ٹریفک بحران کا مؤثر حل، مگر ماحولیات کا تحفظ اولین شرط
سرینگر ایک ایسا شہر ہے جس کی شناخت صرف اپنی قدرتی خوبصورتی، ڈل جھیل اور تاریخی عمارتوں سے ہی نہیں بلکہ دریائے جہلم سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ صدیوں تک یہی دریا کشمیر کی معیشت، تجارت، سفری نظام اور تہذیبی زندگی کی شہ رگ رہا۔ لوگ، سامان، لکڑی اور زرعی پیداوار سب اسی آبی راستے سے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ سڑکوں کی تعمیر، موٹر گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور جدید ذرائع آمدورفت نے اس تاریخی آبی نظام کو تقریباً فراموش کر دیا۔ اب جبکہ جموں و کشمیر حکومت اور ان لینڈ واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا مشترکہ طور پر جہلم میں ریور کروز اور آبی ٹرانسپورٹ سروس شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تو اسے سرینگر کے بڑھتے ہوئے ٹریفک بحران کے ممکنہ حل کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کی سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ اس سے پہلے ہی آلودگی کا شکار دریائے جہلم اور دیگر آبی ذخائر مزید ماحولیاتی نقصان سے محفوظ رہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران سرینگر میں گاڑیوں کی تعداد غیر معمولی رفتار سے بڑھی ہے۔ آبادی میں اضافے، شہری توسیع، معاشی سرگرمیوں اور سیاحت کے فروغ نے سڑکوں پر دباؤ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں شہر کے تقریباً تمام اہم راستے شدید ٹریفک جام کا شکار رہتے ہیں۔ قمرواری، پارمپورہ، بمنہ، ایم اے روڈ، بٹہ مالو، بائی پاس، پنتھا چوک اور نارہ بل جیسے مقامات پر روزانہ ہزاروں افراد گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ ایندھن کی کھپت، فضائی آلودگی، ذہنی دباؤ اور معاشی نقصان میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عام طور پر جب ٹریفک کے مسئلے پر بحث ہوتی ہے تو نئی سڑکوں، فلائی اوورز اور روڈ وائیڈننگ کا مطالبہ سامنے آتا ہے۔ اگرچہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری ضروری ہے، لیکن دنیا بھر کا تجربہ بتاتا ہے کہ صرف سڑکیں چوڑی کرنے سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوتا۔ نئی سڑکیں کچھ عرصے بعد دوبارہ گاڑیوں سے بھر جاتی ہیں۔ سرینگر میں بھی یہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جہاں گاڑیوں کی تعداد سڑکوں کی گنجائش سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ایسے حالات میں آبی ٹرانسپورٹ ایک قابل عمل اور دیرپا متبادل کے طور پر سامنے آ سکتی ہے۔ اگر جہلم پر باقاعدہ واٹر بسیں، فیری سروس یا جدید کروز ٹرانسپورٹ شروع کی جاتی ہے تو روزانہ ہزاروں افراد کو سڑکوں کے بجائے آبی راستے استعمال کرنے کی سہولت مل سکتی ہے۔ زیرو برج سے پنتھا چوک تک مجوزہ روٹ مستقبل میں شہر کے دوسرے علاقوں تک بھی توسیع پا سکتا ہے۔ اگر اس منصوبے کو منظم انداز میں نافذ کیا جائے تو نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ شہریوں کو سفر کا ایک تیز، آرام دہ، محفوظ اور ماحول دوست ذریعہ بھی دستیاب ہوگا۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم خوبی یہ ہے کہ یہ کشمیر کے تاریخی تشخص کو بھی زندہ کرے گا۔ جہلم صرف ایک دریا نہیں بلکہ سرینگر کی تہذیب، معیشت اور تاریخ کا امین ہے۔ آبی ٹرانسپورٹ کی بحالی دراصل اس تاریخی ورثے کو جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہوگی۔ سیاحوں کے لیے بھی یہ ایک منفرد تجربہ ہوگا کہ وہ شہر کے قدیم پلوں، گھاٹوں اور تاریخی عمارتوں کا نظارہ پانی کے راستے سے کریں۔
