پیر, جولائی 20, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-19
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

دنیا بھر میں کشمیر کی پہچان اس کے برف پوش پہاڑوں، شفاف جھیلوں، سرسبز چراگاہوں اور دلکش وادیوں سے ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس نے یہاں سیاحت کی صنعت کو فروغ دیا، لاکھوں لوگوں کے گھروں میں روزگار پہنچایا اور ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی کو سہارا دیا۔ مگر افسوس کہ آج ہم خود اپنے ہی ہاتھوں اس قدرتی جنت کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

حال ہی میں بڈگام کے ہائیجن برینوار وادی میں صفائی مہم کے دوران تقریباً ڈیڑھ سو کوئنٹل پلاسٹک اور دیگر کچرا جمع ہونا صرف ایک افسوسناک خبر نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ایسا ثبوت ہے جس پر ہر کشمیری کو شرمندہ ہونا چاہیے۔ یہ کچرا ایک دن یا ایک ہفتے میں جمع نہیں ہوا بلکہ برسوں سے جاری اس غفلت اور لاپروائی کا نتیجہ ہے جس نے ہماری خوبصورت وادیوں کو آہستہ آہستہ کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں کشمیر کے معروف سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ گریز، تلیل، کیرن‘ درنگ اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں بھی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے مقامی آبادی کو نئے معاشی مواقع ضرور حاصل ہوئے ہیں، لیکن دوسری طرف ان علاقوں میں پلاسٹک کی بوتلیں، پولی تھین، کھانے کے خالی پیکٹ اور دیگر غیر تحلیل ہونے والا کچرا بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ قدرتی حسن، جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، ہمیشہ کے لیے ماند پڑ جائے گا۔

متعلقہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

ہم نے حالیہ دنوں میں کئی بار یہ شکایت کی کہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاح اور امرناتھ یاتری سیاحتی مقامات پر کچرا پھیلاتے ہیں، جھیلوں اور آب گاہوں میں نہاتے ہیں، کپڑے دھوتے ہیں اور ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ ہر آنے والے شخص پر لازم ہے کہ وہ میزبان علاقے کی صفائی اور تقدس کا خیال رکھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا اپنا رویہ ان سے مختلف ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ جواب نفی میں ہے۔

اگر ہم دیانت داری سے اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ مقامی آبادی بھی اسی لاپروائی کا شکار ہے۔ پکنک کے بعد کچرا وہیں چھوڑ دینا، پولی تھین کے تھیلے ہر جگہ پھینک دینا، ندی نالوں میں فضلہ بہا دینا، جنگلات میں پلاسٹک کی بوتلیں چھوڑ دینا اور سیاحتی مقامات پر صفائی کا خیال نہ رکھنا ہماری روزمرہ کی عادت بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں صرف باہر سے آنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سے فرار کے مترادف ہے۔

کشمیر کے مستقل اور مقامی باشندے ہونے کے ناطے سب سے زیادہ ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ہماری زمین ہے، ہمارے جنگلات ہیں، ہماری جھیلیں ہیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل بھی اسی ماحول سے وابستہ ہے۔ اگر ہم ہی اپنے گھروں، دیہات، چراگاہوں اور سیاحتی مقامات کو گندگی سے بھر دیں گے تو دوسروں سے صفائی کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ پولی تھین کے استعمال کے نقصانات سے ہر شخص واقف ہے، اس کے باوجود اس کا استعمال کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بازار سے خریداری ہو یا سیاحتی مقام پر کھانے پینے کی اشیا کی فروخت، ہر جگہ پولی تھین کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔ یہی پولی تھین برسوں تک زمین میں باقی رہتی ہے، پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کرتی ہے، جانوروں کی جان لیتی ہے اور ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔

اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داری صرف حکومت پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ بلاشبہ حکومت کو مضبوط ویسٹ مینجمنٹ نظام قائم کرنا چاہیے، جگہ جگہ ڈسٹ بن نصب کرنے چاہییں، کچرے کی باقاعدہ منتقلی کا انتظام ہونا چاہیے اور پولی تھین کے خلاف سخت کارروائی بھی ضروری ہے۔ مگر قانون اور انتظامیہ وہاں تک ہی مؤثر ہو سکتے ہیں جہاں تک عوام ان کا ساتھ دیں۔ اگر ہر روز ہزاروں افراد کچرا پھیلاتے رہیں تو چند سرکاری ملازمین پوری وادی کو صاف نہیں رکھ سکتے۔

اصل ضرورت ذہنوں کی صفائی کی ہے۔ ہمیں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ صفائی صرف بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا اخلاقی، سماجی اور قومی فرض ہے۔ اگر ہر خاندان یہ عہد کر لے کہ وہ پلاسٹک کا استعمال کم کرے گا، کچرا مقررہ جگہ پر ڈالے گا اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے گا تو چند برسوں میں صورتحال نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔

اس ضمن میں مذہبی، تعلیمی اور سماجی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ مساجد، مدارس، اسکولوں اور کالجوں میں ماحولیات کے تحفظ کو ایک سماجی فریضے کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ نوجوانوں کی رضاکار تنظیموں کو صفائی مہمات تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل عوامی بیداری کی مہم چلانی ہوگی تاکہ صفائی ایک وقتی سرگرمی نہیں بلکہ روزمرہ کی عادت بن جائے۔

سیاحت کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ لاکھوں افراد ہوٹلوں، ہاؤس بوٹس، ٹیکسیوں، شکاروں، ہوم اسٹیز، دستکاری، باغبانی، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروبار کے ذریعے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ اگر قدرتی حسن متاثر ہوگا تو سب سے پہلے یہی معیشت متاثر ہوگی۔ جب جھیلیں آلودہ ہوں گی، جنگلات کچرے سے بھر جائیں گے اور وادیاں اپنی دلکشی کھو دیں گی تو سیاحوں کی تعداد بھی کم ہوگی اور اس کا براہِ راست اثر ہزاروں خاندانوں کی آمدنی پر پڑے گا۔

بڈگام کے ہائیجن برینوار‘گریز یادوسرے سیاحتی مقامات سے بڑی مقدار میں کچرے کی موجودگی ایک لمحۂ فکریہ ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنا احتساب کریں۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ کشمیر ہمیشہ ’زمین کا جنت نظیر خطہ‘کہلائے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی انہی صاف شفاف ندیوں، سرسبز پہاڑوں اور خوبصورت وادیوں سے لطف اندوز ہوں، اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ سیاحت ہماری معیشت کو مسلسل سہارا دیتی رہے، تو ہمیں آج ہی اپنی عادات بدلنی ہوں گی۔

کشمیر کو بچانے کی ذمہ داری کسی ایک ادارے یا حکومت کی نہیں بلکہ ہر کشمیری کی ہے۔ پولی تھین سے اجتناب، کچرے کی درست تلفی، سیاحتی مقامات کی صفائی اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو اپنانا محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ہماری بقا کی شرط ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ شاید یہی لکھے گی کہ کشمیر کو کسی دشمن نے نہیں، بلکہ اس کے اپنے لوگوں نے اپنی غفلت، بے حسی اور لاپروائی سے تباہ کیا۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا کرنے اور جسے بدلنے کی ذمہ داری آج ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’تیل بحران کے باوجود بھارت کی ترقی نہیں رکی ‘

Next Post

سرما نہیں گرما میں اسکول بند رکھئے!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

سرما نہیں گرما میں اسکول بند رکھئے!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.