تو صاحب! فیصلہ سنا دیا گیا ہے، اور جو فیصلہ سنایا گیا ہے، اس کے مطابق خطا کسی اور کی نہیں ہے…….بالکل بھی نہیں ہے، سوائے اس بارش کے۔ قصور اسی کا ہے کہ یہ برسی، اور بے حساب برسی۔ اگر یہ بے لگام ہو کر بے حساب نہ برستی، اگر یہ مناسب مقدار میں برستی، اپنے حدود میں رہ کر برستی، تو…….تو لوگوں، سرینگر کے لوگوں کو ان مسائل اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔چنانچہ اس نے ایسا نہیں کیا۔ یہ جم کر برس گئی، اس لیے اسی کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ سزا کا تعین بعد میں کیا جائے گا، لیکن اسے تاکید کی جاتی ہے، اسے اس بات کا پابند بنایا جاتا ہے کہ آئندہ جب بھی برسے تو جم کر نہ برسے، بے حساب اور بے لگام ہو کر نہ برسے، بلکہ اپنے حدود میں رہ کر برسے تاکہ لوگوں……. شہر کے لوگوں کو مشکلات اور مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کیونکہ اس بار، چونکہ بارش بے لگام ہو گئی تھی، اس لیے شہر کی سڑکیں، اسپتال، تجارتی مراکز اور کئی اسکول زیرِ آب آ گئے۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کو جن بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اگر اب بھی اس کا احساس بارش کو نہ دلایا گیا تو یہ آئندہ بھی اسی طرح بے لگام ہو کر جم کر برستی رہے گی۔اسے یہ احساس دلانا ہوگا کہ سرینگر کے نکاسِ آب کے بنیادی ڈھانچے کی ایک مقررہ گنجائش ہے، اور اسی گنجائش کے اندر اندر بارش ہوگی تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، لیکن اگر اس گنجائش سے زیادہ بارش ہوئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ عدالت سمارٹ سٹی پروجیکٹ، اس کے منصوبہ سازوں، اس کے ٹھیکہ داروں اور اس کے افسران کے خلاف عائد کیے گئے تمام الزامات اور شکایات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتی ہے اور ان تمام حضرات کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔پیش کیے گئے ثبوتوں اور شہادتوں کی بنیاد پر یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ غلطی صرف بارش کی تھی، جو بے لگام ہو کر برستی رہی، جس کے نتیجے میں پورا شہر سرینگر زیرِ آب آ گیا اور معمول کی زندگی مفلوج ہو گئی۔لہٰذا حکم دیا جاتا ہے کہ ایک حد مقرر کی جائے اور بارش کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اس مقررہ حد سے زیادہ نہ برسے۔ حکم عدولی کی صورت میں بارش کے خلاف سرینگر اور اس کے شہریوں کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے کا مقدمہ چلایا جائے گا… اور ہاں،ریاست سے غداری کا مقدمہ بھی۔ہے نا؟
’’’’’’’’’’’’’



