جمعرات, ستمبر 3, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

آزادیٔ صحافت غیر ذمہ دارانہ صحافت کی ڈھال نہیں بن سکتی: دہلی ہائی کورٹ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-18
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
آزادیٔ صحافت غیر ذمہ دارانہ صحافت کی ڈھال نہیں بن سکتی: دہلی ہائی کورٹ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

سوشل میڈیا پر غیر تربیت یافتہ ’رپورٹرز‘ کی بڑھتی تعداد پر عدالت کا اظہارِ تشویش؛ پارلیمنٹ سے صحافتی آزادی اور جوابدہی میں توازن قائم کرنے کے لیے ضابطہ سازی پر غور کرنے کی اپیل

(ویب ڈیسک)

متعلقہ

انتظامیہ میں پھیر بدل ۱۳۶؍افسران تبدیل

دہشت گرد نیٹ ورکس پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے پر زور

سرینگر؍۱۷جولائی

دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ آزادیٔ صحافت کو غیر ذمہ دارانہ صحافت یا ایسے مواد کی اشاعت کے لیے ڈھال نہیں بنایا جا سکتا جو عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ بنے۔

عدالت نے مقننہ پر زور دیا کہ وہ ایسا مؤثر ضابطۂ کار وضع کرے جو ایک طرف صحافت کی آزادی کو برقرار رکھے اور دوسری جانب پیشہ ورانہ جوابدہی، اخلاقی معیار، قانون کی حکمرانی، شہریوں کے حقوق اور وسیع تر عوامی مفاد کو بھی یقینی بنائے۔

جسٹس گریش کتھپالیہ نے حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث میڈیا کے ایک بڑے حصے کے غیر منظم اور غیر ضابطہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ عوامی رائے کو متاثر کرنے کی اس کی طاقت کے ساتھ تحمل، غیر جانبداری اور ذمہ داری کی لازمی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔

عدالت نے کہا کہ اب یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے کہ ’’خود ساختہ رپورٹرز‘‘ شہریوں کے سامنے جارحانہ انداز میں مائیک لے جا کر فوری ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں، اور اگر کوئی شخص خاموش رہنے کو ترجیح دے تو اسے ’’سوالات سے فرار‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے، جس سے عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوتا ہے اور بلا جواز عوامی دباؤ جنم لیتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگرچہ آزادیٔ صحافت ایک جمہوری معاشرے کا ناگزیر ستون ہے، تاہم ’’منتخب رپورٹنگ، سنسنی خیزی یا غیر مصدقہ الزامات‘‘ کے ذریعے معاشرے کے کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے یا بدنام کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان بھی انتہائی تشویشناک ہے۔

عدالت کے مطابق اس قسم کا طرزِ عمل نہ صرف سماجی تقسیم کو گہرا کر سکتا ہے بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جسٹس کتھپالیہ نے۱۶ جولائی کو سنائے گئے فیصلے میں کہا، ’’آج موبائل فون اور مائیکروفون رکھنے والا تقریباً ہر شخص خود کو ’رپورٹر‘ قرار دے سکتا ہے، حالانکہ اکثر ایسے افراد کے پاس نہ صحافتی تربیت ہوتی ہے، نہ اخلاقی بنیادیں اور نہ ہی کسی قسم کی جوابدہی۔‘‘

عدالت نے مزید کہا، ’’بلاشبہ آزادیٔ صحافت کا ہر قیمت پر تحفظ ہونا چاہیے، لیکن اسے غیر ذمہ دارانہ صحافت، دھونس یا ایسے مواد کی تشہیر کے لیے ڈھال نہیں بننے دیا جا سکتا جو عوامی نظم و نسق کو نقصان پہنچائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مقننہ ایسا مناسب ضابطۂ کار وضع کرنے پر غور کرے جو صحافت کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ جوابدہی، اخلاقی معیارات، قانون کی حکمرانی، شہریوں کے حقوق اور وسیع تر عوامی مفاد کو بھی یقینی بنائے۔‘‘

ہائی کورٹ دو ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کر رہا تھا، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جولائی۲۰۲۵ میں سیما پوری کی ایک غیر مجاز کالونی میں یوٹیوب چینل کے لیے رپورٹنگ کرنے والے دو فری لانس صحافیوں پر حملہ کیا تھا۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شکایت کنندہ اور اس کا ساتھی علاقے میں مبینہ طور پر بغیر اجازت تعمیر کی گئی ایک عبادت گاہ کے بارے میں ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے، جس پر مقامی لوگ مشتعل ہو گئے تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ واقعہ بظاہر ’’ہجوم کے شدید غصے‘‘ کا نتیجہ تھا اور موجودہ ملزمان کا کردار ابھی واضح نہیں ہے، اس لیے انہیں مزید آزادی سے محروم رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی۔

عدالت نے حکم دیا، ’’لہٰذا دونوں ضمانت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں اور دونوں ملزمان کو دس ہزار روپے کے شخصی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ایک ایک ضامن جمع کرانے کی شرط پر ضمانت پر رہا کیا جائے۔‘‘

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

Next Post

 ریاستی درجے کی بحالی‘۲۰جولائی کےاحتجاج میں کانگریس شامل ہوگی:قرہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

انتظامیہ میں پھیر بدل ۱۳۶؍افسران تبدیل
اہم ترین

انتظامیہ میں پھیر بدل ۱۳۶؍افسران تبدیل

2026-09-02
’جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا دور ختم ہو چکا ہے ‘
اہم ترین

دہشت گرد نیٹ ورکس پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے پر زور

2026-09-02
’عوام نے سیاسی استحکام اور مستحکم حکومت کی اہمیت کو سمجھا ‘
اہم ترین

شہباز شریف بھی موجودگی میں وزیر اعظم مودی کا دہشت گردی پر سخت موقف

2026-09-02
جموں و کشمیر میں ہائر سیکنڈری تعلیم بحران کا شکار، شرحِ داخلہ ملک میں کم ترین سطحوں میں شامل
اہم ترین

جموں و کشمیر میں ہائر سیکنڈری تعلیم بحران کا شکار، شرحِ داخلہ ملک میں کم ترین سطحوں میں شامل

2026-09-02
این سی کو ہل کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے فیصلے کیخلاف دائر ایپل مسترد
اہم ترین

 این سی کا جموں، سری نگر میں بی جے پی دفاتر کے گھیراؤ کا اعلان

2026-09-02
پانچ کشمیری گلیشیائی جھیلیں انتہائی زیادہ سیلابی خطرے کی حامل قرار
اہم ترین

جموں و کشمیر کے گلیشیئرز بھی خطرے کی زد میں‘ ۲۷ گلیشیائی جھیلوں کوخطرہ

2026-09-02
اہم ترین

ایس ایس بی کی۲۸۶۳؍اسامیوں  کیلئے آن لائن درخواستیں طلب

2026-09-02
بگلیہار، اپر سندھ اور پرنائی منصوبوں میں جدید ارلی وارننگ سسٹم، خطرناک گلیشیائی جھیلوں اور لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں کی بھی نگرانی
اہم ترین

بگلیہار، اپر سندھ اور پرنائی منصوبوں میں جدید ارلی وارننگ سسٹم، خطرناک گلیشیائی جھیلوں اور لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں کی بھی نگرانی

2026-09-02
Next Post
 ریاستی درجے کی بحالی‘۲۰جولائی کےاحتجاج میں کانگریس شامل ہوگی:قرہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘۲۰جولائی کےاحتجاج میں کانگریس شامل ہوگی:قرہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.