تو صاحب میڈم جی …….میڈم محبوبہ مفتی جی کو ملال ہے۔او آئی سی کا ملال ہے کہ او آئی سی نے ایران پر جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں پر خاموشی اختیار کی ہے ۔ میڈم جی کا جاننا اور ماننا ہے کہ او آئی سی کی خاموشی اصل میں ان حملوں کی خاموش تائید ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ……. تو او آئی سی خاموش نہیں رہتی……. بالکل بھی نہیں رہتی ہے ۔ صاحب ہمیں تو میڈم جی کی باتوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے لیکن……. لیکن اختلاف ضرورہے اور اس لئے ہےاور اس لئے ہے کہ پہلی بار او آئی سی نے وہ کیا جو اسے کرنا چاہئے …….یعنی خاموش رہنا چاہئے ۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ او آئی سی کو بالآخر اپنی اوقات معلوم ہو ئی ہے اور سو فیصد ہو ئی ہے اور……. اور وہ اب اپنی اس اوقات سے باہر نہیں آنا چاہتی ہے اور اس لئے نہیں آنا چاہتی ہے کہ ماضی میں جب بھی اس نے اپنی اوقات سے باہر آنے کی حماقت کی تو ……. تو اللہ میاں کی قسم اسے منہ کی کھانی پڑی اور سو فیصد کھانی پڑی ۔ کشمیر اور کشمیری اس کے سب سے بڑے گواہ ہیں کہ کشمیریوں نے دیکھا دو تین دہائیوں تک دیکھا کہ کیسے او آئی سی اپنی اوقات میں نہ رہ کر کشمیر پر ہمسایہ ملک کی شہ پر بے ہنگم بیانات دیتی رہی اور……. اور یہی بیانات اس کیلئے باعث خجالت اور رسوائی بن جاتے تھے …….دہلی سے جو پھٹکار ملتی تھی وہ الگ سے ۔اب کی بار بات کشمیر نہیں بلکہ ایران کی ہے …….ایران کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل اور ……. اور کچھ مغربی ممالک کی ہے …….مختصر اب کی بار بات بڑی ہے اوراو آئی سی اپنے چھوٹے سے منہ سے کوئی بڑی بات کہنے کی حماقت نہیں کر سکتی ہے کہ ……. کہ اگر اس نے ایساکیا بھی ‘ایسی حماقت کی بھی تو……. تو ایران میں جنگ بند ہونے سے رہی ‘ لیکن خواہ مخواہ اسے بہت کچھ سننا پڑے گا ……. امریکہ اور اسرائیل سے سننا پڑے گا ۔میڈم جی ! آپ بخوبی واقف ہوں گی ‘ اس ایک بات سے واقف ہو ں گی کہ ……. کہ خاموشی میں ہی بھلائی ہے اور فلاح بھی اور او آئی سی بالکل ایسا ہی کررہی ہے…….خاموش رہ کر اپنی عزت …….بچی کھچی عزت بچا رہی ہے اور……. اور کچھ نہیں ۔ بالکل بھی نہیں ۔ ہے نا؟