لیکن اس منصوبے کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ایک نہایت اہم سوال بھی جڑا ہوا ہے، اور وہ ہے ماحولیات کا تحفظ۔ حقیقت یہ ہے کہ دریائے جہلم اس وقت شدید آلودگی کا شکار ہے۔ برسوں سے گھریلو سیوریج، غیر علاج شدہ فضلہ، پلاسٹک، تعمیراتی ملبہ اور مختلف قسم کا کچرا دریا میں شامل ہوتا رہا ہے۔ کئی مقامات پر دریا کی گہرائی کم ہو چکی ہے، پانی کا بہاؤ متاثر ہوا ہے اور آبی حیات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اگر ایسے حالات میں بغیر مناسب ماحولیاتی منصوبہ بندی کے موٹرائزڈ کروز یا دیگر آبی گاڑیاں چلائی گئیں تو آلودگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس لیے حکومت کو اس منصوبے کے آغاز سے پہلے ایک جامع ماحولیاتی اثراتی جائزہ ضرور کرانا چاہیے۔ ہر کشتی یا کروز کے لیے سخت ماحولیاتی معیارات مقرر کیے جائیں۔ روایتی ڈیزل انجنوں کے بجائے الیکٹرک، ہائبرڈ یا کم اخراج والے انجن استعمال کیے جائیں تاکہ پانی اور فضاء دونوں آلودگی سے محفوظ رہیں۔ کشتیوں سے کسی بھی قسم کا تیل، فضلہ یا سیوریج دریا میں خارج کرنے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔
اسی کے ساتھ جہلم کی صفائی کو بھی اس منصوبے کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اگر دریا پہلے ہی آلودہ ہو تو صرف کروز سروس شروع کرنے سے اس کی خوبصورتی یا افادیت بحال نہیں ہوگی۔ حکومت کو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی استعداد بڑھانی ہوگی، غیر قانونی نالوں کو دریا میں گرنے سے روکنا ہوگا، کناروں سے تجاوزات ہٹانی ہوں گی اور مسلسل ڈریجنگ کے ذریعے پانی کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھنا ہوگا۔
جہلم کے ساتھ ساتھ ڈل جھیل، نگین جھیل اور دیگر آبی ذخائر بھی کشمیر کی ماحولیاتی شناخت کا حصہ ہیں۔ اگر آبی ٹرانسپورٹ کو مستقبل میں ان علاقوں تک وسعت دی جاتی ہے تو وہاں بھی ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً یورپ کے شہروں نے واٹر ٹرانسپورٹ کو کامیابی سے فروغ دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ سخت ماحولیاتی قوانین بھی نافذ کیے ہیں۔ کشمیر میں بھی یہی ماڈل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب سرینگر کے ٹریفک بحران کی ایک بڑی وجہ صرف گاڑیوں کی تعداد نہیں بلکہ ٹریفک نظم و ضبط کی کمی بھی ہے۔ غیر قانونی پارکنگ، غلط سمت سے گاڑی چلانا، سڑک کے درمیان سواری اتارنا، لین ڈسپلن کی خلاف ورزی اور تجاوزات روزانہ سینکڑوں ٹریفک جام پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے آبی ٹرانسپورٹ کے آغاز کے باوجود اگر ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہوگا تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔
سرینگر کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ایک جدید، ماحول دوست اور پائیدار شہر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ آبی ٹرانسپورٹ یقیناً شہر کے ٹریفک بحران کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اگر اس کی قیمت جہلم کی مزید آلودگی کی صورت میں ادا کرنی پڑے تو یہ ترقی پائیدار نہیں کہلائے گی۔
اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے کو صرف ایک ٹرانسپورٹ یا سیاحتی اسکیم کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے جہلم کی بحالی، شہری منصوبہ بندی، ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے ایک جامع وژن کا حصہ بنائے۔ اگر جہلم کو صاف، محفوظ اور زندہ رکھتے ہوئے آبی ٹرانسپورٹ شروع کی جاتی ہے تو یہ نہ صرف سرینگر کے ٹریفک بحران میں نمایاں کمی لا سکتی ہے بلکہ کشمیر کو ایک بار پھر اپنے تاریخی آبی ورثے سے بھی جوڑ سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ترقی اور ماحولیات دونوں کے مفاد میں ہوگا۔



