لگتا ہے کہ اب کے کشمیر میں گرمیاں کچھ زیادہ ہی پڑ رہی ہیں ۔اسی لئے اس گرما گرم موسم میں اپنے کچھ سیاستدان بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں ……. اور اس لئے کررہے ہیں کہ گرمیوں نے ان کا حال بے حال کردیا ہے …….اس لئے انہیںاس بات کا خیال نہیں رہ رہا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیا نہیں ……. نہیں کیا کہنا چاہئے اور کیا نہیں ۔ہمیں گمان تھا کہ آغا صاحب……. آغا روح اللہ صاحب بڑے ٹھنڈے مزاج کے ہیں اور ان پر اس گرما گرم موسم کا بالکل بھی اثر نہیں ہو گا ……. لیکن ہم غلط تھے کہ سب سے زیادہ اثر تو ان جناب پر ہی پڑ گیا ہے ‘ جو تعزیت کے موقع پر بھی سیاست سے باز نہیں آ رہے ہیں ……. ان جناب کا کہنا ہے ‘ گرچہ یہ بہت کچھ کہتے رہتے ہیں ‘ لیکن اب ان جناب کاکہنا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ اپنی جماعت کے بنیادے ایجنڈے پر واپس لوٹ آتے ہیں ……. یعنی اگر وزیر اعلیٰ ۳۷۰کی بحالی کا اسی طرح مطالبہ کریں گے جس طرح یہ جناب ریاستی درجے کی بحالی کا کررہے ہیں تو وہ (آغا صاحب )فوراً لوک سبھا کی سیٹ خالی کر دیں گے ‘ مستعفی ہو جائیں گے ……. اللہ میاں خیر کرے یہ کیسی منطق ہے‘ یہ کیسی بہکی بات ہے ۔ صاحب اگر وزیر اعلیٰ ایسا کرتے ہیں تو ……. تو اس صورت میں ان جناب کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو جائےگا ‘ ان کی تمام شکایات دور ہو جائیں گی اور جب مطالبات اور شکایات دور ہو جائیں گی تو پھر استعفیٰ دینا کاکیا مطلب ہے ……. سوائے اس ایک بات کے کہ ……. کہ آغا صاحب پر سچ میں گرمی نے کچھ زیادہ ہی اثر کیا ہے ۔لیکن ایک اکیلے آغا صاحب ایسے نہیں ہیں ‘ بالکل بھی نہیں ہیں ……. اپنی میڈم ……. میڈم محبوبہ جی نہیں بلکہ درخشاں اندرابی صاحبہ بھی گرما گرم موسم کی مار سہ رہی ہیں اوروار کررہی ہیں …….محترمہ بھی عمرعبداللہ پر ہی وار کررہی ہیں یہ کہہ کر کررہی ہیں کہ دہلی جانے سے ‘ جنتر منتر پر بیٹھنے سے ‘ احتجاج کرنے سے ریاستی درجہ بحال نہیں ہو گا اور ……. بالکل بھی نہیں ہو گا ۔ میڈم جی ہم بھی آپ سے اتفاق نہیں بلکہ سو فیصد اتفا ق کرتے ہیں کہ جنتر منتر پر بیٹھنے سے ریاستی درجہ بحال نہیں ہو گا …….اگر کچھ ہو گا تو یہ ہو گا کہ بہت سے لوگوں کو مرچیں لگیں گی اور جن کو مرچیں لگ رہی ہیں وہی ایسی باتیں ……. بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں …….اور کریں گے کیوں نہیں کہ کم بخت گرما گرم موسم نے ان کا سچ میں حال بے حال کردیا ہے ۔ ہے نا؟



