں عوامی سہولت کا منصوبہ بنایا جائے۔ ایک شہر اس وقت سمارٹ کہلاتا ہے جب اس کے اسپتال، سڑکیں، بازار اور رہائشی علاقے مشکل ترین حالات میں بھی معمول کے مطابق کام کرتے رہیں، نہ کہ پہلی ہی شدید بارش میں پورا نظام مفلوج ہو جائے۔
حکومت کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔ اگر وہ اس بحران کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کرتی ہے، شفاف تحقیقات کراتی ہے، ناقص منصوبہ بندی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لاتی ہے اور نکاس آب کے جدید اور پائیدار نظام کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ نافذ کرتی ہے تو عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر ہر بارش کے ساتھ یہی سوال گونجتا رہے گا کہ آخر سمارٹ سٹی منصوبے پر خرچ ہونے والے اربوں روپے کا حاصل کیا تھا؟
سرینگر کے شہری یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں ایسا شہر ملے جہاں بارش خوف کی علامت نہ ہو بلکہ قدرت کا حسن محسوس ہو۔ ترقی کا اصل معیار بلند عمارتیں یا خوبصورت فٹ پاتھ نہیں بلکہ ایسا مضبوط بنیادی ڈھانچہ ہے جو ہر موسم میں شہریوں کی حفاظت، سہولت اور اعتماد کی ضمانت بن سکے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر سمارٹ سٹی منصوبے کو پرکھا جانا چاہیے، اور یہی وہ سمت ہے جس کی طرف حکومت کو فوری، سنجیدہ اور جوابدہ اقدامات کے ساتھ پیش قدمی کرنی ہوگی۔




